لکھاری لکھاری » لکھاری » ڈونلڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کا لالو کھیت 10 نمبر کا خفیہ دورہ اور تین ہٹی کے دہشت گرد(2)

ad

لکھاری میرے مطابق

ڈونلڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کا لالو کھیت 10 نمبر کا خفیہ دورہ اور تین ہٹی کے دہشت گرد(2)


ظفر جی آگے بڑھے۔ میں گھبرا کر پیچھے ہٹا۔لیکن انہوں مجھے گلے لگالیا اور کہا پہلے بتانا تھا نا۔چانکیہ تھیوری کے مطابق دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔اس لئے میں تمہارے ساتھ ہوں۔
۔
میں نے کہا ظفر جی باتیں ہوتی رہیں گی۔یہ بتاؤ کہ دونوں انصافیوں کو سبق کیسے سکھایا جائے۔جس پر ظفر جی بھڑک گئے اور کہا اوئے باندر دے بچے ۔یہ امریکہ نہیں پاکستان ہے۔اور یہ ظفرجی پٹواری کا ڈیرا ہے۔وہ ڈانگ دیکھ رہا ہے ۔اس سے بڑے بڑے کھوتوں کا علاج کیا ہے ۔

میں نے کہا ظفر جی مجھ سے کیا غلطی ہوگئی۔تو ظفرجی نے غصے سے کہا باندر دے پتر توں ایجنٹ بناپھرتا ہے اور مجھ سے پوچھ رہا ہے کہ سبق کیسے سکھایا جائے ۔اوئے ہم اتنے گیانی ہوتے تو نوازشریف نااہل ہوتا۔

میں سمجھ گیا کہ ظفر جی انصافیوں کا کچھ نہیں کرسکتے۔لیکن ظفر جی نے کہا ایک طریقہ ہے اگر تم امریکے سے بیان دلوادو کہ عمران خان اچھا بندہ ہے۔اور اسی کی حکومت آنی چاہیے۔باقی میں مشہور کردوں گا کہ امریکہ کے بیان سے ثابت ہوگیا کہ عمران خان یہودی ایجنٹ ہے۔سادی عوام مان بھی لے گی اور محسن اور وکیلا منہ چھپاتے پھریں گے۔لیکن میں نہیں مانا اور کہا کہ ظفر جی یہ نہیں ہوسکتا ۔عمران خان ہمیں برا بھلا کہتا ہے۔یہ طالبان خان ہے ۔ہم اس کی تعریف نہیں کریں گے۔

چل تے فر پراں دفع ہو۔نئیں تے میاں دی نااہلی دی سوں تیری او حالت کراں گا کہ سی آئی اے دی آنڑ والی نسل وی گنجی پیدا ہوے گی۔میں مایوس ہوکر جانے لگا۔

تو ظفر جی نے کہا دو منٹ رک زرا۔مجھے امید کی کرن نظر آئی۔لیکن ظفر جی نےایٹم بم گرادیا۔اور کہا تیرا آج کل ویسے بھی کوئی کم شم ہے نئیں اور میں وزیر اعظم نواز شریف وزیر اعظم نوازشریف دے نعرے لالا کے تھک گیا ہاں۔آج کے بعد تم وزیر اعظم نواز شریف کے نعرے لگاؤگے۔

خبردار بھاگنے کی کوشش نہ کرنا ۔ورنہ میرے جنگلی کتے تمہاری گوری بوٹی ٹوٹے ٹوٹے کر کے کھائیں گے۔اس کے بعد ایک مدت تک میں وزیر اعظم نواز شریف کے نعرے لگاتا رہا اور پھر ایک دن موقع تک کربھاگ نکلا۔

بھاگتے بھاگتے جانے کس طرح لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد پہنچ گیا۔وہاں عوام کا جم غفیر جمع تھا ۔مجھےلنگر بٹنے کا گمان ہوا۔کئی دنوں کا بھوکا تھا۔ظفر جی کی کڑہائیاں بھی کھوتا کڑہائی کی افوہ کی وجہ سے نہیں کھائیں تھی۔بہرحال میں گراؤنڈ کے اندر گیا ۔تو وہاں لنگر نہیں جلسہ ہورہا تھا۔اس لئے واپسی کیلئے مڑا تو گیٹ پر کھڑے لڑکوں نے روک لیا۔اور کہا بھائی کا خطاب سن کر جانا ۔میں نے کہا میں امریکی ہوں۔آپ کی پارٹی کا نہیں ہوں۔لنگر کے چکر میں آیا تھا۔مجھے جانے دو۔لیکن ایک لڑکا کرخت لہجے میں بولا۔ابے جیسے بھی آیا ہے نا اب آگیا ہے۔سن بے بھائی کا خطاب سنے بغیر توں نہیں جاسکتا۔چل کوئی بھی کرسی پکڑ لے۔اور ہاں نعرے زور زور سے لگائیو۔ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔

میں بیٹھ گیا۔اور پھر بھائی کے خطاب کے دوران میری حالت غیر ہوگئی۔میرے کان بج بج کر باجا ہوگئے ۔میرے دماغ کی نسیں شل ہوگئیں۔ڈپریشن نے میری رہی سہی قوت بھی ختم کردی۔اوپر سے بھائی کا گانا۔کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہ تھا۔پانی پانی کوئی پانی دے دو۔میں نے چلانا چاہا لیکن بول نہ پایا۔

سامنے ایک لڑکی پانی پی رہی تھی ۔اسے اشارے سے بتایا کہ پانی پینا ہے۔وہ جانے کیا سمجھی۔کچھ دیر میں اس کا بھائی آگیا۔بدقسمتی سے وہ سیکٹر انچارج نکلا۔مجھے قریبی یونٹ آفس لے جاکر ایسا دھویا گیا کہ کوئی کپڑے بھی ایسے نہ دھوتا ہوگا۔

سیکٹر انچارج نے کہا دھلائی تو ویسے بھی ہونی ہے۔لیکن میں تمہیں تین آپشن دیتا ہوں۔جو منتخب کروگے۔ویسی ہی ٹریٹمنٹ دیں گے۔
1:جماعتی ہو
2:پٹھان ہو
3ایجنسی کے ہو

اب میں گورا چٹا انگریز کسی پٹھان سے کم نہ تھا۔میں نے کہا کہ ایجنٹ ہوں۔لیکن امریکہ کا ہوں۔لیکن کسی نے یقین نہ کیا۔اور میری دھلائی کرتے رہے۔جب مجھ میں مزید سکت نہ رہی تو میں نے دماغ چلایا۔اور سانس روک لی۔وہ مجھے مردہ سمجھ کر بوری میں ڈال کر لیاری ندی کے کنارے کچرا کنڈی میں پھینک آئے۔

میں وہاں سے بھی کسی طرح نکل بھاگا۔اور امریکی سفارتخانے پہنچا انہوں نے پہچاننے سے انکارکردیا۔بس بڑی مشکلوں سے یقین دلایا کہ میں ان کا ایجنٹ ہی ہوں۔

اب میں نے امریکہ واپسی کی درخواست دے ڈالی۔اور ٹکٹ کنفرم ہونے کے بعد میں نے سوچا جاتے جاتے بدلا لیا جائے۔

ایک دن میں وکیلے کے گھر پہنچا۔گھنٹی بجائی تو وکیلا باہر نکلا اور وکیل اخترمجھے دیکھ کر گھبراگیا۔میں نے کہا مرنے کیلئے تیار ہوجاؤ۔تو وکیلے نے کہا کہ یہ سب اس نے کسی کے کہنے پر کیا تھا ۔میں نے کہا چلو مجھے ان تک لے چلو۔اس نے کہا آؤ بیٹھو۔اور اپنی پھٹ پھٹی بائیک پر تین ہٹی کے پل کے پاس لے گیا ۔وہاں کچھ عجیب و غریب حلیے کے لوگ تھے۔وکیلے نے کہا یہ سب ایجنسی کے لوگ ہیں۔میں نے سب کو للکارا اور کہا ایک ایک ماردوں گا لیکن وہ لوگ نہیں ڈرے ۔بلکہ آگے آنے لگے اور مجھ پر پل پڑے ۔اور میرے کچھے کو چھوڑ کر سارے کپڑے بھی اتار لئے ۔وکیلا اڑن چھو ہوگیا۔بعد میں معلوم ہوا وہ سب نشئی تھے۔جن کو چرس اور گانجے کا سوا کچھ سمجھ نہیں آتا ۔وہ کئی دن تک مجھ سے بھیک منگواتے رہے اور تین چرسی مجھ پر نظر رکھتے تھے۔اب میں کچھے کا عادی ہوگیا تھا۔اور کپڑوں سے بے نیاز تھا۔پھر ایک دن میں موقع ملتے ہی کچھے میں ہی بھاگ نکلا۔

لیکن سب ہی مجھے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔جو مجھے سمجھ نہ آیا۔بھاگتے بھاگتے میں ناظم آباد جا پہنچا ۔وہاں مجھے سجاد بن قاسم نظر آیا ۔اس نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا۔میں نے کہا آج نہیں چھوڑوں گا۔سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔لیکن سجاد بن قاسم نے کسی کو فون کیا اور پھر کہا ابے پہلے پکڑ تو لے اب وہ آگے آگے میں اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا۔پھر وہ ناظم آباد نفسیاتی اسپتال میں گھس گیا۔میں بھی پیچھے پیچھے چلاگیا ۔سجاد بن قاسم ڈاکٹرز کیساتھ کھڑا تھا ۔مجھے دیکھتے ہی ڈاکٹر کو بولا یہی ہے وہ پٹواری جو میاں نواز شریف کی نااہلی کا صدمہ برداشت نہیں کرسکا اور پاگل ہوگیا ہے ۔صرف کچھے میں گھوم رہا ہے ۔ڈاکٹر بولا اچھا تو فون پر اس کے متعلق بتایا تھا۔پکڑ لو اس کو۔اور پھرمجھے پاگل خانے بھیج دیا گیا۔جہاں سے بھاگنا ناممکن تھا۔لیکن میں کسی نہ کسی طرح نکل بھاگا۔

اب میں امریکی سفارتخانے پہنچا اور ایمرجنسی ٹکٹ لی اور بدلہ بھول کر واپسی کی راہ لی۔ایئرپورٹ پر پہنچا ۔فلائٹ میں ابھی وقت تھا۔کہ مجھے محسن حدید نظر آیا ۔وہ سیک سیمینار میں شرکت کیلئے آرہا تھا۔میرے اندر کا امریکی اور بدلہ جاگا۔میں نے آگے بڑھا ہی تھا ۔کہ محسن حدید نے دیکھ لیا۔اور چلانا شروع کردیا کہ یہ ریمنڈڈیوس کا بھائی اور بلیک واٹر کا ایجنٹ ہے۔بیگناہ پاکستانیوں کو مارنے پاکستان آیا ہے۔بس پھر کیا تھا بھگدڑ مچ گئی ۔میں ٹھوکر کھا کر گر پڑا۔میں گرا ہی تھا کہ عامر خاکوانی اُدھر آنکلے اور آگے جانے کیلئے انہوں نے میرے سینے پر پاؤں رکھا ۔مجھے ایسا لگا کسی نے پہاڑ رکھ دیاہو۔میری پسلیاں ٹوٹ گئیں۔آنکھیں ابل پڑیں۔مجھے فوری طبعی امداد دی گئی۔اور پہلی فلائٹ سے میں امریکہ آگیا۔

پھر دنیا کے درجنوں ممالک گیا۔سی آئی اے کا سربراہ بنا لیکن کبھی پاکستان جیسے دہشت گردوں سے پالا نہیں پڑا ۔

اچھا تو یہ ہے اصل کہانی۔ٹرمپ نے انتہائی غصے سے کہا ۔

اب میں خود جاؤں گا اور ان کو سبق سکھاؤں گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلہ کن لہجے میں کہا ۔پاکستان سے واپس آکر میں اپنی پالیسی کا اعلان کروں گا۔

پولے پولے ڈورے نے کہا صدر صاحب ایسا نہ کریں آپ ان کو نہیں جانتے۔

تم ٹرمپ کو نہیں جانتے ۔مجھ سے بڑی فلم کوئی نہیں۔میں ٹپوری نمبر ون ہوں۔میری پاکستان کی ٹکٹ کرائی جائیں۔

میں پاکستان جاکر بتاؤں گا کہ نواز شریف کو کیوں نکالا گیا۔
جماعت اسلامی انقلاب کیوں نہیں لاپارہی۔
سندھ حکومت یا چور حکومت۔
۔
میں آرہاہوں پاکستانیو! روک سکو تو روک لو۔
۔
۔
جاری ہے۔
۔
اگلی قسط میں پڑھیں۔
ٹرمپ کراچی میں
ٹرمپ کی میمن مسجد کے امام سے کہا بات ہوئی؟
تین ہٹی کے چرسی ٹرمپ کے شاگرد کیسے بنے؟
لیاقت آباد میں ٹرمپ کو چونا کس نے لگایا؟
ٹرمپ پٹواری کیوں بنا؟
فرنود عالم اور ٹرمپ کی فکری نشست کا احوال۔
ٹرمپ نے عدنان کاکڑ کو دیکھ کر کیا کہا؟
ٹرمپ کی ثاقب ملک سے کیا بات ہوئی؟
۔
یہ سب اور بہت کچھ
تنویر اعوان کے قلم سے