لکھاری لکھاری » لکھاری » فرقہ واریت کا خاتمہ کیسے کیا جائے

ad




ad




اشتہار




لکھاری میرے مطابق

فرقہ واریت کا خاتمہ کیسے کیا جائے


ذیشان منیر بٹ

پاکستان میں بڑھتی ہوئ فرقہ واریت کو روکنے کےلئے حکومت کو سخت اقدام کی ضرورت ہے، ورنہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو مستقبل میں مزید مشکلات جنم لے سکتی ہیں،

 

حکومت پاکستان کو چاہیے کہ مفتی منیب الرحمن، مفتی تقی عثمانی، مفتی سید عدنان کاکا خیل، علامہ ساجد نقوی، پروفیسر ساجد میر، مولانا عمران عطاری، صاحبزادہ ثاقب رضا مصطفائ مولانا طارق جمیل پر مشتمل ایک پاکستان لیول پر کمیٹی بنائ جائے، اور اس کمیٹی کا مقصد پاکستان بھر میں ڈویزن اور ضلع لیول پر اپنی کیبنٹ بنائے جس میں تمام مکتبہ فکر کے علماء اکرام شامل ہوں،

پاکستان بھر میں ہونے والے جلسے جلوس، محفل نعت، مجالس و دیگر تقریبات منعقد کروانے کےلئے کمیٹی سے اجازت نامہ اور پروگرام کے حوالے سے مکمل آگاہ کرنا ضروری اور پابند ہونا چاہئے اور درس دینے والے علماء حضرات کے پاس اس کمیٹی کا تصدیق شدہ اجازت نامہ ہونا چاہیئے اور ان تقریبات پر جو بھی تقریر کرنی ہو اس کا متن بھی کمیٹی سے تصدیق شدہ ہو،
فرقہ واریت اور لوگوں کو غلط درس دینے والوں کے اجازت نامے منسوخ کر کے قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہئے،
ملک بھر میں موجود تمام مساجد بھی اسی کمیٹی کی زیر نگرانی دی جائیں اور ان کے باہر لکھے فرقہ واریت والے نام اور تحریر کو ختم کرنا چاہئے

امام مسجد بننے کےلئے اسی کمیٹی سے تصدیق شدہ اجازت نامہ اور اس کے بعد امام مسجد کے چندے پر نہیں بلکہ ماہانہ تنخواہ ادا کی جائے،

فرقہ واریت ختم کرنا کوئ بہت بڑا مسلہ نہیں جس کا حل ممکن نہیں مگر حقیقت یہ کہ ہمارے ادارے اور حکومت اس کھیل سے چھٹکارا حاصل ہی نہیں کرنا چاہتے ورنہ یہ سب تو کچھ دن کے اندر آسانی سے ختم کیا جا سکتا ہے،