لکھاری لکھاری » لکھاری » روہنگیامسلمانوں کی نسل کشی اور انسانیت کے چار مینار-اظہارالحق

ad

لکھاری میرے مطابق

روہنگیامسلمانوں کی نسل کشی اور انسانیت کے چار مینار-اظہارالحق

  • 69
    Shares

اظہارالحق برما کے بدھوؤں کے ہاتھوں روہنگیا مسلم آبادی کو ریاستی جبر ، تشدد، نسل کشی اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے ۔ جنگلوں کو آباد کرنے والے ننگ دھڑنگ بدھ مت مسلم دشمنی میں باؤلے ہوچکے ہیں ، سفاکیت کی تمام حدود وقیود سے آزاد ہوچکے ہیں ان درندوں کو لہو مسلم کی ایسی چاٹ لگی کہ سیر ہونے کا نام نہیں لے رہے،

 

پاکباز خواتین کی عصمتیں پامال کرنے سے لےکے بزرگوں اور نونہالوں کے بلاامتیاز قتل عام تک ،مساجد و دینی درسگاہوں کو ملیامیٹ کرنے سے لےکے کچے مکانوں اور بازاروں کو اجاڑنے تک، بستیوں کی ویرانی سے لےکے دیہاتوں اور قصبوں کی پامالی تک، ہزاروں لوگوں کو بےگھر کرنے سےلےکے خیمے جلانے تک ، گولیوں سے چھلنی کرنے سےلےکے اجتماعی قبروں تک کوئ ایسا وار نہیں جو ان درندوں نے نہ آزمایا ہو لیکن مہذب و بیدار دنیا آنکھیں موند کر درندگی کو ان کا داخلی معاملہ قرار دےرہی ہے،،

 

افسوسناک امر یہ کہ مسلم خطوں کے حکمران اور مقتدر طبقات بھی خواب غفلت کی چادر تانے اپنے مفادات کے تحفظ کو دوام بخشنے کے حیلے تراش رہے ہیں،،، خبریں یہ بھی ہیں کہ اسلام کے قلعہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران میانمار( برما) کے ساتھ دفاعی معاہدے کررہے ہیں دوسرے لفظوں میں یوں کہوں کہ روہنگیا مسلم آبادی کی نسل کشی کےلئے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں جو کہ پوری امت کےلئے باعث شرم بات ہے اسلامی اخوت تو درکنار محض انسانی اقدار کا لحاظ کرنے کو بھی کوئ تیار نہیں ہے روہنگیا مسلم پہچان کی حامل آبادی کو بے بسی و لاچارگی میں اپنی بقا کی جنگ تنہا لڑنی ہے

اپنی عزت اور ایمان بچانے اپنی اولادوں کے بہتر مستقبل کی خاطر اپنی سرزمین کو خیرباد کہہ کے روہنگیا مسلم ہجرت کی راہوں پہ گامزن ہیں لیکن ان بےسہاروں کو کوئ پناہ دینے کو تیار نہیں،، گزشتہ کئ دنوں سے جنگلوں میں بھٹک رہے ہیں بھوک افلاس اور مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہیں لیکن ان مجبور و ناتواں لوگوں کی نصرت کرنے کو کوئ تیار نہیں شائد وہ لاعلم ہیں کہ اللہ کی زمین پر خودساختہ خدا قابض ہیں جہاں کسی مظلوم کےلئے کوئ جائے پناہ نہین ہے،،،،،،،،،،

 

اگر بالفرض کسی اسلامی خطے میں غیر مسلم اقلیت کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا ہوتا تو یقینا منظر یکسر مختلف ہوتا انسانی حقوق اقلیت کے حقوق بنیادی و پیدائشی حقوق تک سب ازبر دہرا رہے ہوتے اقوام عالم سمیت مسلم ریاستیں بھی مدد کو لپک رہی ہوتیں ظالم حکومت کے خاتمے کو انسانیت کی سب سے بڑی خدمت باور کراتے اور یہی کچھ دنیا میں ہورہا ہے لیکن یہاں معاملہ اس لئے بھی برعکس ہے کیوں کہ ان کا مذہب ان کی پہچان ان کے قتل کو حق قرار دینے کےلئے کافی ہے ???

سقوط خلافت عثمانیہ کے بعد امت مسلمہ کی وحدت کا شیرازہ ایسا بکھرا کہ اپنی شناخت بھی کھو دی ہر کسی کا اپنا پرچم ہے اپنا قانون ہے اپنا نظام ہے اور اپنے اپنے مفادات ہیں۔ کسی کو پاکستانی ہونے پہ فخر ہے تو کوئ مصری ہونے پہ نازاں ہے، کسی کا گھمنڈ ایرانی ہونا ہے تو کسی کا غرور افغانی ہونا ہے امت مسلم کا جسد واحد ہونا قصہ پارینہ بن چکا ہے یہی وجہ کہ پوری دنیا میں مسلم شدید تنہائ کا شکار ہیں خ خطرے میں ہے۔۔۔

اس دگرگوں صورت حال میں اتحاد و وحدت کی دعوت ایک ریاست ایک نظام ایک پرچم کے سائے تلے جمع ہونے کی دعوت عام کرنا ہوگی تاکہ خلافت کے مقدس چھت تلے اپنی اقدار عزت و آبرو اور خودداری کے ساتھ پروقار زندگی جی سکیں وگرنہ لہومسلم کے پیاسے گھات لگائے بیٹھے ہیں آج برما و میانمار کے مسلم دربدری کی صورت حال سے دوچار ہیں تو کل کو ہمیں بھی کسی ایسی دردناک لمحات کا سامنا کرنا پڑگیا تو پھر افسوس حزن و ملال کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


  • 69
    Shares