لکھاری لکھاری » میرا نقطہ نگاہ » قاری اور چسکورے حواری—قاسم شہزاد

ad

میرا نقطہ نگاہ میرا نقطہ نگاہ

قاری اور چسکورے حواری—قاسم شہزاد


طاہر پتر تیرا دھیان کہاں ہیں ؟
میں یہاں اتنا اہم واقعہ سنا رہا ہوں اور تو نے باہر ٹکٹکی باندھی ہوئی ہے یہ مکتب کے آداب کے خلاف ہے آئندہ تجھے بہت ڈاہڈی سزا ملے گی
یاد رکھنا
جی قاری صاحب ٹھیک ہے معافی چاہتا ہوں .
اچھا تو بچو میں بتا رہا تھا کہ حضرت……..رحمۃ اللہ علیہ جب مراقبے کی کیفیت سے باہر آئے تب آپکو الہام ہو چکا تھا کہ انکی موت بلکل قریب ہے .
قاری صاحب الہام کیا ہوتا ہے ؟
حفیظ تو ہمیشہ اپنی عقل سے بڑا سوال کرتا ہے الہام بس تو یہ سمجھ لے کہ محسوس ہو جانا کہ فلاں کام ہونے والا ہے اور یہ بزرگوں کو ہوتا ہے عام بندوں کو نہیں عام بندے کو اگر ایسا کچھ احساس ہو تو اسے کہتے ہیں چھٹی حس کا کام کرنا اور ضروری نہیں کہ عام بندے کی چھٹی حس جو کہے وہ ہو کر ہی رہے لیکن بزرگوں کو جو الہام ہوتا ہے وہ پورا بھی ہوتا ہے .
لیکن قاری صاحب کیسے ؟
حفیظ نکیا اپنی عقل جتنا کام کیا کر عقل سے بڑھ کر نہ سوچا کر آہستہ آہستہ سیکھ جاؤ گے.
لیکن قاری صاحب مجھے الہام کا آج ہی بتائیں .
اچھا بتاتا ہوں.
بچو چھٹی کا وقت ہوگیا چلو شاباش دھیان سے اپنے اپنے گھر .
حفیظ تم کہاں جا رہے رک جا تجھے چھٹی حس کا بتاتا ہوں الہام تو بزرگوں والی منزل ہے
لیکن سوچ لے مشکل ہوجائے گا…….
قاری صاحب میں بڑا سیان ہوں جلدی سمجھ آجاتی ہے میرے جیسی عقل کس کے پاس ؟
آپ ایک بار بتا دیں تھوڑا سا اسکی اگلی شکیں میں خود نکال لوں گا اپنی مرضی سے.
اچھا پھر حسیب نکیا ٹوپی پکڑ.
کیا مطلب قاری صاحب ؟ یہ غلط ہے
اوئے تیرے سر پر جو ٹوپی ہے وہ پکڑ کر اتار .
جی اچھا.
اب قمیض اتار .
قاری صاحب مراقبہ بتانا ہے یا چھٹی حس ؟
مراقبہ بزرگوں کا کام ہے تو قمیض اتار نتیجے نہ نکال .
ٹھیک ہے .
ناڑہ کھول .
قاری صاحب کہ مطلب تسی تے میری ………
ایہہہہ………… بس یہی ہے چھٹی حس
سمجھ آ گئی ؟
ہاں جی سمجھ آگئی .
تو صرف حضرات اور ……. حضرات یہ حفیظ نام کا جو بچہ تھا یہ بچپن سے ہی طے شدہ باتوں کو دوبارہ چھیڑنے کا عادی تھا.جیسا کہ یہ طے شدہ بات ہے کہ جب کوئی ٹوپی پکڑنے کا کہے تو اپنے سر پر ہاتھ مار کر پکڑتے ہیں اور اگر اپنے سر پر نہ ہو تو دوسرے کے سر پر دیکھتے ہیں وہاں بھی نہ ہو تو دائیں بائیں دیکھتے ہیں کہ کہیں پڑی ہوگی سمجھ میں نہ آئے تو کہنے والے سے پوچھ لیا جاتا کہ محترم کہاں ہے ٹوپی.
لیکن یہ بچہ اس وقت بھی ٹوپی سے مراد وہی لے رہا تھا جو اسکے مطلب کی چیز تھی اور اس نے اپنا ہاتھ بھی اسی ٹوپی کی طرف بڑھایا.
وہ تو استاد شریف آدمی لیکن دور اندیش تھا جان چکا تھا کہ یہ غلاظت کا ڈھیر ہے اسی طرح کی ڈیمو سے سمجھے گا.
اس کے بارے میں مشہور ہے کہ شکم مادر سے باہر آنے کیلئے طے شدہ راستے کو اپنانے کے علاوہ ہر طے شدہ معاملے میں نقص نکالا ہے اس نے.
خیر چھوڑیں وہ بچہ اب بڑا ہوکر حفیظ سے قاری حفیظ بن گیا ہے .
لیکن آج بھی اسی طرح ہر طے شدہ معاملے کو اپنی ذہنیت کے مطابق متنازع بنا دیتا ہے. کبھی آئمہ و فقہاء پر تنقید اور صحابہ پر دشنام طرازی اس نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے
اور اس کے حواری ضرور ویسے ہی چسکورے بچے ہیں جیسا یہ ہوا کرتا تھا
مگر اس کی حرکتوں سے تو یہی لگتا ہے کہ اس کے شریف استاد نے جو ڈیمو ادھوری چھوڑی تھی یہ اپنے حواریوں پر ضرور پوری کرتا ہوگا