لکھاری لکھاری » لکھاری » عدلیہ ،مسیحا اور علماء لیکن مسئلہ کہاں ہے،سعدیہ کامران

ad

لکھاری میرے مطابق

عدلیہ ،مسیحا اور علماء لیکن مسئلہ کہاں ہے،سعدیہ کامران


عدلیہ:
———
رائے دینے کا حق سب کو ہے لیکن فیصلہ دینے کا صرف عدالت کو —-
کیونکہ —
اکثر جو دیکھتا ہے وہ ہوتا نہی — اور جو نہی دیکھتا وہی ہوتا ہے لیہٰذہ
نتیتجے پر پہنچنے سے پہلے ہر پہلو کو پرکھ لینا ضروری ہے ۔
ہمارے ملک کا نظام عدلیہ کے سدھار سے ہے۔
جب وکلاء بدلیں گے تب ہی عدالتی نظام بدلے گا —- ہونا تو یہ چاہئے کہ اگر کیس کے بیچ کلائنٹ کی سچائی معلوم ہوجائے تو پرواہ نا کیا جائے — بلکہ کیس چھوڑ دیا جائے—
اتنے کیسیز جو پینڈینگ پڑے ہیں وہ اسی مارے کہ وکلاء بکاؤ مال ہیں ڈیفینس اور پراسکؤشن دونوں سے پیسے کھاتے ہیں —–اپنا مول بنا رکھا ہے — جس دن انمول ہوگئے اس دن عدلیہ قائم ہوجائے گی۔
۔
۔
مسیحا :
———-
۔
یوں تو ڈاکٹرزکی کرپشن ایک الگ موضوع ہے — جو کہ مافیا کی صورت ابھر رہا ہے — اس ضمن میں ایک بات جو ذہن میں آئی وہ عبدالستار ایدھی مرحوم کے انتقال پر جو اعضاء کے عطیے پر شور اٹھا تھا — بے جا نہ تھا — مجھے ملا ازم اور ملائیت سے لاکھ اختلاف سہی لیکن ” علماء ” جو فیصلہ کرتے ہیں وہ دوراندیشی کی بنا پرہی کرتے ہیں —- مولانا مودودی رحمتﷲ علیہ کا مؤقف مجھے اعضاء کی ڈونیشن کے حوالے سے بہت مضبوط لگا کہ بھلے مرنے کے بعد یہ اعضاء ہمارے کام کے نہی اور ﷲرب العزت پور پور اکھٹی کردینے پر قادر ہے —- لیکن اگر ہم اسی طرح کھلی چھوٹ دیں تو یہ ایک صنعت کی صورت اختیار کرجائے گی —- پھر اغواہ قتل اور ان سارے طرح کے جرائم کو روکنا ناممکن ہوجائے گا —
اور اس میں بردہ فروشوں سے لیکر ڈاکٹرز تک سب ملے ہوں گے۔
۔
۔
علماء:
——-
۔
گھر کا ردی کوڑھ مغز کمزور دماغ بچہ گھر بھر کی مغفرت کے لئے مدارس میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ پھر جوتے ڈنڈے جھڑکیاں کھاکر آخرکار حافظ اور پھر عالم فاضل کی سند پاکر نکلتا ہے۔ اور اپنے مسلک اور استاد کی جہالت کو فروغ دیتا ہے۔ الاماشاءﷲ .
ایسے ہی مفقود ذہن مفتی و علماء جو کہ ذہن نہ چلنے کی سبب دنیاوی تعلیم حاصل نہ کرسکے اب یہی لوگ دین کا علم اپنے علماء سے ڈر سہم کر منہ اور آنکھ پر پٹی باندھ کر استاد اور اکابر پرستی کرکے بنا کراس سوالوں کے حاصل کرتے ہیں۔ اور خود سمیت پورے معاشرے کو کافر شہید غازی جہنمی جنتی کا من چاہا سرٹیفیکیٹ پکڑاتے ہیں۔