لکھاری لکھاری » لکھاری »  قربانی کے نام پر وجود پانے والی رسم -محمد حذیفہ

ad




ad




اشتہار




لکھاری میرے مطابق

 قربانی کے نام پر وجود پانے والی رسم -محمد حذیفہ


آج شام کو کسی کام سے باھر جانا ہوا تو ہر طرف ایک سے بڑھ کر ایک جانور دیکھنے کو ملےقربانی ماشاءاللہ ہر آدمی اپنی استطاعت سے بڑھ کر قربانی کرنے کی غرض سے بیش قیمت جانور لایا ہے.یہ دیکھ زبان سے بے اختیار شکرانے کے کلمات نکلے کہ الحمدلله لوگوں میں قربانی کرنے کا کتنا جزبہ ہے.

سوچا تھوڑا آگے ایک دوست کا گھر ہے گزشتہ سال بھی بڑا جانور لائے تھے، یقیناً اس سال بھی لائے ہونگے چل کے قیمت وغیرہ دریافت کرتے ہیں. وہاں پہنچے تو گھر کے کوئی جانور نہیں کھڑا تھا. خیر کال کرکے دوست کو بلایا اور پوچھا کہ کب جارہے ہو بھائی منڈی. ۔۔۔؟

تو کہنے لگا کہ یار اس دفعہ قربانی کرنے کا ارادہ نہیں ہے. حیرانی کے عالم میں استفسار کیا تو کہنے لگا کہ یار حذیفہ تم کو تو پتا ہے ابّاجی کی اتنی آمدنی تو نہیں ہے لیکن پھر بھی ہر سال کچھ پیسے بچا کر اوسط درجے کا جانور لے آتے ہیں اور اسی کی قربانی کرتے ہیں.
لیکن اس دفعہ جب سے ہماری گلی کے شیخ صاحب اپنا موٹا تازہ جانور لے کر آئے ہیں روز ابّاجی کو کہتے ہیں کہ

ہاں بھائی کب لارہے ہو تم اپنا چِھلا ہوا جانور.جلدی لے آؤ ہمارے جانور کا بچایا ہوا چارہ ضائع جارہا ہے وہ تم لے جایا کرنا. اس بار ابّاجی کا ہاتھ کچھ زیادہ تنگ تھا تو مذاق بننے سے بچنے کیلئے قربانی کرنے کا ارادہ ترک کردیا ہے.انشاءاللہ اگلے سال دیکھیں گے.
یہ سن کر مجھے ایک عجیب سا احساس ہو اور فوراً سلام دعا کر کے واپس ہولیا..

واپسی میں جس گھر کے سامنے بھی جانور بندھا نظر نہیں آیا پتا نہیں کیوں ہر گھر کے بارے میں بلکل وہی جزبات پیدا ہوئے جو اپنے دوست کی وجہ سن کے ہوئے تھے..

آج کل مہنگائی نے ہمارے غریب کو سر آٹھانے سے بھی روک دیا ہے. جانوروں کی منڈیوں میں قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں. امیر ہر سال پہلے سے مہنگا جانور لے کر آ رہا ہے اور غریب کے لئے ہر سال قربانی کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے.

میں سمجھتا ہوں کہ اس کی وجہ صرف اور صرف امیروں کے شاہانہ شوق، فضول خرچی اور اپنے نام کی واہ وائی سننے کا لت ہے. جس کی وجہ سے معاشرے میں قربانی کے نام پر اپنے جاہ وجلال،پیسا اور منصب کے اظہار کی ایک نئی رسم وجود پارہی ہے.جس کے تحت غریبوں کا استہزاء اور حق تلفی جیسے کام کرکے حقوق العباد پر ڈاکے ڈالے جارہے ہیں.

ایک غریب جو پہلے صدقِ دل سے حسبِ استطاعت  قربانی کرتا تھا اب اسے اپنے آس پاس رہنے والوں کی باتیں اس فریضے سے محروم کردیتی ہیں..

قربانی ہر صاحب نصاب پر واجب ہے ،آجکل کے اعداد وشمار کے مطابق چالیس ہزار مالیت رکھنے والا صاحبِ نصاب ہے.اور اس پر قربانی واجب ہے. اب ایک شخص جو پچاس ہزار کا مالک ہے وہ امیر تو ہر گز نہیں ہے لیکن اس پر قربانی واجب ہے.اسے قربانی کرنی چاہئے لیکن آہستہ آہستہ مہنگائی یا ہمارا معاشرے میں تگڑے جانور کی قربانی کرنے کی رسم اسے اس فریضے سے محروم کرتی جارہی ہے..

کچھ بھی ایسا نظر نہیں آرہا جس میں کچھ بہتری ہو. ہم مجموعی طور پر تنزّلی ہی کی طرف بڑھتے جارہے ہیں.پتا نہیں اس قوم کے نصیب میں کچھ اچھا دیکھنا ہے بھی یا نہیں. ایک المیہ کے عادی ہوتے ہیں تو دوسرا منہ کھولے سامنے کھڑا ہوتا ہے.پتا نہیں ہمارا کیا ہوگا.. ۔