لکھاری لکھاری » لکھاری » اگرقرون اولیٰ کا دور ہوتا تو روہنگیا کیلئے ابن قاسم ضرور نکلتے۔فیاض عالم

ad

لکھاری میرے مطابق

اگرقرون اولیٰ کا دور ہوتا تو روہنگیا کیلئے ابن قاسم ضرور نکلتے۔فیاض عالم


Faiyaz Alamمجھے معلوم نہیں ہے کہ خانہ کعبہ پر انتہائ بیش قیمت غلاف اس وقت چڑھایا جاتا تھا یا نہیں ( غلاف چڑھانے کی روایت تو بعثت نبوی سے پہلے سے چلی آرہی ہے لیکن کروڑوں ریال کا غلاف؟) مسجد نبوی اس قدر وسیع اور شاندار عمارتوں پر مشتمل تھی یا نہیں- دنیائے عرب کے پاس اتنے مالی وسائل تھے یا نہیں اور حج کے موقع پر 25 لاکھ مسلمانوں کا اجتماع ہواکرتا تھا یا نہیں لیکن یہ ضرور معلوم ہے کہ آج سے 1000- 1200 سال قبل اگر برما میں اس ظالمانہ طریقے سے اللہ کے رسول کے امتیوں کا قتل عام ہوتا تو سرزمین حجاز سے کوئ خالد ابن ولید، کوئ ابن قاسم یا کوئ صلاح الدین اللہ کی کبریائ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ضرور نکلتا اور ان چند لاکھ ظالموں اور قاتلوں کو نیست و نابود کردیتا-

افسوس کہ اللہ نے مسلم دنیا کو وسائل سے مالامال کردیا لیکن ہم نے ناشکری کی اور ان وسائل کو امت کی طاقت کی بجائے آپس میں ایک دوسرے کی تباہی کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا-

کاش عرب حکمراں اب بھی ہوش سے کام لیں- کاش ایران خود کو محض شیعوں کا ملک نہ سمجھے اور اس کے حکمراں 70 کی دہائ کی وسعت قلبی کا مظاہرہ کرسکیں- کاش بنگلہ دیش کی حکمراں خاتون کے دل میں برمی خواتین اور بچوں کے لئے رحم پیدا ہوجائے اور کاش پاکستانی حکمراں اپنی حیثیت اور اہمیت کو سمجھ کر باوقار فیصلے کرنے کے لائق ہوسکیں-

کاش ہمارے سیاسی لیڈرز علاقائ مفادات اور سیاسی اختلافات کو کچھ عرصہ کے لئے بھول کر برما کے مسلمانوں کی بہیمانہ نسل کشی روکنے کے لئے کوئ متفقہ لائحہ عمل تیار کرسکیں-

کاش ہمارے جیسے بے عمل لوگوں کی دعاوں میں کچھ اثر ہوجائے اور ان مظلوموں پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ تھم جائے-

یا اللہ تیرے رسول کے امتی ہیں! بے بس ہیں! ان کا کوئ بھی آسرا نہیں ہے! کوئ سہارا دینے اور ظالم کا ہاتھ روکنے کو تیار نہیں ! یا قہار! یا جبار! تو ہی ان کے قاتلوں پر قابو پالے- تو ہی ان ظالموں کو سزا دے دے-

تو ہی برما کے مظلوم مسلمانوں کے لئے نجات کا کوئ راستہ نکال دے- آمین