لکھاری لکھاری » لکھاری » عرب کا شہزادہ اور قندھار کا ملا؛ دو مزاحمتی استعارے -انس انیس

ad




ad




اشتہار




لکھاری میرے مطابق

عرب کا شہزادہ اور قندھار کا ملا؛ دو مزاحمتی استعارے -انس انیس

  • 1
    Share

انس انیسہر دور و ہر زمانے میں خدائے لم یزل نے وقت کے فرعونوں کی ٹیڑھی گردن کو سیدھا کرنے لیے کسی نہ کسی موسی کا ضرور انتخاب کیا.
جن کی دہلیز پر بڑے بڑے عالمی؛ سامراجی؛ استعماری غنڈوں کی ناک خاک آلود ہوئی.

جن کے توکل علی اللہ کے سامنے بہت سے سفید وسرخ ریچھ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئے.
یہ مزاحمت کے استعارے ہر زمان و مکان سے پاک اور سود وزیاں سے بے نیاز ہوتے ہیں. یہ کوئی افسانوں کردار نہیں ہوتے جو خیالی پلاؤ پلا کر تصوراتی دنیا میں کہیں فنا ہو جائیں.

یہ تو وہ ازل تا ابد روشن چراغ ہوتے ہیں جن کے کردار کی روشنی سے ہر آنے والا مزاحمتی چہرہ اپنا لائحہ عمل متعین کرتا ہے . آنے والا مؤرخ جب بھی ایسے لوگوں کی نقوش زندگی پر قلم اٹھائے گا تو مارے حیرت اس کی پیشانی پسینے سے ضرور شرابور ہو گی کہ کیسے سرپھرے لوگ تھے جن کے قدم دنیا کی چکا چوند روشنیوں کے سامنے ڈگمگا نہ سکے. جن کا ایمان کسی آراستہ وپیراستہ چیز کو دیکھ متزلزل نہ ہو سکا.
ان مزاحمت کے استعاروں کو کبھی توپ کے آگے باندھ کر ریزہ ریزہ کر دیا گیا؛ کبھی ابلتے کڑاہوں میں پھینک کر راکھ کر دیا گیا کبھی ان کے جسد خاکی کو دریا کی بےرحم موجوں کے حوالے کر دیا گیا. کبھی ان کی تربت کا نام ونشاں مٹا کر خیال کیا جانے لگا جانے لگا کہ ان کے ساتھ ان کی یادوں کی خوشبوئیں بھی راکھ ہو جائیں گی. لیکن انہیں کیا خبر کہ یہ گم نام کردار جسم وروح سے بے نیاز ہوتے ہیں.
ان مزاحمت کے استعاروں میں عرب کا نخیف ونزار شہزادہ اور قندھار کا وہ کشادہ پیشانی والا ملا تھا جس کو تہذیب و تمدن سے ناآشنا قرار دیکر جاہل و جنگلی قرار دیا گیا.

راقم نے تہذیب و تمدن روشن خیالی وثقافت اور مصلحت کی ساری ردائیں اوڑھ کر بڑا غوروفکر کیا اور بار بار ان باتوں پر نظر ثانی کی کہ کہیں غلط سلط تو نہیں کر رہا کہ ایک طرف ساری دنیادوسری جانب قندھار وہ ملا ہے جو اپنی حکمرانی کو بھی اتنی اہمیت نہیں دیتا جتنی اپنی پگڑی اور کاندھے پر پڑی چادر کو دیتا ہے.
لیکن مجھے کہیں سے بھی کوئی مصلحت کی چڑیا کوئی روشن خیالی کا چورن کوئی انسانیت کی پڑیا نظر نہیں آئی.
میں نے پھر تقابل کیا

کہ مہذب قوموں اور انسانیت کے تختے پر براجمان نام نہام ٹھیکیداروں کے کردار پر نظر ڈالتے ہیں
ایک طرف یہ وحشی لوگ ہیں جن پر تہذیب و تمدن سے ناآشنا ؛ جنگی؛ اور وحشی کی پھبتیاں کسی جاتی ہیں.
دوسری طرف انسانیت کے علمبردار مہذب لوگ ہیں.
ایک عورت دس دن تک ان جنگلیوں کی تحویل میں رہتی ہے جسے ساری دنیا ایوان ریڈلی کے نام سے جانتی ہے

دوسری طرف ایک عورت ذات انسانیت کے علمبرداروں کے ہاتھ لگتی ہے. جسے عافیہ صدیقی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے.

ایوان ریڈلی نے اپنے ساتھ پیش آنے والے تمام واقعات کو رقم کر کے ساری داستان دنیا کے سامنے رکھی.
ایوان ریڈلی کہتی ہے ایک وقت ایسا بھی آیا جب کابل کی جیل میں قید کے دوران میری قوت برداشت جواب دے گئی کہ میں نے اپنے قید کرنے والوں کے منہ پر تھوکا اور ان کو گالیاں دیں. مجھے اس کے بدلے میں ان سے بدترین جواب کی امید تھی لیکن ان لوگوں نے میرے اشتعال دلانے والے رویے کے باوجود مجھے بتایا کہ میں ان کی بہن اور مہمان ہوں.

اسی حسن سلوک سے متاثر ہو کر ریڈلی بعد میں اسلام قبول کرتی ہے.
یہ ان لوگوں کا ایک عیسائی عورت کے ساتھ روا رکھا گیا رویہ ہے جنہیں کیا کچھ نہیں کہا جاتا.
دوسری طرف حافظہ قرآن عافیہ صدیقی کی درد والم سے بھرپور داستان ہے. جس کے حرف حرف سے لہو ٹپکتا دکھائی دیتا ہے اگر کوئی پڑھے تو دل خون کے آنسو روتا ہے. کوئی سنے تو کان سن ہو کر رہ جاتے ہیں.
کیسے ایک حافظہ قرآن مظلوم عورت پر مہذب قوم کے مہذب افراد نے اس کی گوہر عصمت کو نوچ نوچ کر انسانیت کا علم بلند کیا. اور اپنی ہوس وشیطنیت کا بھرپور مظاہرہ کیا.

اسامہ بن لادن کے معاملے میں بھی ملا عمر نے قانون وآئین کی پاسداری کی دنیا کو کہا کہ ہم بغیر کسی ثبوت کے ایک مسلمان کو آپ کے حوالے نہیں کر سکتے. بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کہ پورا افغانستان بھی الٹ جائے اور ہم تباہ وبرباد بھی ہو جائیں تو بھی شیخ اسامہ کو کسی کے حوالے نہیں کریں گے.
بات آئین واصولوں کی پاسداری کی تھی.

ملا عمر کو مصلحت فروشوں نے بڑا سمجھایا کہ ایک لاغر آدمی کی وجہ سے پورے افغانستان کو کیوں خطرے ڈالتے ہیں. لیکن اس مرد درویش کا ایک ہی حرف انکار سن کر سب نے لب سی لیے.
ملا عمر کو معلوم تھا کہ اس انکار کی قیمت کیا چکانی پڑے گی.
اسے معلوم تھا کہ جدید دنیا میں ضمیر فروشی کا کتنا خیال کیا جاتا ہے.

لیکن اس نے حرف انکار سے اپنے لبوں کو سجا کر دو ماہ کر وقت کی جنگیزیت کے آگے سد سکندری بنا رہا. پھر اس نے ایک عرب کے شہزادے کی حفاظت کر کے اپنی باضمیری کی قیمت چکائی.

وہ تخت وتاج کو اپنے پاؤں کی نوک پر رکھتے ہوئے موسم سرما کی ایک رات کاندھے پر چادر لٹکا کر کسی پہاڑی کی چوٹی میں جا بسا.
سوچتا ہوں یہ مزاحمت کے استعارے بھی عجیب قسم کے لوگ ہوتے ہیں جن کی ساری باتوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے. لیکن ان کی باحمیتی باضمیری سے کہیں اختلاف ممکن نہیں.

سب سے بڑھ کر یہ مزاحمت کے وہ روشن چراغ ہوتے ہیں جن کی روشنی سے ہر آنے والا انقلاب پسند دماغ اور جبر و استبداد کی چکی میں پسنے والا مرد غیور اپنا لائحہ عمل متعین کرتا ہے.
ایسے ہی لوگ بجا طور تاریخ کے روشن کردار اور ولن ہوتے ہیں جو تاریخ کے اوراق میں زندہ وجاوید ہو جاتے ہیں.


  • 1
    Share

About the author

انس انیس

محمد انس ہزارہ ڈویژن کے علاقے حضرو سے تعلق رکھتے ہیں لکھاری ڈاٹ کام کے معاون چیف ایڈیٹر ہیں ،روزنامہ نئی بات میں کالم بھی لکھتے ہیں ،بقول انس انیس
علمی دنیا کا مسافر ؛ دلیل کا طالب؛ سچائی کی جستجو میں سرگرداں اک ذرہ بے نشان.

Add Comment

Click here to post a comment