لکھاری لکھاری » اسلام » اصول حدیث،ضرورت،حجیت،تدوین،سند — لکھاری

ad




ad




اشتہار




اسلام علم حدیث

اصول حدیث،ضرورت،حجیت،تدوین،سند — لکھاری


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ ربّ العلٰمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین أما بعد!

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ : نَضَّرَ اللَّہُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِیثًا فَحَفِظَہُ حَتَّی یُبَلِّغَہ، (سنن ابو داود وابن ماجۃ و ترمذی وغیرہا) یعنی اللہ عزوجل اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی پھر اسے یاد کر لیا یہاں تک کہ اسے (دوسروں تک) پہنچا دیا۔
سبحان اللہ عزوجل حدیث کو سن کراسے یاد رکھنے والا پھر اسے آگے پہنچانے والا کس قدر خوش نصیب ہے کہ اللہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کن کی کنجی والی زبانِ اقدس سے اس کے لئے پھلنے پھولنے اور ترو تازہ رہنے کی دعا فرمارہے ہیں۔ اللہ عزوجل ہمیں بھی انکی دعاؤں سے حصہ عطا فرمائے ۔اٰمین۔
یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہر وہ بات جو حضور نبی کریم علیہ افضل الصلاۃ و التسلیم کی طرف منسوب کر دی جائے وہ حدیث ہو یہ ضروری نہیں، اس لئے کہ علماء و محدثین کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ حضور سید المعصومین علیہ الصلاۃ و التسلیم کی طرف بہت سی ایسی من گھڑت باتیں بھی منسوب کر دی گئی ہیں جو کہ فی الواقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث نہیں اس قسم کی من گھڑت و نام نہاد احادیث کو اصطلاح میں احادیث ِموضوعہ کہتے ہیں۔لہذا معلوم ہوا کہ احادیث کو یا د کرنے اور انہیں آگے پہنچانے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ فی الواقع احادیث ہیں بھی یا نہیں ۔ اب یہ پہچان عموما دو ہی طریقوں سے ہوتی ہے ۔
(۱)۔۔۔۔۔۔معتبر ومستند علماء کے احادیث کو بیان کرنے سے چاہے زبانی بیان کرنے سے یا کتب و رسائل میں تحریراً بیان کرنے سے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔ احادیث کو علمِ اصولِ حدیث کے ذریعے پرکھنے سے۔
لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ احادیث کی صحت و سقم کو پرکھنے کا پہلا طریقہ بھی اسی دوسرے طریقے پر موقوف ہے اس لئے کہ علماء کا کسی حدیث کو صحیح یا موضوع فرمانا اسی علمِ اصولِ حدیث کے ذریعے ہوتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ اس علم یعنی علمِ اصولِ حدیث کے بارے میں کہا گیا ہے ۔

اِنَّہ، مِنْ فُرُوْضِ الْکِفَایَۃِ اِذَا قَامَ بِہِ الْبَعْضُ سَقَطَ عَنِ الْبَاقِیْنَ فَاِنْ فَرَطَتْ فِیْہِ الْأُمَّۃُ أَثِمَتْ کُلُّہَا۔

یعنی یہ علم فرض کفایہ علوم میں سے ہے اگر بعض نے اسے حاصل کر لیا تو باقی لوگوں سے اس کی فرضیت ساقط ہو جائے گی اور اگر پوری امت نے اس میں لا پرواہی کی توساری کی ساری گناہگار ہو گی۔

کسی بھی علم کی اہمیت کا اندازہ اس علم کے موضوع سے لگایاجاسکتاہے۔ علم اصول حدیث کا موضوع سندومتن یعنی حدیث ہے اورحدیث کی اہمیت کاانکار نہیں کیا جاسکتاکیونکہ شریعت کے بہت سے احکام جس طرح قرآن پرمبنی ہیں اسی طرح حدیث بھی احکام شرعیہ کا ایک اہم ترین ماخذہے۔چنانچہ اس مقدمہ کو چار حصوں پر تقسیم کیا جاتاہے:
(۱) ۔۔۔۔۔۔ ضرورتِ حدیث(۲)۔۔۔۔۔۔ حجیتِ حدیث (۳)۔۔۔۔۔۔ تدوین ِحدیث
(۴)۔۔۔۔۔۔سند ِحدیث کی اہمیت۔

(۱)۔۔۔۔۔۔ضرورت حدیث:

قرآنِ کریم مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں انسانی زندگی کے ہر شعبہ کے بارے میں رہنمائی موجود ہے مگر اسے سمجھنا آسان نہیں جب تک کہ احادیثِ معلِّمِ کائنات سے مدد حاصل نہ کی جائے مثال کے طور پر اسلام کے ایک اہم ترین رکن نمازہی کو لیجئے، قرآن کریم میں کم وبیش سات سو(۷۰۰)مقامات پر اس کا تذکرہ ہے اور کئی مقامات پر ا س کے قائم کرنے کا حکم دیاگیاہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : (اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ) (نماز قائم کرو)۔
چنانچہ اب یہ سمجھنا کہ ”صلاۃ ”ہے کیا، اسے کس طرح قائم کیا جائے یہ صرف عقل پرموقوف نہیں اور اگر اس کا معنی سمجھنے کیلئے لغت کی طرف رجوع کیا جائے تو وہاں صرف لغوی معنی ملیں گے اور اس کے لغوی و اصطلاحی معنی کے مابین بہت فرق ہے۔
الغرض اس کے اصطلاحی معنی ہمیں صرف احادیث یعنی سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اقوال وافعال واحوال سے ہی سمجھ میں آسکتے ہیں اسی طرح قرآن کریم کے دیگر احکامات کو سمجھنے کیلئے نیز زندگی کے ہرشعبے میں ہمیں ہادی برحق صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رہنمائی کی ضرورت ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے بندوں کو قرآن کریم سکھانے اور انہیں ستھرا کرنے کیلئے نبی ِآخرالزماں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مبعوث فرمایا، چنانچہ ربّ عزوجل فرماتاہے:

یَتْلُوۡا عَلَیۡہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبْلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿164﴾

ترجمہ: ”ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اورا نہیں پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بے شک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔”(آل عمران: 164)
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کو سمجھنے کیلئے سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے اسی لئے تو اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دنیا میں بھیجا۔اگرقرآن کریم مطلقاًآسان ہوتااور اسے بغیر رہنمائی کے سمجھا جاسکتاتواللہ تعالی اس کے سمجھانے کیلئے خصوصی طور پر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوبطورِ معلِّمِ کائنات مبعوث کیوں فرماتا؟ نیز قرآن کریم کے آسان ہونے کے باوجود کسی سکھانے والے کو بھیجنا عبث قرار پاتاحالانکہ اللہ تبارک وتعالی کی یہ شان نہیں کہ اس کی طرف کوئی عبث وفضول راہ پائے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔حُجِّیتِ حدیث:

یاد رہے کہ جس طرح قرآن احکامِ شرع میں حجت ہے اسی طرح حدیث بھی۔اور اس سے بہت سے احکامِ شریعت ثابت ہوتے ہیں۔چنانچہ رب عزّوجلّ فرماتاہے:

وَمَاۤ اٰتٰکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ۚ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ

ترجمہ: ”اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو”۔
یہاں سے معلوم ہوتاہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جو کچھ عطافرمادیں وہ لے لیا جائے چاہے وہ قول کی صورت میں ہویاکسی اور صورت میں ۔”خُذُوْہُ” اس بات پر دلالت کرتاہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فرمان پر عمل ضروری ہے۔ایک جگہ فرمایا:

وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الْہَوٰی ؕ﴿3﴾ اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿4﴾

ترجمہ :”اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے”۔(النجم: 3 – 4)
لہذا معلوم ہواکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا احکامِ شریعت کے بارے میں فرمان وحیِ الہی ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے رب کا کوئی حکم جاری فرمانا۔ ایک جگہ یوں فرمایا:

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ ۚ

ترجمہ :جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔(النساء 80)
سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت کو رب نے اپنی اطاعت فرمایا اور ہر عاقل جانتا ہے کہ اطاعت حکم (قول)کی ہواکرتی ہے تومعلوم ہواکہ سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان (حدیث) حجتِ شرعی ہے کہ جس کی اطاعت کو رب نے اپنی اطاعت فرمایا۔حاصل یہ کہ حدیث حجت شرعی ہے اور اس کا حجت ہونا قرآن سے ثابت ہے۔

(۳)۔۔۔۔۔۔تَدْوِینِ حدیث:

تدوین حدیث(حدیث کو جمع کرنے)کا سلسلہ عہدِ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے لے کر تبع تابعین تک مسلسل جاری رہا۔اگرچہ ابتدائی دور میں سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو احادیث لکھنے سے منع فرمادیاتھا کیونکہ ابتدائی دور آیاتِ قرآنیہ کے نزول کا دور تھا لہذا اس دور میں صرف قرآن کریم کوہی ضبطِ تحریر میں لانا اہم ترین کام تھا، اور سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم احادیث لکھنے سے منع فرماتے تھے تاکہ قرآن اور احادیث میں التباس نہ ہوجائے چنانچہ ابتداء آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

” لاَ تَکْتُبُوْا عَنِّيْ وَمَنْ کَتَبَ عَنِّيْ غَیْرَ الْقُرْآنِ فَلْیَمْحُہُ ”

میرا کلام نہ لکھو اور جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے سن کر لکھا وہ اسے مٹادے۔

(صحیح مسلم شریف ، کتاب الزہد، جلد۲، ص۴۱۴)

لیکن جوں ہی نزول قرآن کا سلسلہ ختم ہوااور التباس کے خطرات باقی نہ رہے توآپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کتابتِ حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی۔چنانچہ امام ترمذی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
”کَانَ رَجُلٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ یَجْلِسُ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَسْمَعُ مِنْہُ الْحَدِیْثَ
فَیُعْجِبُہ، وَلَا یَحْفَظُہُ فَشَکَا

ترجمہ : ”انصار میں سے ایک آدمی حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضرہوتاپھرآپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ارشادات سنتااور خوش ہوتااور

ذٰلِکَ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”اِسْتَعِنْ بِیَمِیْنِکَ وَأَوْمَأَ بِیَدِہٖ اِلَی الْخَطِّ”

انہیں یاد نہ رکھ سکتا تو اس نے سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں اس بات کی شکایت کی توآپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اپنے دائیں ہاتھ سے مدد
لواور ساتھ ہی اپنے دست مبارک سے لکھنے کا اشارہ فرمایا”۔
ایک اور حدیث نقل کرتے ہوئے امام ترمذی فرماتے ہیں،صحابہ کرام حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھ کر احادیث لکھا کرتے تھے،ان میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا:

”مَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَکْثَرُ حَدِیْثاً مِنِّیْ اِلاَّ مَا کَانَ مِنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَاِنَّہُ کَانَ یَکْتُبُ وَلَا أَکْتُبُ”

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کے سواء صحابہ کرام میں سے کوئی بھی مجھ سے زیادہ احادیث محفوظ کرنے والا نہیں کیونکہ وہ احادیث لکھاکرتے تھے اورمیں نہیں لکھتاتھا۔ (جامع ترمذی)
لہذا معلوم ہوا کہ تدوین حدیث کا سلسلہ سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے عہد مبارک ہی سے جاری ہوااور سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بذات خود اس کی اجازت مرحمت فرمائی۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی طرح تدوین حدیث کا یہ سلسلہ تابعین کہ دور میں بھی جاری رہا، ان تابعین میں حضرت سعید بن مسیب، حضرت سعید بن جبیر، حضرت مجاہد بن جبیرمکی، حضرت قتادہ اور حضرت عمر بن عبد العزیز جیسے جلیل القدر تابعین بھی شامل ہیں۔(رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین)
تابعین کے بعد تیسری صدی ہجری میں ان مشاہیر علما ء نے تدوین حدیث کا کام انجام دیا۔علی بن المدینی، یحیی بن معین، ابوبکرابن ابی شیبہ، ابوزرعہ رازی،ابوحاتم رازی، محمد بن جریر طبری، ابن خزیمہ، اور اسحاق بن راہویہ۔
ان کے بعد امام بخاری ومسلم اور دیگر کئی محدثین نے تدوین حدیث کا کام کیا۔امام بخاری ومسلم، علی بن المدینی ، یحیی بن معین اور اسحاق بن راہویہ کے شاگردوں میں ہیں۔(اللہ تعالی کی ان پر رحمت ہواوران کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمین)۔
یاد رہے کہ ہر بات جو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف منسوب کر دی جائے حدیث نہیں ہو سکتی بلکہ اس بات کے ثبوت کے لئے کہ یہ حدیث ہے یا نہیں اس کی سند دیکھی جاتی ہے یعنی اس حدیث کے راویوں(بیان کرنے والوں) کے حالات و صفات و دیگر لوازمات دیکھے جاتے ہیں ،مثلاان کا ایک دوسرے سے سماع(حدیث سننا) ثابت ہے بھی یا نہیں اور آیا یہ سلسلہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تک متصل ہے یا نہیں ۔راویوں کے اسی سلسلے کو سند یا اسناد کہتے ہیں چونکہ اس سے حدیث کی صحت و سقم یعنی اس کے صحیح و غیر صحیح ہونے کا پتا چلتا ہے اسی لئے علماء و محدثین نے اس اہم ترین موضوع کے لئے باقاعدہ ایک مستقل فن ”علم اصول حدیث ”مدون فرمایا جس کے ذریعے انھوں نے احادیثِ صحیحہ و غیرِ صحیحہ کوالگ الگ کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دکھایا۔
سندِحدیث کی اہمیت:

٭۔۔۔۔۔۔حضرت عبد اللہ ابن مبارک رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ : ”الِاسْنَادُ مِنَ الدِّیْنِ لَوْ لَا الِاسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ یعنی اسناد دین کا حصہ ہے اگر اسناد نہ ہوتی توجس کے دل میں جو آتا کہتا۔” (فتح المغیث)
٭۔۔۔۔۔۔انہی سے مروی ہے کہ: ”مَثَلَ الَّذِيْ یَطْلُبُ أ مْرَ دِیْنِہٖ بِلَا اِسْنَادٍ کَمَثَلِ الَّذِيْ یَرْتَقِيْ السَّطْحَ بِلَا سُلَّم یعنی اس شخص کی مثا ل جو اپنے کسی امر دینی کو بلا اسناد طلب کرتا ہے اس کی طرح ہے جو سیڑھی کے بغیر چھت پر چڑھنے میں لگا ہو۔”
٭۔۔۔۔۔۔انہی سے منقول ہے کہ: بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ: یَعْنِي الِاسْنَادَ

یعنی ہمارے او ر دیگر لوگوں کے درمیان قابل اعتماد چیز اسناد ہے ۔
(فتح المغیث و مقدمۃ مسلم)
٭۔۔۔۔۔۔اور امام شافعی رحمہ اللہ الکافی سے منقول ہے کہ: ”مَثَلَ الَّذِيْ یَطْلُبُ الْحَدِیْثَ بِلا اِسْنَادٍ کَمَثَلِ حَاطِبِ لَیْلٍ یعنی اس شخص کی مثال جو بلا سند حدیث کو طلب کرتا ہے اس کی مانند ہے جو اندھیری رات میں لکڑیاں تلاش کرتا ہے(مطلب یہ ہے کہ جو شخص اندھیری رات میں لکڑیاں تلاش کرتا ہے تو پھر ان لکڑیوں کے علاوہ دیگر چیزیں بھی اٹھالیتا ہے یعنی اندھیرے کی وجہ سے وہ امتیاز نہیں کرپاتاکہ میں لکڑیاں اٹھا رہا ہوں یا کوئی اور چیز۔یہی مثال اس شخص کی ہے جو حدیث میں کلام کو خلط لط کرکے پیش کرتا ہے )۔(فتح المغیث)
٭۔۔۔۔۔۔اور حضرت سفیان ثوری رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ: ”الِاسْنَادُ سِلاَحُ الْمُؤْمِنِ فَاِذَا لَمْ یَکُنْ مَعَہ، سِلاَحٌ فَبِاَئيِّ شَیٍئ یُقَاتِلُ یعنی اسناد مؤمن کا ہتھیار ہے اگر اس کے پاس ہتھیار ہی نہیں ہو گا تو وہ کس چیز کی مدد سے لڑے گا۔” (فتح المغیث)
٭۔۔۔۔۔۔بقیہ نے کہا کہ میں نے حضرت حماد بن زید کو چند احادیث سنائیں تو انھوں نے فرمایا کہ : ”مَا أَجْوَدَہَا لَوْ کَانَ لَہَا أَجْنِحَۃٌ یَعْنِيْ الاَئسَانِیْدَ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان احادیث کے پرو بازو بھی ہوتے یعنی اسانید کے ساتھ ذکر کی جاتیں۔ (فتح المغیث)
٭۔۔۔۔۔۔اور مطر نے اللہ تعالی کے اس فرمان (اَوْ اَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ) (الاحقاف:4) کے بارے میں کہا کہ اس سے مراد اسناد ِحدیث ہے۔ (فتح المغیث)
٭۔۔۔۔۔۔جب امام زہری کو کسی اسحاق بن ابو فروہ نامی شخص نے بغیر اسناد کے چند احادیث سنائیں تو آپ نے اس سے فرمایا: ”قَاتَلَکَ اللہُ یَا ابْنَ أَبِيْ فَرْوَۃَ! مَا أَجْرَأَکَ عَلَی اللہِ أَنْ لَا تُسْنِدَ حَدِیْثَکَ، تُحَدِّثُنَا بِأحَادِیْثَ لَیْسَ لَھَا خُطُمٌ وَلَا أَزِمَّۃٌ یعنی اے ابن ابو فروہ! تجھے اللہ تباہ کرے تجھے کس چیز نے اللہ پر جری کردیا ہے ؟کہ تیری حدیث کی کوئی سند نہیں ،تو ہم سے ایسی حدیثیں بیان کرتا ہے جن کی نکیل ہے نہ لگام۔(معرفۃ علوم الحدیث)
نوٹ:
خطیب کا قول ہے : ”وَأَمَّا أَخْبَارُ الصَّالِحِیْنَ وَحِکَایَاتُ الزُّہَّادِ وَالْمُتَعَبِّدِیْنَ وَمَوَاعِظُ الْبُلَغَاءِ وَحِکَمُ الأُدَبَاءِ فَالْأَسَانِیْدُ زِیْنَۃٌ لَہَا وَلَیْسَتْ شَرْطاً فِيْ تَأْدِیَتِہَا” مفہوم یہ ہے کہ: صالحین و زاہدین و بزرگان دین کے فضائل کے قصوں کے لئے سند شرط و ضروری نہیں ہاں ایک طرح کی زینت و اضافی خوبی ہے۔

(۔۔۔۔۔۔چند ضروری اصطلاحات۔۔۔۔۔۔)

(۱)۔۔۔۔۔۔راوی:
وہ شخص جو سند کے ساتھ حدیث کو نقل کرے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔طالبُ الحدیث:
وہ مبتدی جو روایت ، درایت ،شرح اور فقہ کے اعتبار سے حدیث پڑھنے میں مشغول ہو۔
(۳)۔۔۔۔۔۔مُحَدِّث:
وہ شخص جو علم حدیث میں روایۃ درایۃ مشغول ہوااور کثیر روایات اور ان کے راویوں کے حالات پر مطلع ہو۔
(۴)۔۔۔۔۔۔حافظُ الحدیث:
وہ محدث جو ایک لاکھ احادیث کی اسانید ومتون کا عالم ہو۔
(۵)۔۔۔۔۔۔حُجَّت فی الحدیث:
وہ محدث جسے تین لاکھ حدیثیں اسانید ومتون کے ساتھ یاد ہوں۔
(۶)۔۔۔۔۔۔حاکِم فی الحدیث:
وہ محدث جسے جملہ احادیث مرویہ اسانید ومتون کے ساتھ یاد ہوں اور وہ راویوں کے حالات سے پوری طرح واقف ہو۔
کتب احادیث کی بعض اقسام

(۱)۔۔۔۔۔۔صحیح:
حدیث کی وہ کتاب جس میں صرف احادیثِ صحیحہ ذکر کرنے کا التزام کیا گیا ہوجیسے: صحیح بخاری ومسلم۔
(۲)۔۔۔۔۔۔سُنَن:
حدیث کی وہ کتاب جس میں ابوابِ فقہ کی ترتیب پر فقط احادیث ِاحکام جمع کی گئی ہوں جیسے سنن ابوداود و نسائی۔
(۳)۔۔۔۔۔۔جامِع:
حدیث کی وہ کتاب جس میں آٹھ عنوانات کے تحت احادیث لائی جائیں۔ وہ آٹھ عنوانات یہ ہیں: سیر ، آداب، تفسیر،عقائد، فتن، احکام، اشراط، مناقب۔
(۴)۔۔۔۔۔۔مُسْنَد:
حدیث کہ وہ کتاب جس میں ہر صحابی کی مرویات الگ الگ جمع کی جائیں جیسے مسند امام احمد۔
(۵)مُعْجَم:
حدیث کی وہ کتاب جس میں اسمائے شیوخ کی ترتیب سے احادیث لائی جائیں، جیسے معجم طبرانی ومعجم کبیر،صغیرواوسط۔
(۶)۔۔۔۔۔۔مُسْتَخْرَج:
وہ کتاب جس میں حدیث کی کسی دوسری کتاب کی احادیث کے اثبات کیلئے دیگر اسانید سے وہی احادیث جمع کی جائیں، جیسے ابو نعیم کی” مستخرج علی الصیحین۔”
(۷)۔۔۔۔۔۔مُسْتَدْرَک:
وہ کتاب جس میں کسی حدیث کی کتاب پر ایسی حدیثوں کو زائدکیاجائے جو اس کتاب میں قابل ذکر ہونے کے باوجود مذکور نہ ہوں جیسے حاکم کی ”مستدرک علی الصیحین۔”
(۸)۔۔۔۔۔۔جُزء:
وہ چھوٹی کتاب جس میں صرف ایک موضوع کے متعلق احادیث جمع کی گئی ہوں۔
(۱۰)۔۔۔۔۔۔اَمَالِی:
وہ کتاب جس میں شیخ کے املاء کرائے ہوئے فوائد ونکاتِ حدیث جمع ہوں۔
(۱۱)۔۔۔۔۔۔مُفْرَد:
وہ کتاب جس میں ایک شخص کی احادیث جمع ہوں جیسے ابراہیم بن عسکری کی مسند ابوہریرہ۔
(۱۲)۔۔۔۔۔۔مُرْسَل:
وہ کتاب جس میں مرسل حدیثیں جمع کی گئی ہوں جیسے ابوداود کی مراسیل۔