قربانی کا مقصد و فلسفہ -بلال یاسر

ad



ad

لکھاری میرے مطابق

قربانی کا مقصد و فلسفہ -بلال یاسر


بلال یاسر قربانی ایک مختصر لفظ ہے،لیکن انسانی زندگی میں اس کی غیرمعمولی اہمیت ہے۔ اس کی ضرورت انسان کو اپنی زندگی کے مختلف مقامات پر اور مختلف انداز میں پڑتی ہے۔ ساتھ ہی ہر قربانی کے پیچھے کوئی نہ کوئی مقصدہوتاہے۔ انسان جواپنی زندگی زندگی کے مختلف مسائل میں الجھا ہوتاہے،اسے قدم قدم پر قربانی دینی پڑتی ہے اور اس کے پیچھے اس کا کوئی نہ کوئی مقصد چھپا ہوتا ہے اور مقصد جتناعظیم ہوتاہے قربانی بھی اتنی ہی بڑی ہوگی۔

 

 

مثلاًانسانی زندگی کا مقصد اطاعت الٰہی ہے جوتقرب الٰہی اور کیفیت تقوی کے بغیرممکن نہیں اور یہ تقرب الٰہی،کیفیت تقوی کے بغیرحاصل نہیں ہوتی۔ لہذا اطاعت کے لیے قربانی ضروری ہے۔
لَن یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِن یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنکُم.نہ ان (قربانی کے جانوروں)کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون۔ مگراسے تمہارا تقویٰ پہنچتاہے۔ (سورۃ الحج:۷۳)

اس آیت کریمہ سے یہ واضح ہے کہ اللہ کو مقصودان جانوروں کا خون یا ان کاگوشت نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے بندوں کا تقوی دیکھنا چاہتاہے کہ وہ خداپر کس قدر یقین رکھتے ہیں؟اس کے احکام کی کس قدرپابندی کرتے ہیں اور کس طرح وقت ضرورت قربانی پیش کرنے کو تیاررہتے ہیں؟ تقوی کی صفت اللہ کوبے حدمحبوب ہے، اسی صفت سے انسان نیک اعمال کوترجیح دے کرانھیں اختیارکرتاہے۔ اگرکوئی شخص کسی عمل کو تقوی کی صفت کے ساتھ انجام دیتاہے تووہ خالصۃً للہ ہوتاہے۔ اس میں ریا کا شائبہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تقوی کو ہی روزے جیسی اہم ترین عبادت کا مقصدقراردیاہے۔

قربانی سنت ابراہیمی ہے حضرت ابراہیم کو خواب میں بشارت ہوئی کہ اپنی عزیز ترین شے کو اللہ کی راہ میں قربان کردیں۔ اگرچہ انہوں نے مال و زر لوگوں میں تقسیم کیا اس کے باوجود بشارت کا سلسلہ جاری رہا چنانچہ انہوں نے اپنی اہلیہ بی بی ہاجرہ سے مشورہ کیا اور اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل کو جو انہیں سب سے زیادہ عزیز تھے اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے روانہ ہوئے انہوں نے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی کہ کہیں شفقت پدری جوش میں نہ آجائے اور ان کے قدم لڑ کھڑا جائیں لیکن جوں ہی انہوں نے بیٹے کی گردن پر چھری چلائی اللہ کی طرف سے ان کی قربانی قبول ہونے کی وحی آئی۔

انہوں نے دیکھا ایک دنبہ ذبح تھا اور حضرت اسماعیل پاس کھڑے مسکرا رہے تھے ارشاد ہوا۔ ابراہیم ہم نے آپ کے خواب کو سچا کردکھایا اور آپ کی قربانی کو ذبح عظیم سے بدل دیا حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مناسک حج حضرت ابراہیم علیہ اسلام حضرت اسماعیل اور بی بی ہاجرہ سے وابستہ ہیں۔ اور ان کا ایک ہی پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا حصول اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے احکامات کی اطاعت سے ہی ممکن ہے حقوق اللہ اورحقوق العباد پر عمل درآمد کے معاملے میں اسلام کی تعلیمات کے ذریعے جو احکامات دیئے گئے ہیں۔ ان پر عملدرآمد کے بغیر ہم دوسرے انسانوں کو خوش رکھ سکتے ہیں۔

نہ ہی خدائے بزرگ و برتر کی خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں۔ عیدالاضحی کے موقع پر قربانی ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ ہم رزق حلال کے حصول پر توجہ دیں اور اپنے آپ کو رزق حرام سے دور رکھیں حکم یہی ہے کہ قربانی کے لئے وہ حلال جانور حاصل کیا جائے جوکسی بھی نقص اور عیب سے پاک ہو اور معذور بیمار یا زخمی نہ ہو اگرچہ اس کا گوشت ہم انسانوں نے استعمال کرنا ہے مگر اس کے عیب سے پاک ہونے کی شرط محض اس لئے ہے کہ اس پر اللہ کا نام لے کر اس کی قربانی کی جائے گی اللہ تعالیٰ اگریہ پسند نہیں کرتا کہ جس جانور کو اس کا نام لے کرذبح کیا جائے وہ عیب دار ہو تو وہ اپنے نام پر صدقہ اورخیرات کو رزق حرام سے کیسے قبول کر سکتا ہے۔

 

اس طرح قربانی کے حوالے سے اس کے احکامات بالواسطہ طورپر رزق حلال کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں جبکہ اس کے گوشت کو تقسیم کا طریقہ کار اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم دیگر مسلمانوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کریں دوسرے لفظوں میں قربانی کا فلسفہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی تکمیل میں اہم قرارداد کرتا ہے آج کے دور میں ہمارے معاشرے کے بیشتر مسائل کی وجہ محض یہ ہے کہ ہم نے قربانی کے عظیم فلسفے اور اس کی روح کو نظرانداز کر دیا ہے آج اطاعت خداوندی صرف دکھاوے کی نمازوں اور روزوں تک محدود ہوچکی ہے رزق حلال کے حصول کا تصور بہت پیچھے جا چکا ہے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے ریا کاری فریب دروغ گوئی اور دوسروں کے حقوق کا غضب کیا جانا ہمارے معاشرے کی ایک عام روایت بن چکی ہے

یہ روایت اس حد تک معاشرے میں سرایت کرچکی ہے کہ اب اسے کسی طور بھی میرا اور غلط نہیں سمجھا جاتا جس معاشرے میں حلال اور حرام کا تصور ختم ہو جائے جائز و ناجائز کی تمیز نہ رہے اس کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے جیسی وطن عزیز کے معاشرے کی ہے قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد کا فقدان ہے اور اس کی وجہ حکمرانوں کی وہ بے حسی ہے جو معاشرے کے کچلے ہوئے طبقات کوحقوق دلانے کے راستہ میں رکاوٹ ہے اسلام کی رو سے معاشرے میں بہتری اور اس کی تطہیر کے لئے اقدامات جہاں حکمرانوں کی ذمہ داری ہے وہاں پر شہریوں کے فرائض میں بھی شامل ہیں مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ اس معاملے میں عوام اور حکمران دونوں کا کردار بھی مایوس کن ہے۔

[abc]
[ab]