لکھاری لکھاری » جماعت اسلامی پاکستان » رفاعی کاموں کے باوجود جماعت اسلامی کو ووٹ کیوں نہیں ملتا ؟

ad




ad




اشتہار




جماعت اسلامی پاکستان میرا نقطہ نگاہ

رفاعی کاموں کے باوجود جماعت اسلامی کو ووٹ کیوں نہیں ملتا ؟

  • 2
    Shares

میرا خیال ہے کہ پاکستان میں بہت تیزی سے مذھبی ووٹ سکڑ کر پشتونوں تک محدود ہوتا جارہا ہے صرف جماعت اسلامی ہی نہیں جے یو آئی ایف جو کہ پاکستان کی سب بڑی مسلکی پارلیمانی جماعت ہے اور مکتب دیو بند کی نمائندگی کرتی ہے ، کا ووٹ بینک بھی بلوچستان و کے پی کے پشتونوں تک رہ گیا ہے۔ سندھ کے بعض حلقوں میں انکا اچھا ووٹ ضرور ہے لیکن وہ جیتنے والی پوزیشن کا نہیں ویسے بھی سندھ میں فی الحال لوگوں کا پہلا دوسرا تیسرا اور چوتھا پیار پیپلزپارٹی ہی ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہےکہ پاکستان میں آبادی کا نصف حصہ عقائد کے اعتبار سے بریلوی مکتب سے جڑا ہے لیکن انتخابی حقائق یہ ہیں کہ وہ پورے ملک سے کونسلر کی نشست جیتنے کے بھی لائق نہیں البتہ ممتاز قادری پھانسی ایشو کے بعد مولانا خادم حسین رضوی متحرک ہوئے ہیں ممکن ہے کہ ایک آدھ سیٹ کہیں سے نکل آئے اور اگر وہ کلثوم نواز کے مدمقابل آتے ہیں تو اس سے بریلوی ووٹ کا خوب اندازہ ہوسکے گا ۔۔۔

پاکستانی سیاست میں نیا عنصر پنڈی کی مشاورت سے ملی مسلم لیگ کی آمد ہے ، سلفی و جہادی عقیدے کی حامل اس جماعت کا انتخابی مستقبل دور دور تک تاریک ہے لیکن اسی مکتب کے ساجد میر کی کُل کامیابی نواز شریف کے تعاون سے سینٹ تک پہنچنا ہے ۔۔

لشکر جھنگوی کے حملوں کا نشانہ بننے والے اہل تشیع کا ان سب سے برا حال ہے مجلس وحدت کو گلگت کے سوا کہیں سے جیتنے والے ووٹ نہیں ملتے کوئٹہ کے ہزارہ کو نشست اپنی عددی اعتبار سے ملتی ہے کہ انہی کا حلقہ ہے یہی وجہ ہے کہ مجلس وحدت ہر دوسرے روز امام مہدی واستحکام پاکستان کانفرنس منعقد کراکے اپنا شوق پورا کرلیتی ہے ۔
پولیس مقابلوں اور کالعدم ہونے کا تمغہ سجائے سپاہ صحابہ نے سب سے پہلے جے یو آئی ایف کا ووٹ خراب کیا یہی دونوں جماعتوں کے تنازعے کی بنیادی وجہ بھی ہے باقی باتیں اسکے ارد گرد گھومتی ہیں سپاہ صحابہ کو جھنگ میں کامیابی ملتی رہتی ہے اور ملک کے مختلف حلقوں میں پیپلزپارٹی و مسلم لیگ ان سے ایڈجسمنٹ کرتی ہیں لیکن ملک گیر فتح اسے بھی نہیں مل سکی ۔

تنظیم اسلامی ، تبلیغی جماعت اور علامہ جاوید احمد کا میدان اور ہے اس واسطے انہیں یا تبلیغی جماعت کو اس میزان میں نہیں پرکھا جاسکتا ۔ اسی طرح شیخ الاسلام علامہ محمد ڈاکٹر طاہرالقادری سیاسی تفریح مہیا کرنے سے زیادہ کے اہل نہیں ( اسکا یہ مطلب قطعی نہیں کہ ماڈل ٹاؤن قتل عام پہ سرکار کو کلین چٹ دی جائے )۔۔۔

[bbc] مولانا سمیع الحق کی ساری دلچسپی مولانا فضل الرحمن کو نیچا دکھانے یا ایک آدھ سیٹ جیتنے تک ہے جبکہ پنج پیری یا مماتی اکثر جماعت اسلامی کی انتخابی حمایت کرتے رہتے ہیں ۔۔۔

بات جماعت اسلامی سے شروع ہوئی تھی تو جس داغ کو سید منور حسن نے جرآت کیساتھ دھویا تھا سراج الحق دانستہ یا نادانستہ اسے دوبارہ دامن پہ لگانے میں مصروف ہیں ۔۔۔۔

[ab] بعض احباب مجلس عمل کا حوالہ دیں گے میری ناقص رائے میں اس کامیابی کی بڑی وجہ ہمدردی کی لہر اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت تھی اگر ایسا نہ کیا جاتا تو نوجوانوں کی بڑی تعداد جہادی بن جاتی اور یوں وہ ہمارے اداروں کی دسترس سے نکل جاتے کیونکہ وہ ” غیر سرکاری جہاد ” کی طرف جارہے تھے ۔ اور مجلس عمل کی وجہ سے اس عمل میں بڑی رکاوٹ آئی ۔
[a] فی الحال یہ کافی ہے کسی اگلی نشست میں اس پہ بات ہوگی کہ آخر کیوں ہند میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کرنے والی جمعیت علماء کو پشتونوں کے سوا دیگر دیو بندیوں میں پذیرائی نہ مل سکی اور پڑھے لکھے طبقے نے جماعت اسلامی سے کیوں امیدیں ترک کیں ۔


  • 2
    Shares