لکھاری لکھاری » لکھاری » ارتقاء اور ڈارون کا نظریہ اور سیدمودودی کا جواب

ad

لکھاری

ارتقاء اور ڈارون کا نظریہ اور سیدمودودی کا جواب


سوال:ارتقاء کے متعلق لوگوں کے اندر مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض مفکرین انسانی زندگی کا ظہور محض ایک اتفاقی حادثہ خیال کرتے ہیں۔ بعض کے نزدیک (جن میں ڈارون سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے) انسان نے زندگی کی اعلیٰ اور ارفع حالتوں تک پہنچنے کے لیے پست حالتوں سے ایک تدریج کے ساتھ ترقی کی ہے اور یہ ترقی تنازع للبقاء اور بقاء اور بقا اصلح کی رہین منت ہے۔ بعض لوگ یہ بھی سمجھتے کہ انسان ہمیشہ جغرافیائی ماحول کے سانچوں میں ڈھلتا رہا ہے۔ جیسا کہ لارمک بعض لوگ برگسان کے تخلیقی ارتقاء کے قائل نظر آتے ہیں۔ آپ کی تحریروں کے مطالعہ سے یہ بات منکشف نہیں ہوسکی کہ آپ ارتقا کے کس پہلو کے مخالف ہیں۔ براہ کرم اس پہلو کی نشاندہی کریں۔

سید ابو الاعلیٰ مودودی جواب: مسئلہ ارتقاء پر جو بھی میں نے اعتراضات کیے ہیں وہ دراصل ڈارونزم کے خلاف ہیں۔ نفسِ ارتقاء تو ایک امر واقعی ہے جس سے اختلاف نہیں ہوسکتا۔ لیکن ڈارونزم ایک مفروضے سے زیادہ کچھ نہیں ہے، اور مفروضہ بھی ایسا جو تمام مشہود حقائق کی معقول توجیہ نہیں کرتا بلکہ بعض حقائق کی قیاسی توجیہہ کرتے ہوئے بہت سے حقائق سے نظر چرانے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر ایک شدید علمی استبداد۔۔۔ جو پادریوں کے مذہبی استبداد سے اپنی متعصبانہ توعیت میں کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے،

 

اس کی پشت پناہی کرتا ہے اور اس کے خلاف سائنٹفک تنقید کو برداشت نہیں کرتا۔ تاہم اس نظریے پر اب تک جو تنقیدیں گہرے علمی استدلال کے ساتھ ہوئی ہیں، انہیں نگاہ میں رکھا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس پر بکثر ت اعتراضات ایسے ہیں جن کو رفع کرنے میں ڈارونزم کے حامی اب تک کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ آپ اس تنقیدی لٹریچر کا مطالعہ کر کے خود دیکھ لیں کہ اعتراضات کتنے وزنی ہیں اور جن چیزوں کو ڈارونزم کا ثبوت کہا جاتا ہے۔ وہ کس قدر کمزور ہیں مثال کے طور پر صرف ایک ہی کتاب (The Revolt against Reason) کے مطالعہ کا میں آپ کو مشورہ دوں گا۔

 

میں جس چیز کو صحیح سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ نباتات وحیوانات کی ہر نوع اور اسی طرح نوع انسانی کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا ہے کہ ہر نوع کے پہلے فرد کو وہ براہ راست اپنے تخلیقی عمل سے وجود میں لایا اور اس کے بعد خود اسی کے اندر اس نے تناسل کی طاقت رکھدی، جس سے بے شمار افراد توالد وتناسل کے ذریعہ سے وجود میں آتے چلے گئے۔ یہ نظریہ تمام مشہود حقائق (Observed facts) کی زیادہ بہتر توجیہہ کرتا ہے اور کوئی اعتراض اس پر ایسا نہیں لایا جاسکتا جس کا جواب اس نظریہ میں موجود نہ ہو، نہ کوئی مشکل اس نظریہ کی تفصیلات میں کسی جگہ ایسی سامنے آتی ہے جو حل نہ ہوسکتی ہو۔ سوال یہ ہے کہ ہر ممکن التصور مفروضے کو تو قابل غور سمجھاجاتا ہے۔ مگر اس نظریہ سے فرار کیوں کیا جاتا ہے۔

(مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ )
رسائل ومسائل