لکھاری لکھاری » لکھاری » ٹرمپ اتنے غصے میں کیوں ہے ؟ملک جہانگیراقبال

ad




ad




اشتہار




لکھاری میرے مطابق

ٹرمپ اتنے غصے میں کیوں ہے ؟ملک جہانگیراقبال


آج سے پانچ سال قبل جب ایک مہینہ وار شائع ہونے والے عالمی جریدےمیں کالم لکھنا شروع کیا تو مجھے افغانستان اور پاکستان کی قبائلی پٹی پر فوکس رکھنے کا کہا گیا ، میرا بچپن جہاں گزرا ہے وہاں پاکستانی قبائلی اور افغانیوں کی کثرت ہے اسلئے مجھے انکی نفسیات اور کلچر کبھی بھی پرایا نہیں لگا ، لیکن جب پروفیشنلی اس فیلڈ میں قدم رکھا تو افغان میڈیا کے ذریعہ معلوم ہوا کہ افغانی تو پاکستان سے نفرت کرتے ہیں ، جب یہ وجہ اپنے ان پاکستانی دوستوں سے دریافت کی جو سوچ میں ٹی ٹی پی سے مماثلت رکھتے تھے تو انھوں نے بتایا کہ کیوں کہ پاکستان نے اپنی سرحد امریکہ کو دی اسلئے افغانی پاکستان سے نفرت کرتے ہیں .

یہ وجہ میرے لئے حیران کن تھی ، کیوں کہ امریکہ کے خلاف لڑنے والے افغان طالبان نے آج تک پاکستان پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا ، پاکستان کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا تھا اور نا ہی ٹی ٹی پی کو قبول کیا تھا ، یعنی اگر امری
کہ کے خلاف لڑنے والے سابق حکومت کے حکمران پاکستان کے خلاف نہیں ہیں تو پھر افغانیوں کو غصّہ کس بات کا ہے ؟؟
بہرحال کچھ ہی عرصۂ میں اس غصّہ کی وجہ معلوم ہوگئی ، اور مزے کی بات یہ کہ میڈیا میں ان افغانیوں کو لایا جاتا ہے جو پچھلے ستر سال سے پاکستان کے خلاف ہی تھا ، کبھی وہ سوویت یونین کے اتحادی رہے تب پاکستان پروفیسر ربانی اور حکمتیار کے ساتھ کھڑا تھا ، کبھی وہ احمد شاہ مسعود کے گروپ میں کھڑے تھے تو پاکستان ملا عمر کے ساتھ کھڑا تھا ، اور پھر امریکہ کے آنے کے بعد جب وہ شمالی اتحاد کے پلڑے میں بیٹھے تھے تو پاکستان اندرونی طور پر طالبان کے ساتھ تھا .

یعنی ان افغانیوں کو یہ مسئلہ نہیں رہا کہ پاکستان نے امریکہ کو سرحد کیوں دی ..
یہ وہ پروپیگنڈا ہے جو عام پشتون یا افغان جنگ سے نابلد حضرات کو پڑھایا جاتا رہا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ یہ وہ افغانی ہیں جنھوں نے امریکہ کو دونوں ہاتھوں کو کھول کر ویلکم کیا ، جو طالبان حکومت کے سخت خلاف تھے ، اب جب بقول امریکہ و بھارت پاکستان آج بھی افغان طالبان کی حمایت کرتا ہے تو اس بات کو لیکر ان کا غصّہ کرنا سمجھ بھی آتا ہے کہ اس طرح ان پر جو ڈالرز کی بارش ہورہی ہے وہ رک جاۓ گی .

جب کہ پاکستان میں موجود نام نہاد قوم پرست جو پاکستان کے افغان سے تعلقات کو لیکر اپنا منجن بیچتے ہیں انکی جڑیں ناپیں تو یہ بھی اسی طبقہ سے جا ملتی ہیں جو کبھی افغانستان میں ثور انقلاب لانے کے چکر میں ناچ ناچ کر گھنگرو توڑ چکے ہیں ، یہ طبقہ آپکو پاک افغان تعلقات کی تاریخ سن اسی کی دہائی سے پڑھانا شروع کرتا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں جو جہاد کروایا وہ امریکی اشیر باد سے تھا تب سے ” افغانستان بیچارہ ” تباہی کی زد میں ہے .

پر یہ طبقہ کبھی بھی آپکو یہ نہیں بتائے گا کہ اس جنگ کی ابتدا تو افغانستان نے سوویت یونین اور بھارت سے مل کر بلوچستان میں مسلح بغاوت کو سپانسر کر کے ہی کردی تھی . اور پھر اس کے بعد سوویت یونین اور افغانستان کے حکمرانوں کا جو پاکستان نے حشر کیا وہ تاریخ میں تا قیامت محفوظ رہے گا .

آج تقریباً تیس سال بعد تقریباً وہی حالات ہیں ، افغانستان میں آج انہی کی حکومت ہے جنکی اسی کی دہائی میں تھی ، تب بھی ان افغان حکمرانوں کو بھارت اور سوویت یونین پر بھروسہ تھا ، اور آج بھی بھارت اور سوویت یونین کی جگہ سپر پاور بننے والے امریکہ پر بھروسہ ہے . تب بھی افغانستان نے ان دوسری طاقتوں کی آشیر باد سے پاکستان کو چھیڑنے کی غلطی کی تھی اور آج بھی وہ یہی کر رہا ہے .
ڈونلڈ ٹرمپ نامی احمق کو معلوم ہونا چاہیئے کہ سوویت یونین کو توڑنے کے لئے تب صرف ایک امریکہ کا صرف پیسہ اور ہتھیار لگا تھا جب کہ آج روس اور چین امریکہ کے خلاف افغان طالبان کے ساتھ کھڑے ہونے کو بلکل تیار کھڑے ہیں .

جب کہ وہ منجن فروش جو افغان طالبان کو پاکستانی طالبان سے تشبیہ دے کر افغان طالبان کو دہشتگرد کہ رہے ہیں ان منجن فروشوں کی دکان آج سے دس سال قبل ہی بند ہو چکی ہے . جس طرح بھارت اور امریکہ نے شمالی اتحاد کو اپنا جنگی اثاثہ بنا کر رکھا ہے ٹھیک اسی طرح پاکستانی ریاست اور عوام افغان طالبان کو افغانستان میں اپنی بقاء کے لئے ضروری سمجھتے ہیں اور سمجھتے رہیں گے ، کیوں کہ وقت نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب بھی افغانستان میں افغان طالبان کمزور ہوۓ تب تب بلوچستان اور قبائلی پٹی پر بھارت نے اسی افغانستان کی مدد سے سازشیں کی ہیں

.
جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ سمیت افغانستان میں اندھی سرمایہ کاری کرنے والا بھارت و امریکی کانگریس اسی غصے میں ہیں کہ اتنے سالوں بعد بھی وہ افغانستان میں پاکستانی کردار کی اہمیت ختم نہیں کر پائے اور نہ ہی آئندہ کبھی کر پائیں گے