لکھاری لکھاری » لکھاری » کیا احتساب صرف نواز شریف کیلئے تھا؟-تنویر اعوان

ad

لکھاری میرے مطابق

کیا احتساب صرف نواز شریف کیلئے تھا؟-تنویر اعوان


Tanveer awan
جس دن پاناما کا فیصلہ آنا تھا۔اس سے ایک دن قبل ہی میں اپنی فیس بک وال پر میاں صاحب کو اللہ حافظ کہہ چکا تھا۔ایک خوشی تھی کہ اس ملک میں کسی بڑے کا احتساب بھی ہوسکتا ہے۔

لیکن اگلے روز جس قسم کا فیصلہ آیا۔اس نے خوشی کو حیرانی میں بدل دیا۔زہن الجھ کر رہ گیا۔سوچا تھا کہ میاں صاحب کا اربوں کا گول مال نکلے گا۔اور پوری شریف فیملی کرپشن کیس میں اندر جائے گی۔

لیکن فیصلہ ایسا عجیب و غریب آیا کہ میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔میں نے اسی دن کہہ دیا تھا کہ پہلے سنی سنائی تھی ۔اب یقین ہوگیا کہ پاناما کے پیچھے کوئی اور ہے۔یہ احتساب نہیں بلکہ شریف فیملی سے حساب کتاب ہوا ہے۔گوکہ اس وقت احباب نے یہ بات تسلیم نہیں کی۔

لیکن ہر گزرتے دن کیساتھ یہ حقیقت مزید واضح ہوتی چلی جارہی ہے کہ میاں نواز شریف کی نااہلی کرپشن کی وجہ سے نہیں بلکہ کچھ اور معاملات کی وجہ سے ہوئی ہے۔

حال ہی میں زرداری صاحب کا کرپشن مقدمات سے بری ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ احتساب نہیں۔حساب کتاب ہوا ہے۔ورنہ بقیہ 459 لوگوں کا تو کوئی نام ہی نہیں لے رہا۔

مزید چلیں تو سندھ میں کرپشن کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں ۔وزیر سے لیکر چپڑاسی تک سب چور ہیں۔لیکن شاید سندھ پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔یا بڑے بھائی کا سندھ کے چور حکمرانوں سے مک مکا ہوچکا ہے ۔

بہرحال اگر کرپشن کی بنیاد پر ہی نااہلی کو دیکھیں تو میاں نواز شریف کیساتھ زیادتی ہوئی ہے۔کیوں کہ اگر انہوں کرپشن کی بھی تھی تو بھی ان کی کرپشن زرداری اینڈ کمپنی سے کہیں کم ہے۔ان کو نااہل کرنا اور زرداری کو کلین چٹ دینا ۔سمجھ سے بالاتر ہے۔ہونا تو یہ چاہیے کہ سب بڑے چوروں پر جے آئی ٹی بنائی جائے۔ورنہ ہم یہی کہیں گے کہ پاناما کے پیچھے کوئی اور تھا اور احتساب نہیں حساب ہوا ہے۔