لکھاری لکھاری » لکھاری » جماعت اسلامی سے اسٹیبلشمنٹ کو اتنی محبت کیوں ہے ؟-احسن سرفراز

ad

لکھاری میرے مطابق

جماعت اسلامی سے اسٹیبلشمنٹ کو اتنی محبت کیوں ہے ؟-احسن سرفراز


احسن سرفرازسید منور حسن صاحب نے عاصمہ چوہدری کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک انکشاف کیا جس کا لب لباب کچھ یوں ہے کہ پرویز مشرف نے نعمت اللہ خان صاحب کو کراچی کی نظامت ختم ہونے کے بعد علیحدگی میں ملاقات کرکے جماعت اسلامی چھوڑنے کے بدلے دوبارہ نظامت دینے کا عندیہ دیا، انکے انکار پر کراچی کو MQM کے حوالے کر دیا گیا۔

اسٹیبلشمنٹ کی جماعت اسلامی سے یہ خصوصی “محبت ” کوئی نئی بات نہیں، اس سے پہلے ایوب خان کے دور میں جماعت اسلامی پر بطور جماعت پابندی لگی جسے بعد ازاں عدالت نے ختم کر دیا، ضیاءالحق کے دور میں جماعت کا کراچی میں زور توڑنے کیلیے MQM کو فروغ دیا گیا۔ 2013 الیکشن میں بھی فاٹا میں جماعت کی جیتی نشستیں صبح تک کسی اور کے حوالے کر دی گئیں۔

آخر اسٹیبلشمنٹ کو وطن کی نظریاتی سرحدوں کی ہمیشہ حفاظت کرنے، ملک و قوم کو درپیش ہر آزمائش میں ثابت قدم رہنے اور اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے والی جماعت اسلامی سے اتنی کد کیوں ہے؟ پاکستان ہو، مصر ہو، ترکی ہو یا دنیا کا کوئی اور خطہ وہاں کی مقتدر قوتوں کا پہلا نشانہ اسلامی تحریکیں ہی بنتی ہیں۔ حالانکہ ان تحریکوں نے تمام تر ظلم و استبداد اور راستے کی رکاوٹوں کے باوجود عسکریت پسندی کا راستہ اختیار نہیں کیا اور کسی خفیہ تحریک کی بجائے ہمیشہ جمہوری جدوجہد کو ہی ترجیح دی۔

امریکہ کی مشہور زمانہ رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق آج استعمار کا سب سے بڑا نشانہ مسلمانوں میں وہ لوگ ہیں جو نظام بدلنا چاہتے ہیں اور ہر باطل نظام پر قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق نظام کو ترجیح دیتے ہیں۔ جن کے مطابق اسلام ایک مذہب نہیں کہ جو محض چند عبادات اور اخلاقی تعلیمات کا مجموعہ ہو بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جو گھر، عدالت، مسجد، مکتب، بازار ، معیشت و معاشرت سمیت ہر ہر شعبے میں انسانیت کے لیے رہنمائی مہیا کرتا ہے اور یہ نظام خالق نے اپنی مخلوق کی دنیاوی و اخروی بھلائی کیلیے اپنے انبیاء کے ذریعے نازل کیا ہے۔

آج کا انسان اگر اپنی مرضی اور عقل کو وحی کا تابع کر لے اور طاغوتی راستوں کو چھوڑ کر سواءالسبیل یعنی وہ راستہ اختیار کرلے جو اسے خالق کی خوشنودی سے جوڑتا ہے تو بھوک، خوف، بد امنی، بے مقصدیت، ظلم اور مادیت پرستی جیسے مسائل پر وہ بخوبی قابو پا سکتا ہے۔

ہمارے ملک کی مقتدر قوتوں کو بھی چاہیے کہ اگر وہ اقامت دین کی جدوجہد میں ممد و معاون نہیں بن سکتیں تو مزاحم کا کردار بھی چھوڑ دیں۔ جس استعمار نے انکے ذہن میں اسلامی تحریک کے خلاف نفرت ڈالی ہے وہ اس ملک کی بہتری اور ترقی کے بھی خلاف ہے اور آپ سے بھی کوئی محبت نہیں رکھتا۔ اس ملک کی بھلائی اور ترقی استعمار کے ایجنڈے کو پورا کرنے میں نہیں بلکہ اسے ناکام بنانے میں ہے۔