لکھاری لکھاری » لکھاری » زنا کا قرض جان نہیں چھوڑتا- جنیدرضا

ad




ad




اشتہار




لکھاری میرے مطابق

زنا کا قرض جان نہیں چھوڑتا- جنیدرضا


جنید رضا

تفسیر روح البیان میں ایک قصہ منقول ہے کہ شہر بخارا میں ایک جیولر کی مشہور دکان تھی ،اس کی بیوی خوبصورت اور نیک سیرت تھی ایک سقا ( پانی لانے والا)اس کے گھر تیس سال تک پانی لاتا رہا ،وہ بہت بااعتماد شخص تھا ،ایک دن اسی سقا نے پانی ڈالنے کے بعد اس جیولر کی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر شہوت سے دبایا اور چلاگیا ،عورت بہت غمزدہ ہوئی کہ اتنی مدت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ،اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اسی دوران جیولر کھانا کھا نے کے لئے گھر آیا تو اس نے بیوی کو روتے ہوئے دیکھا ،پوچھنے پر صورتحال کی خبر ہوئی تو جیولر کی آنکھوں میں آنسو آگئے،

 

بیوی نے پوچھا کیا ہوا، جیولر نے بتایا کہ آج ایک عورت زیور خریدنے کے لئے آئی تھی ،جب میں اسے زیور دینے لگا تو اس کا خوبصورت ہاتھ مجھے پسند آیا، میں نے اس اجنبیہ کے ہاتھ کو شہوت کے ساتھ دبایا، یہ میرے اوپر قرض ہو گیا تھا ،لہذا سقا نے تمہارے ہاتھ کو دبا قرض کا بدلہ جکادیاہے، میں تمہارے سامنے سچی توبہ کر تا ہوں ،کہ آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا -البتہ مجھے ضرور بتانا کہ سقا کل تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے، دوسرے دن سقا جب پانی ڈالنے کے لئے آیا تو اس نے جیولر کی بیوی سے کہا کہ میں بہت شرمندہ ہوں، کل مجھے شیطان نے ورغلا کر براکام کروا دیا ،میں نے سچی توبہ کرلی ہے آپ کو میں یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا-عجیب بات ہے کہ جیولر نے غیر عورت کو ہاتھ لگانے سے توبہ کر لی تو غیر مردوں نے اس کی عورت کو ہاتھ لگا نے سے توبہ کر لی،(تفسیر روح البیان)

اسی کتاب میں مکتوب ہے کہ ایک بادشاہ کے سامنے کسی عالم نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ زانی کے عمل کا قرض اس کی اولاد یا اس کے اہل خانہ میں سے کسی نہ کسی کو چکانا پڑتا ہے، اس بادشاہ نے سوچا کہ میں اس کا تجربہ کرتاہوں،

 

اس کی بیٹی حسن و جمال میں بے مثال تھی، اس نے شہزادی کو بلا کر کہا کہ عام سادہ کپڑا پہن کر اکیلی بازار میں چلی جاؤاور اپنے چہرے کو کھلا رکہنا اور لوگ تمہارے ساتھ جو معاملہ کریں وہ ہوبہو آکر مجھے آکر بتانا، شہزای نے بازار کا چکر لگا یا مگر جو غیر محرم شخص اس کی طرف دیکھتا وہ شرم و حیا سے نگاہیں جھکا لیتا ،کسی بھی مرد نے اس شہزادی کے حسن و جمال کی طرف دھیان ہی نہیں دیا ،سارے شہر کا چکر لگا کر جب شہزادی اپنے محل میں داخل ہو نے لگی تو راہ داری میں کسی ملازم نے محل کی خادمہ سمجھ کر روکا ،گلے لگا یا، بوسہ لیا اور بھاگ گیا، شہزادی نے بادشاہ کو سارا قصہ سنایا تو بادشاہ روپڑا اور کہنے لگا کہ میں نے ساری زندگی غیر محرم سے اپنی نگاہوں کی حفاظت کی ہے البتہ ایک مرتبہ میں غلطی کر بیٹھا اور ایک غیر محرم لڑکی کو گلے لگا کر اس کا بوسہ لیا تھا، میرے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو میں نے اپنے ہاتھوں سے کیا تھا،

سچ ہے کہ زنا ایک قصاص والا عمل ہے جس کا بدلہ اداہوکر رہتا ہے(تفسیر روح المعانی )