لکھاری لکھاری » لکھاری » جماعت اسلامی اور عمران خان کے درمیان مشترکات

ad




ad




اشتہار




لکھاری میرے مطابق

جماعت اسلامی اور عمران خان کے درمیان مشترکات


عمران خان خان پہلی بار 2002 میں ممبر اسمبلی منتخب ہوۓ اور قاضی صاحب رح کی خواہش پر اپنا ووٹ ایم ایم اے کو دیا اور 5 سال قاضی صاحب سے دوستی نبھائی۔۔

چاھتے تو پرویز مشرف سے ہاتھ ملا کر ایک ایسی اسمبلی میں وزیراعظم بھی بن جاتے جس اسمبلی میں جمالی، شوکت عزیز اور چوھدری شجاعت وزیراعظم رہے ہیں کم از کم وزیر خارجہ کی پوسٹ تو پکی تھی۔

افغانستان پر امریکی حملہ ، چیف جسٹس کی معطلی، لال مسجد آپریشن، ججز بحالی تحریک، 2008 الیکشن بائیکاٹ، ریمنڈ ڈیوس ایشو، سلالہ چیک پوسٹ حملہ، ایبٹ آباد حملہ، نیٹو سپلائی بندش، ڈراؤن حملوں کی مذمت، ڈان لیکس، کراچی آپریشن، بجلی بحران، مہنگائی، پانامہ لیکس، کرپشن کی روک تھام، آرٹیکل 62/63، نئی امریکن افغان پالیسی, اصلاحات اور اداروں کی آزادی جیسے ایشوز سمیت تمام اہم قومی اور بین الاقوامی معاملات میں عمران خان اور جماعت اسلامی کا مؤقف تقریبآ یکساں رہا ہے…

دونوں جماعتیں اپوزیشن میں ہیں اور دونو کے پی کے میں حلیف بھی۔
اگر میں مافیا کے خلاف دونو جماعتوں کے مابین سیاسی اشتراک عمل کی بات کرتا ہوں تو جے آئی کے ریجڈ متشدد و متکبر ملاؤں اور پی ٹی آئی کے سڑیل کارکنوں کو تکلیف کیوں ہوتی ہے؟؟