لکھاری لکھاری » لکھاری » چنیوٹ کا واقعہ ،نام نہاد غازی اور تبلیغی جماعت

ad

لکھاری میرے مطابق

چنیوٹ کا واقعہ ،نام نہاد غازی اور تبلیغی جماعت


جھریوں بھرا چہرہ، لرزتے ہاتھ، جھکی ہوئی کمر، عمرکے چورانوے برس پر پہنچا یہ مرد مجاھد جسکا دل ابھی بھی جوان ہے

امیرالمؤمنین کی طرف سے کئے گئے اعلان پر بے چینی کا شکار ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ لشکر #اعلاءکلمۃاللہ کیلئے نکلے اور یہ مردِ مجاھد گھر میں بیٹھا رہ جائے.

کپکپاتے ہاتھوں سے زادراہ تیار کرنے کے بعد مسجد نبوی میں پہنچ کر اپنے عزم کا اظہار کرتے ہیں. بیٹے کو خبر پہنچی، دوڑاتا آیا اور عرض کی………!
اباجان، آپ علیل ہیں…. طویل العمری کے باعث کمزوری کا شکار ہیں… آپ کی صحت آپ کو اس تھکا دینے والے سفر کی اجازت نہیں دیتی،
لہذا آپ ارادہ ترک کر دیجئیے اور گھر میں آرام کیجئیے،
بات معقول ہے سو تمام لوگ ان کے بیٹے کے ساتھ مل کر ارادہ ترک کرنے پر اصرار کر رہے ہیں.

قربان جاؤکہ لوگوں کے اصرار کے باوجود انکا پختہ عزم انکے چہرے سے جھلک رہا ہے.. جب اصرار بڑھا تو ان کی زبان حرکت میں آئی اور نہایت پرسکون انداز میں گویا ہوئے.
لوگو…. مجھے میری صحت تو اس سفر کی اجازت نہیں دیتی۔ مگرمیں کیا کروں مجھے میرے رب کا یہ فرمان گھر میں بیٹھنے بھی نہیں دیتا..
(انفروا خفافا وثقالا، وجاھدو باموالکم وانفسکم)
ترجمہ: اللہ کے راستے میں نکلو ہلکے ہو یا بوجھل اور اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرو..

پورا لشکر بزرگ کی بات سن کر چپ ہوگیا کہ اللہ کے دین کو قریہ قریہ پہنچانے کا عزم ان چورانوے سالہ بزرگ کو گھر بیٹھنے سے روک رہا تھا،
قافلہ روانہ ہوا، طویل عرصے تک سینکڑوں میل کا سفر طے کرنے کے بعد اس بزرگ کا انتقال مدینہ سے ہزاروں میل دور استنبول میں ہوتا ہے اور وہیں آخری آرام گاہ میسر آئی..

یہ بوڑھا جسے آج دنیا حضرت ابو ایوب انصاری کے نام سے جانتی ہے.میزبان رسول کا لقب پانے والے یہ صحابی دنیا سے جاتے جاتے جو درس دے کر گئے تھے آج ساڑے چودہ سو سال بعد اسی سبق پر کراچی کا #بزرگ_مجاھد عمل پیرا ہو رہا ہے.

منظر پھر وہی ہے ایک ستر سالہ بزرگ سامان تیار کر رہا ہے، پوتے پوتیاں حیران ہیں کہ بابا جی کدھر جانے کی تیاریوں میں ہیں کہ ابھی ہفتہ قبل ہی ہسپتال سے ڈسچارج ہو کر گھر آئے ہیں.
ڈاکٹر نے مکمل آرام کا کہا ہے. لیکن یہ تو مہینوں گھر سے باہر رہنے کی ٹھانے بیٹھے ہیں،

گھر والوں کی طرف سے استفسار پر اس بزرگ نے سفید اجلا لباس زیب تن کئے اور عمامہ سے سجے باوقار چہرے کے ساتھ جواب دیا رائیونڈ جا رہا ہوں کہ وہاں سے ایک سال کی تشکیل کروا کر ملک کے طول و عرض میں اللہ کے پیغام کو عام کروں گا،
آقا مدنی صلی الله عليه وسلم کی سنتوں کا پرچار کرتے ہوئے لوگوں کی زندگیوں کا رخ دنیا کی محبت سے موڑ کر اللہ کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کروں گا،

بیٹا کہتا ہے : ابا جان آپ کو معلوم ہے نا کہ ڈاکٹر نے کیا کہا تھا……؟
بابا جی کا جواب ابو ایوب انصاری کی یاد تازہ کر دیتا ہے، کہ بیٹا قرآن کی آیت مجھے گھر بیٹھنے نہیں دیتی،
الغرض بابا جی، میرے نبی کے قول
” اے فاطمہ غم نا کر تیرے ابا کا لایا ہوا دین ہر کچے پکے گھر میں پہنچ کر رہے گا” کو عملی جامہ پہنانے ، قریہ قریہ نگر نگر پہنچانے کا عزم اور نبی الخاتم والا غم لیے ایک بار پھر میزبان رسول کی سنت زندہ کرتے ہوئے کراچی سے سینکڑوں میل دور چنیوٹ کے علاقے میں پہنچ جاتے ہیں..

مگر عبداللہ ابن اُبَی کے بیٹے کہاں گوارہ کر سکتے تھے یہ تو رِیت چلی آ رہی ہے کہ جب جب کوئی پروانہ آمنہ کے لعل کا لایا ہوا دین پھیلانے کے لئے نکلا تو انکی آنکھ کا کانٹا بن گیا.
کوششیں ازل سے جاری تھیں لیکن شدت اب نظر آئی اور ابو ایوب انصاری کے نقش قدم پر چلنے والے درویش کو نہایت فرعونیت و سفاکیت کا مظاھرہ کرتے ہوئے ظالمانہ طریقے سے شہید کر کے اپنی ذہنی خباثت کا ثبوت دیا گیا.
اس پر ستم یہ کہ بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اس ملعون قاتل کو غازی جیسا مقدس لقب دے کر پوری دنیا پر منکشف بھی کر دیا کہ محبتوں کے امین کون لوگ ہیں اور نفرتوں کے سوداگر کون ہیں

بڑے تبلیغی احباب کا جو بھی مشورہ ہو سر آنکھوں پہ کہ انکا مزاج ہی درگزر کرنا، معاف کرنا، اور جھک جانا ہے لیکن مقامی وکلاء اور بااثر طبقے پر لازم ہے کہ اس نام نہاد غازی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے سزا دلوا کر نشان عبرت بنوائیں.
اس نازک وقت پر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بات کی کھوج لگائی جائے کہ ایسی غلاظت اس نام نہاد غازی کے ذہن میں کس نے اور کہاں انڈیلی،کون یہ نفرتیں گھول گھول کر لوگوں کو پلا رہا ہے، اس سوچ کی بیخ کنی بھی از حد ضروری ہے۔

باقی وہ بزرگ شیر تو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش کو پورا کرتے ہوئے اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کرگئے. اور اس وقت یقینا پیارے سرکار صلی علیہ وسلم کی خدمت میں اپنوں کی ریشہ دوانیوں کا گلہ شکوہ کر رہے ہوں گے۔

عزیز دوستو ………!
آؤ عہد کرو کہ اس بزرگ کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دینا. یہ لوگ جو خمیدہ اور ناتواں کندھوں پر بسترے لئے گلی گلی پھرتے ہیں ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ یہ اپنے رب کے کتنا قریب ہوتے ہیں.. انکی ناقدری کہیں ہمیں اللہ حضور راندہ درگاہ نہ بنا دے..
اگر ہم انکے ساتھ نہیں چل سکتے تو کم از کم دل سے انکی قدر کریں انکے پاس بیٹھیں، انکی بات سنیں.
واللہ ایسا کرنے سے بھی قلبی سکون حاصل ہوگا ،
ہو سکتا ہے کہ انکے ساتھ گزارے گئے چند لمحے ہماری نجات کا ذریعہ بن جائیں ۔

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات