لکھاری لکھاری » پاکستان » قومی اداروں کی نجکاری–اعزازاحمد کیانی

ad




ad




اشتہار




پاکستان سیاست

قومی اداروں کی نجکاری–اعزازاحمد کیانی


14681840_2171894652930806_4952095295185623106_nیہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر ،یہ حکومت
پیتے ہیں لہوں دیتے ہیں تعلیم مساوات (اقبالؒ )

ریاستیں یا ممالک افراد کے حقوق کی تحریک کے نتیجے میں وجود وجود میں آتے ہیں، ریاست افراد کے حقوق کی نہ ضرف ضامن ہوتی ہے بلکے افراد کے حقوق کا تحفط اور عوام کی خوشحالی کو یقینی بنانا ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے۔ایک ریاست کے اندر مختلف اداروں کی تشکیل کے پیچھے عوام کی خوش حالی اور عوام کے حقوق کی ادائیگی کا جذبہ ہی کارفرما ہوتا ہے۔ خود پاکستان کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے، پاکستان کے حصول کا مقصد محض زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا نہیں تا بلکے پاکستان حاصل کرنے کے لیے جو تحریک کے چلائی گئی تھی اس کاواضح متن یہ تھا کے برے ضغیر میں مسلمانوں کے مذہبی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی حقوق محفوظ نہیں لہذا ایک ایسے ملک یا ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں مسلمانوں کو تمام تر آزادی اور تمام تر حقوق حاصل ہوں۔کسی بھی ریاست کے لیے اپنی آزادی یا قیام کے بعد جو بات سب سے اہم ہوتی ہے وہ وہاں کی عوام کی خوش حالی اور عوام کے حقوق ہوتے ہیں ریاستوں کی ترقی اور بلندی کا اندازہ عوامی حقوق کی فراہمی سے لگایا جاتا ہے۔
ایک ریاست پر لازم ہے وہ ایسے ذرائع پیدا کرے جن سے عوام کا معیار زندگی بہتر اور وہ ملکی ترقی اور تعمیر کا حصہ بن سکیں۔
جن حقوق کا تعلق عوام کے بنیادی مسائل کے ساتھ ہے وہ براراست حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مسائل کو سلجھائے اور عوام کو انکے بنیادی حقوق دے۔
ایک ریاست تبھی مضبوط ہو سکتی ہے جب اسکے ادارے اس کے ماتحت ہو ں، ایک ریاست تبھی اچھے نتائج حاصل کر سکتی ہے جب اداروں کی کمان اسکے اپنے ہاتھوں میں ہو،ایک ریاست تبھی معاشی طور پر مضبوط ہو سکتی ہے جب وہ کام خود انجام دے، ایک ریاست تب ہی عوامی ہمدردیاں حصل کر سکتی ہے جب افراد کے ہاتھوں عوام کے استحصال کا خاتمہ ہو، اور ایک ریاست تب ہی ایک فلاہی ریاست بن سکتی ہے جب عوام میں تفریق اور امتیازات کا خاتمہ ہو اور یہ سب اس صورت میں ممکن ہے جب اداروں کو نجکاری کی وبا سے پاک رکھا جائے۔ایک فلاہی ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات مفت فراہم کرتی ہے قیام پاکستان کے وقت ملک پاکستان کو ایک فلاہی ریاست بنانے کا خواب دیکھاگیا تھا مگر موجودہ نجکاری کی وبا نے اس خواب کو چکنا چور کر دیا۔
تعلیم، صحت، تحفظِ جان و مال و آبرو،روزگار کی فراہمی ریاست وقت کی ذمے داری ہے۔
کوئی ریاست جو ایک شخض کو تعلیم بھی نہ دے، صحت بھی نہ دے،تحفظ بھی فراہم نہ کرے اور نہ اسے روزگار دے تو آخر کیوں کر وہ ریاست یہ امید کرتی ہے کہ کل کو وہی شہری اپنے کام پوری دیانت سے کرے گا، کل کو وہ قومی ترقی میں حصے دار بنے گا۔ آج جب اس کے اندر وفاداری کا جذبہ پیدا کرنے کا وقت ہے، آج جب اس کو کل کے لیے تیار کرنے کا وقت ہے تو حکومت نے خود کواپنی ذمے داریوں سے بری کر دیا اور تمام تر بوجھ اسکے کندھوں پر ڈال دیا تو کل کو آخرکیوں کر کے وہ اس مشکل وقت اور حکومت کی اس چشم پوشی کو بھول جائے گا۔
ہمارے ملک پاکستان میں اس وقت دو طرح کے رویے ہیں ایک طرف تو لوگ نجکاری ستے تنگ ہیں اور عوام اپنے دفاتر،کام کاج اور طلباء سکولوں کے بجائے سڑکوں پر ہیں، عورتیں (مائیں) بچوں کے کھانے کی تیاری کے بجائے پرائیوٹ سکولوں، کالجوں کی بڑھتی ہو ئی فیسوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، ایک طرف حکومت پنجاب عوام کو چھوٹی تسلیاں دے رہی ہے کہ پرائیوٹ سکیٹر سے معمالات طہ ہو گئے ہیں فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے گا اور ہر سال یوں بے جا فیس نہیں بڑھائے جائے گی بلکہ اس کا ایک با قاعدہ ضابطہ طیکیا جائے گا اور دوسری طرف خود حکومت پاکستان ملکی سطع پر قومی ادارے بھیچ رہی ، ان اداروں کو بیچا جا رہا ہے جن سے لاکھوں لوگوں کا مستقبل اور روزگار وابسطہ ہے، ایک طرف پنجاب حکومت عوام کو پرائیوٹ سکیٹر کی اسی لوٹ کے خلاف اپنی ہمدری اور مدد کی یقین دہانی کرا رہی ہے اور دوسری طرف خود بچے کھچے تعلیم اداروں کو بھی پرائیوٹ کر رہی ہے۔ایک طرف تو ملک پاکستان کا آئین واضح طور پر کہ رہا ہے کہ ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں بنے گا جس میں حقوق سلب ہوں یا حقوق کم ہوں، ایک طرف تو ملک کا آئین واضح طور پر کہا رہا ہیکے 5 سے 16 سال کی عمر تک کے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی لیکن دوسری طرف نہ صرف یہ کے سکولوں اور کالجوں میں جو بچے رعایت پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان سے تعلیم کا حق چھینا جا ر ہے بلکے فیسوں کے بڑھانے کا قاعدہ مرتب کیا جا رہا ہے۔
ایک طرف تو ملک کا آئین کم عمر بچوں کو کارخانے ،کان اور دیگر ملازمتوں سے روک رہا ہے دوسرے طرف ہمارے نام نہاد قومی لیڈر اور جمہوری حکمران تعلیم کو سرمایہ داروں اور مافیاؤں کے ہاتھوں میں دے کر جہاں ایک طرف آئین سے کھلی بغاوت کر رہے ہیں دوسری طرف خود بچوں کو سکولوں کے بجائے کارخانوں اور ورکشاپوں کی راہ دکھا رہے ہیں۔وزارت کو خدمت، سیاست کو عبادت اور اپنے دور اقتدار کو ترقی کا دور کہنے والوں سے انکے دہرے معیار کا ،لاکھوں لوگوں کے مستقبل کا اور اس پاک سرزمین کے مستقبل کا سوال ہے؟ کسی ریاست کے لیے یہ انتہائی قابل رحم صورت ہے کہ وہ اپنے ہی قائم کیے گے قومی اداروں کو سرمایاداروں کے ہاتھوں میں دے دے۔
ریاست کے بارے میں ایک بات سمجھ لیں کے ریاست بذات خود کچھ چیز نہیں سوائے زمین کے ٹکڑے کے ریاست جو کچھ بھی اپنے عوام کی وجہ سے اور ایک ایسی ریاست جس کی عوام محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوایک بنجر زمین کی مانند ہے۔
ملک پاکستان کسی کی جاگیر یا وراثت نہیں ہے بلکے یہ ملک پاکستانیوں ہے اور سب کا اس پر برابر حق ہے لہذا ہماری ذمے داری ہے قوم کے وسیع تر مفاد میں نجکاری کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں اور ہر صورت اسکی مزاہمت کریں۔
ہمیں چاہئے کہ نجکاری کی ہر صور مزاہمت کریں اور حکومت وقت کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے ان عوام کش اور ریاست کش اعلانات پر نظر ثانی کرے۔