یہ کراچی ہے یا بغداد؟؟ ،تنویر اعوان


پیپلزپارٹی باکمال سیاسی پارٹی ہے۔اس کے دور حکومت میں عوام مختلف مسائل کی وجہ سے مرتے مر گئے لیکن پی پی نے بھٹو کو زندہ رکھا ہوا ہے۔اور یہی پی پی کا کمال ہے۔

کراچی پر پی پی اور اپنوں کی مہربانیاں بے شمار ہیں ۔لیکن میں صرف ان احسانات اور پریشانیوں کا زکر کروں گا ۔جن کی وجہ سے مجھے روز تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔

ہمارے بلدیہ ٹاؤن میں ایک عددرشیدآباد کا علاقہ ہے۔گھر سے رشید آباد تک جو راستے، کچرے اور سیوریج کی المناک کہانی ہے اسے رہنے دیں۔رشید آباد ایک بنیادی گزرگاہ ہے جہاں سے کم بیش کراچی کی اکثر پسینجر بسیں گزرتی ہیں۔

یہاں کی صورتحال یہ ہے کہ ہر دوقدم پر سڑک میں کھڈے ہیں۔جبکہ خاص قسم کے خلوص کی وجہ سے سڑک خود ہی بل کھاتی بن گئی ہے۔کہیں سے اوپر کہیں سے نیچے۔اس سڑک کو بنے شاید سال ڈیڑھ ہی ہوا ہوگا۔لیکن پی پی اور اپنوں کا احسان عظیم ہے کہ انہوں نے عوام کو سفر کرنے کیساتھ کھڈوں کی صورت جھولے جھولنے کی سہولت بھی فراہم کی۔

جب بھی بارش ہو یہاں کھڈوں میں پانی جمع ہوجاتا ہے اور جو لوگ نہاتے ہیں یا نہیں۔اس گندے پانی کے چھینٹے ان پر ضرور پڑتے ہیں۔اس طرح لوگوں کو نہانا پڑتا ہے اور صفائی کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ہے نا سہولت اور احسان
۔
یہاں سے چلتے چلتے لیبراسکوائر تک یہی صورتحال ہے ۔اس دوران آپ سڑکوں کے اطراف میں کچرے اور گندگی کے مناظر سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں بلکہ بارش کی صورت میں گندے نالے کا پانی سڑک پر آنے کی سہولت بھی موجود ہے۔

لیبر اسکوائر سے کالج موڑ تک تالاب کی سہولت موجود ہے ۔بارشوں کے بعد اس سڑک پر نہایا بھی جاسکتاہے۔کالج موڑ سے غنی چورنگی جھومتے جھومتے اور کھڈوں کے مزے لیتے پہنچیں ۔

یہاں سے اسٹیٹ ایوینیو پر سیدھا حبیب بینک کی طرف چلیں ۔یہاں یونیک قسم کے کھڈے پائے جاتے ہیں اس کی بنیادی وجہ اس کا مرکزی شاہراہ ہونا ہے یہ حبیب بینک اور شیرشاہ تک ہے۔بہرحال اب اپ جھومتے جھومتے پیزاہٹ کے باالمقابل معین اختر روڈ پر گاڑی گھمالیں۔

یہ روڈ 2013سے جب میں یونیورسٹی جاتا تھا ۔اجڑے چمن کی طرح کسی تھرڈ کلاس گاؤں کی پہاڑی کے درمیان پائی جانے والی پتھریلی وادی کی طرح تھا ۔گاڑی چلتی کم اور جمپ ذیادہ مارتی تھی ۔پھر اس 2017کے آغاز میں کام شروع ہوا اور سڑک پر پکا روڈ بنا جو چھ دن بعد ہی جگہ جگہ سے اکھڑ گیا۔

اس کےبھی فائدے کہ بل کھاتی سڑک اور اکھڑے روڈ کی وجہ سے چلانے والے آہستہ چلائیں گے اور حادثات نہیں ہوں گے۔

کرکرا کے آپ نے یہ روڈ پارکرلیا تو آپ منگھو پیر روڈ پر آجائیں گے اور حبیب بینک سے ریکسر اسٹاپ تک روڈ کی حالت اور کچرے کے ڈھیرصومالیہ کے کسی پھٹیچر علاقے کا منظر پیش کررہے ہیں ۔یہ جیالوں کا علاقہ ہے جو مر بھی جائیں تو ان کی قبر پر لکھا جاتا ہے بھٹو زندہ ہے۔
ریکسر تک تو پھر بھی چل جاتا ہے اس دوران کبھی کبھار تالاب بھی بن جاتا ہے ایک پارک بھی آتا ہے جو نشئیوں اور چرسیوں کا ہیڈ کوارٹر ہے۔چرسیوں کے جملہ دفاتر یہی پائے جاتے ہیں۔

اچھا پرانا گولی مار ریکسر سے لیاری ایکس پریس وے تک منگھو پیر روڈ کے ایک طرف کی سائیڈ کی کھدائی کی گئی کہ سیوریج لائن ڈالنی ہے۔اور دونونں اطراف کی ٹریفک کو ایک سڑک پر ڈال دیا۔سوریج کا عمل مکمل کرنے میں ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ لگا۔

اس دوران ٹریفک جام کے باعث بے شمار شہری لٹتے رہے۔اب سیوریج مکمل ہونے کے بعد بھی سڑک دوبارہ نہیں بنی بلکہ اس پر بھینسیں بندھی ہوتی ہیں۔آٹو مکینک والوں کی خراب گا ڑیاں اور ٹینکر مافیا کی ٹینکیاں پائی جاتی ہیں۔اس دوران جو تجاوزات سڑک کے اطراف ہیں وہ الگ ہیں۔
یہاں بھی کیچڑ، گندے نالے کا پانی ٹوٹی سڑک، پھوٹی قسمت اور زندہ ہے بھٹو اور دوسری طرف اپنے تو اپنے ہوتے ہیں بڑی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔آتے جاتے لوگ سڑک کی گندگی اپنے کپڑوں اور جسم پر لیکر جاتے ہیں۔

یہاں سے آپ گارڈن روڈ اور نشتر روڈ پر جائیں گے تو یہاں بارشوں کے بعد دریا کی سہولت موجود ہے ۔تیراکی کے مقابلے بھی کرائے جاسکتے ہیں۔کر کرا کہ آپ گارڈن سے مین ایم اے جناح روڈ کی طرف نکلیں گے تو سڑکوں کے درمیان میں خود سے بنی چھوٹی چھوٹی خندقیں آپ کی منتظر ہوں گی۔

یہیں ایم اے جناح روڈ پر آفس ہے اس لئے یہ عزا ب کا سفر اختتام پزیر ہوتاہے۔
بڑا بورڈ کے پاس جھیل بھی ہے۔اور ہاں ٹریفک جام کا زکر نہیں کیا خود ہی سمجھ جائیں۔

ہم پی پی اور اپنوں کے شکر گزار اور احسان مند ہیں کہ انہوں نے سڑکوں اور سیوریج کا بیڑہ غرق کر کے اور اکثر کچی آبادیوں کو پانی کی بنیادی سہولت سے بھی محروم کر کے جو خدمت خلق کی ہے ۔اس کا عشرعشیر بھی کوئی دوسرانہیں کرسکتا۔


تنویراعوان

تنویر اعوان نے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کیا ہے ،صحافت کے میدان میں کچھ نیا کرنے کی کوششیں کررہے ہیں ،لکھاری ڈاٹ کام کے چیف ایڈیٹر ہیں ،تنویر اعوان کا خیال ہے کہ اپنے لئے سب ہی جیتے ہیں لیکن زندگی کا مزہ تو جب ہے دوسروں کیلئے جیا جائے دوسروں کیلئے کچھ کیا جائے اسی خیال کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وہ کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اکساتے ہیں

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *