لکھاری لکھاری » اسلام » روضہِ رسول ﷺ ۔ رحمتوں کا مرکز—اسامہ بن نسیم کیانی

ad




ad




اشتہار




اسلام سیرت نبویﷺ

روضہِ رسول ﷺ ۔ رحمتوں کا مرکز—اسامہ بن نسیم کیانی


15390666_664082073766015_5483067693836770836_n
اپنا دردِ دل بیان کرنے جارہا ہوں ، شاید کوئی گستاخ کہہ دے ، کوئی وہابیت کا طعنہ دے دے، کوئی تلوار لے کر میرے پیچھے لگ پڑے یا کوئی دل میں ہی ”گالیاں ” دے کر اپنے آپ کو ”ایمان ”کے کمزورترین درجے پر فائز کرے ۔ میں سیدھا سادہ نام کا مسلمان ہوں ، مجھے جہنم میں لے جانے کے لیے میرے گناہ بے شمار ہیں ، لیکن مجھے جہنم سے اُٹھا کر جنت میں لے جانے کے لیے سید الانبیاء ﷺ کی رحمت کی ایک بوند ہی کافی ہے ۔ میں اُسی بوند کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں ۔ میری زندگی میں مذہبی حوالے سے تین ایسے لمحات آئے جنہوں نے مجھے بے انتہاء مایوس کیا ، اگر کوئی پختہ ایمان والا وہ منظر دیکھ لیتا تو شاید اُس کا کلیجہ منہ کو آجاتا۔ اتفاق سے اُن تینوں لمحات کی بنیاد بھی ایک تھی ۔ میں چوتھا سال ہے گھر سے دُور رہ کر پڑھ رہا ہوں ، اس دوران تین مرتبہ سرکارِ مدینہ ﷺ کی ولادت کا مہینہ آیا ، اور میں نے دیکھا لوگ روضہِ رسول ﷺ کی شبیع/ ماڈل بنا کر گلیوں میں گھمائے جارہے ہیں ، اور چند دن گزرنے کے بعد وہی روضہِ رسول ﷺ کا ماڈل ہماری غفلت کی نشاندہی کرتا ہوا نظر آرہا تھا ۔ میں نے ایک ماڈل دیکھا جسے سڑک کنارے نالے میں پھینکا گیا تھا، ایک ماڈل دیکھا جسے شہر کے ایک بڑے جیولر نے اپنی دکان کی چھت پر پھینکا ہوا تھا جہاں پرندے بیٹھتے اور اُسی پر اپنی بِیٹھ بھی چھوڑتے ۔ اور تیسرا ماڈل جو مجھے ایک گھر کے صحن میں تھا جس کے ساتھ بچے جھولے جھول رہے تھے ۔ آج خبروں میں ، میں نے دیکھا ایک ریڑھی پر روضہِ رسول ﷺ کا ماڈل بنایا گیا ہے اور ایک اُونٹ اُسے گھسیٹ کر لے جارہا ہے ۔ الہیٰ ہمیں کیا ہوگیا؟ کہیں عقیدت میں آکر ہم اندھے تو نہیں ہوگئے؟ کہیں ہمارے ایمانوں کو زنگ تو نہیں لگ گیا؟ اتنی ناقدری اپنے نبی پاک ﷺ کی ۔ چند لمحوں کی لذت کی خاطر اُس عظیم مقام کا مذاق بنانا ۔ یاد رہے روضہِ رسول ﷺ کسی سبز گنبد کا نام نہیں ، یہ مقام جنت سے بڑھ کر ہے ، یہاں سید الانبیاء ﷺ ہیں ، یہ اُن کا گھر ہے جن کے سامنے فرشتوں کا سردار بھی ہاتھ باندھے کھڑا رہتا ہے ، یہ تو رحمتوں کا ”مرکزی دفتر” ہے ۔ یہاں خدا کا خاص کرم نازل ہوتا ہے ، یہاں اُمتیوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں ۔ اِس کا احترام کیجئے ، چند دنوں کی عقیدت کی خاطر اسکے ماڈل بنا بنا کر اِس کی بے ادبی کرنے سے گریزکیجئے ۔
مولانا حُسین احمد مدنیؒ روضہِ رسول ﷺ کا بے حد ادب کرتے ، قبرِ مبارک پر حاضری کا موقع ملتا تو بڑے ہی ادب سے قبر کی صفائی کرتے ، مسجدِ نبویﷺ کے صحن میں بیٹھ کر پندرہ سال درسِ حدیث دیتے رہے، اس دوران کبھی بھی اپنا پاؤں روضہِ پاک کی طرف نہیں جانے دیا ، اور اگر کبھی پاؤں چلا بھی جاتا تو فورا” دوسری سمت موڑ کر استغفار کرتے ۔ اِسی ادب پر اُنھیں نگاہِ مصطفیٰ ﷺ کا نشانہ آپ پہ ٹھہرا اور آپ کو دنیا کے ہر میدان میں کمالات حاصل ہوئے ۔
آپ ﷺ کا روضہِ پاک رحمتوں کا مرکزی دفتر ہے ، رحمتوں کے حصول کے لیے ادب سب سے بڑھ کر ہے ، باادب رہیے مُراد پائیں گے ۔ ماڈل بنا کر بعد میں اُنھیں سنبھال کر رکھنے کے جھنجھٹ سے بہتر ہے ، مدینے جانے کی آرزو پیدا کریں ، اللہ پاک زیارت کروائیں گے ۔
اگر مدینے جانا ہے تو پڑھتے رہ درود
بہت ہی ”کوِک ” اس کا ”ایکشن ”ہوتا ہے