لکھاری لکھاری » میرے مطابق » کیا عذاب قبر پہلے اور بعد میں مرنے والوں کیلئے برابرہوگا؟

ad




ad




اشتہار




لکھاری میرے مطابق

کیا عذاب قبر پہلے اور بعد میں مرنے والوں کیلئے برابرہوگا؟


سوال :
عظیم بھائی اگر اللہ پاک کا کوئی سرکش و نافرمان آج سے ہزاروں سال پہلے مرگیا تھا اور ٹھیک اتنا ہی سرکش و نافرمان آج مرجاتا ہے تو عقل کہتی ہے کہ پہلے سرکش کو روز قیامت آنے سے پہلے ہزاروں سال کی سزا عذاب قبر کی صورت مل چکی ہوگی. جب کے دوسرا سرکش پہلے کے مقابل بہت فائدے میں رہا کہ اس کی موت قرب قیامت کے دنوں میں ہوئی. اسے کیسے سمجھا جائے؟
.
جواب:
سب سے پہلے تو یہ جان لیجیئے کہ عذاب قبر ان امور غیب میں سے ہے جن کا کَماحَقُّہ جان لینا ہمارے بس میں نہیں ہے. البتہ قران و حدیث میں موجود اشاروں سے ہم اس کے ضمن میں کچھ اندازے ضرور قائم کرلیتے ہیں. جن کے بارے میں اہل علم علمی اختلاف بھی کرتے ہیں. کس کو عذاب ہوگا؟ کیسے عذاب ہوا؟ روح پر ہوگا یا جسم پر ہوگا؟ قبر میں ہوگا یا برزخ میں ہوگا؟ یہ تمام سوالات بہت تفصیل کے متقاضی ہیں. لہٰذا راقم اختصار کیلئے خود کو خاص آپ کے سوال تک ہی محدود رکھنے کی سعی کرے گا.
.
قران مجید میں کئی مقامات پر غور کرکے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دیگر مخلوقات کی طرح ‘وقت’ بھی اللہ ہی کی ایک مخلوق ہے جسے وہ اپنے تصرف سے بدل سکتے ہیں اور بدلتے ہیں. چنانچہ سورہ البقرہ میں اللہ عزوجل نے اپنے ایک بندے کا واقعہ بیان کیا ہے جو کئی محققین کے نزدیک حضرت عزیر ع تھے. انہوں نے ایک بستی کے بوسیدہ کھنڈرات کو دیکھ کر اللہ پاک سے عرض کی کہ وہ کیسے ان مرے ہوئے افراد اور بستی میں دوبارہ زندگی ڈالے گا ؟ تو اللہ پاک نے سو سال کیلئے ان کی روح قبض کرلی. سو سال بعد جب وہ جاگے تو رب کریم نے پوچھا کہ کتنا عرصہ تمہارے خیال میں تم مردہ رہے یا سوتے رہے؟

ان کا جواب تھا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم. غور کیجیئے کہ سو سال مردہ رہنے کے بعد زندہ کئے جانے پر انہیں لگا کہ وہ کچھ گھنٹے ہی کو رخصت رہے ہیں. ان کے اس جواب پر اللہ پاک نے انہیں بتایا کہ تم سو سال مردہ رہے ہو لیکن دیکھو تمہارا کھانا جو تمھارے ساتھ تھا وہ ابھی بھی ویسا ہی تازہ ہے. جب کہ اپنی سواری کو دیکھو تو تمہارا گدھا سو سال سے مرا ہوا ہے اور اس کی بوسیدہ ہڈیاں زمین پر بکھری ہوئی ہیں. پھر اللہ پاک نے ان کے سامنے ان کے اسی گدھے کو ان ہی ہڈیوں کیساتھ دوبارہ تخلیق کر کے دکھایا . اسی طرح اصحاب کہف کے واقعے سے لے کر دیگر کئی واقعات میں قران مجید اسی حقیقت کو باور کرواتا ہے کہ قادر المطلق اسی دنیا میں ایک مخلوق یا شخحص پر وقت کو دراز کر دیتے ہیں اور دوسرے کیلئے نہایت مختصر.
.
اس ساری تمہید کو بیان کرنے کا مقصد فقط اتنا ہے کہ آپ جان لیں کہ آپ کا رب اس پر پوری طرح قادر ہے کہ وہ ہزاروں سال پہلے مرنے والے سرکش و نافرمان کو اور آج مرنے والے سرکش و نافرمان کو ٹھیک ایک جیسا عذاب دے سکے. مگر یہ صرف ایک زاویہ ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ جس کو عذاب قبر زیادہ ہوا اس کے عذاب جہنم میں کوئی تخفیف کردی جائے. یا پھر ایک مقررہ میعاد کے بعد کسی ایک کیلئے عذاب قبر کو ساقط کردیں اور دوسرے پر جاری رہنے دیں. فی الواقع کیا ہوگا؟ اس کے بارے میں کوئی حتمی دعویٰ کرنا عبث ہے. جیسا بیان کا کہ یہ امور الغیب ہیں بلکہ کئی حوالوں سے امور المتشبھات ہیں جن کی مستقل کھوج کرنا درست نہیں. مومن کا یقین تو اس بات پر ہے کہ اس کا رب ظالم نہیں ہے اور ممکن ہی نہیں کہ وہ کچھ خلاف انصاف کرے. واللہ اعلم بلصواب.


About the author

عظیم الرحمٰن عثمانی

میرا نام عظیم الرحمٰن ہے. میں نہ تو عالم ہوں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ میرا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ 'طالب علم' . میں ایک معمولی طالبعلم ہوں کتاب الله قران کا اور دین الله اسلام کا
-----

یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ مسلم نوجوان نسل میں مقبول اسکالروں کی اکثریت آج روایتی مدرسوں کے فارغ التحصیل نہیں ہیں. ڈاکٹر اسرار احمد سے لیکر جاوید احمد غامدی تک، ڈاکٹر ذاکر نائیک سے لے کر شیخ احمد دیدات تک، مولانا مودودی سے لیکر پرفیسر احمد رفیق تک، یاسر قاضی سے لیکر نعمان علی خان تک. یہ سب اور بہت سے مزید مقبول اشخاص جو مسلم نسل کی ذہن سازی کر رہے ہیں وہ سب جدید علوم پر دسترس رکھتے ہیں---
روایتی علماء کا بدقسمتی سے یہ حال ہے کہ انہیں بخاری شریف تو زبانی یاد ہوگی، مثنوی کے دقیق نقطے تو وہ با آسانی بیان کر سکتے ہونگے مگر جدید اذہان میں پیدا ہونے والے سوالات سے وہ ربط پیدا نہیں کرسکتے. وہ نہیں جانتے کہ چارلس ڈارون ، کارل مارکس ، رچرڈ ڈاکن کون ہیں ؟ نظریہ ارتقاء کیا بلا ہے ، تھیوری آف ریلٹوٹی کس چڑیا کا نام ہے ؟ لہٰذا انکا ہتھیار یہی ہوتا ہے کہ ایسے کفریہ سوال نہ پوچھو، اسلام سے باہر ہو جاؤ گے. نتیجہ الحاد اور شکوک کی صورت میں برآمد ہوا
یہی وجہ ہے کہ مجھ جیسا احقر طالبعلم اپنی تمام تر ناقص العلمی کے اعتراف کے باوجود یہ کاوش کرنے پر مجبور ہے کہ ان جدید فلسفیانہ شکوک کے جوابات دے، دین کی گم گشتہ حکمت کو کھوجنے کی کوشش کرے اور پھر اہل علم کو اپنی اس کوشش پر علمی تنقید و اصلاح کی دعوت دے.

Add Comment

Click here to post a comment