ڈونلڈ ٹرمپ کا لالو کھیت 10 نمبر کا خفیہ دورہ اور تین ہٹی کے دہشت گرد

ad



ad

لکھاری میرے مطابق

ڈونلڈ ٹرمپ کا لالو کھیت 10 نمبر کا خفیہ دورہ اور تین ہٹی کے دہشت گرد

  • 1
    Share

سی آئی اے کے ہیڈکوارٹر میں انتہائی اہم اور ٹاپ سیکرٹ میٹنگ چل رہی تھی۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور خفیہ ایجنسیوں کے اہم ترین آفیسرز سر جوڑے بیٹھے تھے۔میٹنگ کا ون پوائنٹ ایجنڈا تھا کہ دہشت گردی کا خاتمہ کیسے کیا جائے.

مختلف تجاویز آنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی آئی اے کے سربراہ پولے پولے ڈورے سے پوچھا کہ تمہاری کیا رائے ہے؟

میں سمجھتا ہوں پاکستان سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کئے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔دنیا میں سب سے ذیادہ اور خطرناک دہشت گرد پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔پولے پولے ڈورے نے بلیک کافی ود شکر کی چسکیاں لیتے ہوئے جواب دیا۔

تم اتنا یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو؟ میری ان کے وزیر اعظم نواز شریف سے بات ہوئی ہے ۔وہ تو سیدھا سادا سا بندہ ہے۔یہ لوگ دہشت گرد کیسے ہوسکتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے حیرانگی سے پوچھا۔

کیوں کہ انٹیلیجنس سروس کے دوران میں پاکستان کے شہر کراچی میں خدمات انجام دے چکا ہوں ۔اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہاں انتہائی خطرناک دہشت گرد رہتے ہیں۔پاکستان نے کراچی میں دہشت گردوں کو پناہ دی ہوئی ہے۔پولے پولے ڈورے نے جواب دیا۔

مثلاً؟؟ کوئی تجربہ شیئر کرو۔تم نے کیا دیکھا؟ تم کہاں رہے؟ تم نے ان کو کیسا پایا؟ تاکہ ہم کوئی فیصلہ کرسکیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔

یہ ایک دردناک کہانی ہے ۔اپنی سروس کے آغاز میں ہی مجھے کراچی جیسے خطرناک شہر میں بھیجا گیا۔میری ذمہ داری لالو کھیت (لیاقت آباد) 10نمبر سے تین ہٹی کے علاقے میں تھی۔میرا کام پاکستان خفیہ ایجنسی کے لوگوں کو شناخت کرنا تھا۔

کچھ عرصہ میں ویسے ہی مٹرگشت کرتا رہا اور پھر ایک دن دہلی ربڑی کے پاس مجھے ایک تھری پیس سوٹ میں ملبوس نوجوان ملا۔اس نے اپنا نام وکیل اختر بتایا اور خود کو آئی ایس آئی کا میجر ظاہر کیا۔اس نے کہا وہ میرے متعلق سب کچھ جانتا ہے۔

میں گھبرا گیا۔جس پر اس نےکہا کہ باہمی تعلقات میں شائستگی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔اس لئے جو کچھ ہے اسے دے دوں ۔میرے پاس دس ہزار ڈالر تھے وہ اسے دے دئیے۔اس نے کہا اب دوبارہ نظر مت آنا ورنہ۔۔۔اور چلاگیا۔

میں پریشان کھڑا سوچ رہا تھا کہ اسے کیسے معلوم ہوا کہ میں کون ہوں۔اسی اثنا میں ایک صاحب آئے۔اور پوچھا وہ یوتھیا کیا کہہ رہا تھا؟ میں نے کہا کون یوتھیا؟ وہی جو آپ کے پاس کھڑا تھا ۔ایک نمبر کا انصافی ہے۔ضرور میاں نوازشریف کے خلاف پروپیگنڈا کیا ہوگا۔اس کی باتوں میں بالکل نہ آنا۔

میں نے پریشان ہوکر پوچھا، اچھا وہ تو تم اس کو جانتے ہو؟ ہاں ہاں بہت اچھی طرح ہر وقت وی آر گرین وی آرگرین اور عمران خان عمران خان کرنے کے علاوہ کوئی کام دھندا نہیں کرتا۔پورا ویلا ہے۔

اب میں سمجھ گیا کہ وکیل اختر نامی وہ شخص مجھے چونا لگاگیا ہے۔پھر اس اجنبی نے پوچھا آپ نے اسے پیسے کیوں دئیے؟؟ وہ بس میں نے وی آرگرین کیلئے دیا ہے ہم گرین ہمارے گرین سب ہی گرین کے ماٹو کیلئے دیا ہے۔اچھا جوان تم کون ہے؟

میرا نام سجاد بن قاسم ہے میں دنیا کی سب سے بڑی اور عظیم الشان انقلابی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن مد ظلہ عالیہ کا سپورٹر ہوں۔اوہ! اچھا اچھا ۔لیکن یہ سب سے بڑی سیاسی جماعت کیسے ہے؟ میں نے پوچھا۔

تو اس نے غصے سے آنکھیں دکھائیں اور کہا یوتھیا نہ بن جو کہہ رہاہوں چپ چاپ مان لے اور شیر کے نعرے لگا ہک واری فر شیر۔نہیں تو گلوبٹ کو بلا کر تیرا گیم کرادوں گا۔

مرتا کیا نہ کرتا میں نے میاں نواز شریف کے ترانے وجائے ۔جنہیں سن کر لیاقت آباد سیکٹر کے لڑکے آگئے۔سجاد بن قاسم تو اڑن چھو ہوگیا اور مجھے دھر لیا گیا۔سیکٹر آفس لے جاکر خوب دھلائی کی گئی۔اور مجھے ایم کیو ایم لندن کا کارندہ مان لیا گیا۔اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوائے گئے۔

بڑی مشکلوں سے ان کو یقین دلایا کہ میں ایسا نہیں ہوں۔اور الطاف بھائی سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس پر بھی انہوں نے مارا اور کہا کہ خاموش ہوجا نام نہ لینا دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔

رینجرز نے سن لیا تو تیرے ساتھ ہم بھی مارے جائیں گے۔چل نکل یہاں سے اور دوبارہ کبھی نظر مت آنا۔بس میں وہاں سے بھاگا۔اور امریکی قونصل خانے میں چلاگیا۔اب میں نے بدلہ لینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

پہلے مجھے وکیل اختر سے نپٹنا تھا ۔کسی نے بتایا کہ محسن حدید تحریک انصاف کا کٹر سپورٹر ہے اور اس کی بہت چلتی ہے میں وکیل اختر کی شکایت لیکر اس کے پاس گیا۔مجھے امید تھی کہ وہ میرا ساتھ دے گا۔

لیکن محسن حدید نے میراہی مزاق بنانا شروع کردیا اور کہا کہ لخ لعنت تیری ایجنٹی پر ۔خود کو امریکہ کا ایجنٹ کہتا ہے اور وکیلے نے تجھے چونا لگا دیا۔یہاں مجھے پتا چلا کہ اس فراڈ کو وکیلا بھی کہتے ہیں۔

میں نے پتا لگایا کہ انصافیوں کا دشمن کون ہے؟ مجھے کسی نے رعایت اللہ فاروقی کا بتایا لیکن رعایت اللہ فاروقی کے بلاک سے دنیا ڈرتی ہے ۔اس لئے میں نے ملاقات کینسل کردی کہ کہیں میں عملی زندگی میں بھی بلاکا نہ جاؤں۔

دوسرے نمبر پر کسی نے ظفر اقبال اعوان اور ظفر جی کا بتایا کہ وہ مرد قلندر بہت پہنچی ہوئی ہستی ہیں۔اڑتی ہوئی چڑیا کے پر گننا اور انصافیوں پر جگتیں لگانا ان کے بائیں ہاتھ کمال ہے۔

بس دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔اس لئے میں ظفر جی سے ملنے پہنچا۔وہ اس وقت وزیر اعظم نواز شریف وزیر اعظم نواز شریف کے نعرے لگارہے تھے۔میرے پہنچنے پر مجھے بھی نعرے لگانے کا کہا اور ایک گھنٹے تک نعرے لگوانے کا بعد آنے کا مقصد دریافت کیا۔

میں نے عرض کی کہ آپ کی سیاسی جماعت کے ایک بندے سجاد بن قاسم. کی وجہ سے میری دھلائی ہوئی ہے مجھے انصاف دلایا جائے۔یہ سننا تھا کہ ظفر جی نے اپنی ڈانگ اٹھائی اور وہ دھویا کہ نانی یاد آگئی۔

ظفر جی نے کہا ایک پٹواری کے گھر کچھ کہنا لیکن انصاف کا نام نہ لینا ورنہ کتوں کیساتھ باندھ دوں گا اور کھیتوں بیل کی جگہ تجھ سے ہل لگواؤں گا فرنگی۔

میں نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور پاؤں پکڑ کر معافی مانگی اور کہا کہ میں یہاں PTI کے محسن حدید اور وکیلے کے خلاف ہاتھ ملانے آیا ہوں ہم مل کر ان کا مقابلہ کریں گے۔

یہ سننا تھا کہ ظفر جی کھڑے ہوئے اور کہا اٹھ جلدی اٹھ۔

میں اٹھ کھڑا ہوا اور ڈر گیا کہ جانے اب کیا ہوگا۔
۔
جاری ہے۔
اگلی قسط کل
جس میں
پولے پولے ڈورے کیساتھ ایم کیو ایم کے جلسے میں کیا ہوا؟
۔
تین ہٹی کے چرسیوں نے ڈورے کے کپڑے کیوں اتارے؟
۔
ڈورے کی باتوں پر ٹرمپ نے کیا ردعمل دیا؟
۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے لالوکھیت آنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
۔
لالوکھیت آنے کے بعد ٹرمپ کیساتھ کیا ہوا؟؟


  • 1
    Share