عالم اسلام امریکی استعمار کے رحم و کرم پر 

ad



ad

بلاگ لکھاری

عالم اسلام امریکی استعمار کے رحم و کرم پر 


مسلم ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے باہمی بانٹ لینے کی سامراجی پالیسی تسلسل سے جاری ہے.سابق صدر اوباما کے آخری دور میں اس مکروہ پالیسی کے خانوں میں مزید رنگ بھرا گیا جس کی تکمیل اب ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں انجام پذیر ہو رہی ہے. اگرچہ امریکی استعمار کے ہتھکنڈوں اور مختلف اطراف میں پھینکے ہوئے پتوں کی نوعیت زرا مختلف ہوتی ہے لیکن مجموعی طور پر انکا ہدف یکساں ہوتا ہے صرف اس ہدف کی تکمیل کے لئے بچھائی گئ بساط کے مہرے بدلتے رہتے ہیں. 

اس پالیسی کے کردار اب واضح طور پر سامنے آنے کے بجائے پیٹھ پر خنجر گھوپنے کو ترجیح دیتے ہیں خفیہ قوتوں کی آڑ میں مسلم ممالک کے اندر بدامنی خلفشار اور عدم استحکام کی صورتحال پیدا کر دی جاتی ہے. اس طرح آسمان سے لا کر زمین پر پٹختے ہیں تاکہ  انکے تن مردہ میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں رہے اور یہ پھر سے دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں 

جس نے بھی امریکی سامراج کی دہلیز پر سر بسجود ہونے سے انکار کیا اس کو ہر صورت  اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنا پڑا. 

اس سامراجی انصاف کی قمیت عراق و افغانستان سے لیکر سوڈان پاکستان شام؛ مراکش؛ الجزائر انڈونیشیا قطر پاکستان تک اور نجانے  کتنے ممالک بھاری قسطوں میں ادا کر چکے ہیں اور مسلسل ادا کرتے چلے آ ہیں. 

کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر مذموم سامراجی مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے. جوہری ہتھیاروں کی اوٹ میں امریکہ و برطانیہ نے ہنستے بستے پررونق عراق کو ویرانیوں میں بدل دیا. قریباً دس لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد جب کچھ  ہاتھ نہ لگا تو ایک سوری کہہ کر انسانیت کے عالمی ٹھیکیداروں نے امت مسلمہ پر احسان عظیم کر کے قرض چکایا . 

اسامہ کا بہانہ بنا کر پورے افغانستان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا اب وہاں سے دنیا کے یہ مہذب کھلاڑی  مہذبانہ بھاگنے کی راہیں تلاش رہے ہیں لیکن چاروں اطراف سے راستہ بند نظر آ رہا ہے. 

اسی پالیسی کے تحت مشرق وسطی کو خاک و خون کے الاؤ میں جھونک دیا گیا . 

خلیجی ممالک میں آمریت کو پروموٹ کر کے وہاں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں. ایک خلیجی ملک کی پشت تھپکا کر دوسرے کے خلاف بھڑکایا گیا. تاکہ یہ ممالک داخلی و خارجی سطح پر شورش زدہ ہو جائیں اور عدم استحکام کی صورت حال سے دوچار ہو کر خود  اپنی موت آپ ہی مر جائیں. 

آپ تھوڑا دنیا کے نقشے پر غور فرمائیں آپ حیران رہ جائیں گے کہ دنیا کے نقشے پر نظریاتی طور پر متعصب سے متعصب ممالک کا وجود برقرار ہے روم و یونان و ڈنمارک سیکولر  ہونے کے باوجود عیسائیت کی تبلیغ میں پیش پیش ہیں. سرکاری مشینری کی مسلمانوں کو عیسائیت کی طرف مائل کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہے. اسرائیل کا خمیر ہی ٹھیٹھ یہودیانہ نظریات کی آبیاری اور پوری دنیا کے یہودی مفادات کے تحفظ کے طور پر اٹھایا گیا ہے. یہودیوں کا روشن خیال و سیکولر کہلانے والا طبقہ بھی امت مسلمہ کو بغض و تعصب سے بھرپور کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا ہے اسکا بس نہیں چلتا کہ آنا فاناً سب کو بھسم کر ڈالے. 

ہندوستان میں مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندو ازم کی سرکاری سطح پر نفاذ کی کوششیں جاری ہیں. سرکاری چھتری تلے مسلم کش فسادات کو بھڑکایا جا رہا  جا رہا ہے.آر ایس ایس( جسکی نرسری سے مودی و یوگی  پھوٹے )جیسی دہشت گرد مسلح تنظیموں کھلی چھوٹ دی گئی ہے. برما کی حالت زار تو کھلی ڈھلی سب کے سامنے ہے جہاں  مسلمانوں کو شناخت سے ہی محروم کر دیا گیا ہے. عالمی سطح پر روشن خیالی کی علامت سمجھنے والی نوبل انعام یافتہ برمی رہنما آنگ سانگ سوچی نے منہ کو تالا لگا رکھا ہے حتی کہ اقوام متحدہ کے سفیر برائے انسانی حقوق زید رعد نے کہا کہ برمی مسلمانوں کا قتل عام  نوبل انعام یافتہ خاتون کے زیر نگرانی سرانجام دیا جا رہا ہے لیکن عالمی ادارے بشمول امریکی لونڈی اقوام متحدہ کے سب خاموش ہیں. 

خود ٹرمپ کی صورت میں امریکہ کا خالص چہرہ نکھر کر عریاں ہو  چکا ہے. 

برطانیہ میں مسلمانوں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ملازمتوں کے دروازے مسلمانوں پر بند کیے جا رہے ہیں. ان تمام حقائق کی موجودگی میں انسانیت کے پرچارک اور سیکولر ازم کا چورن بیچنے والوں کی غیرت کبھی  نہ بیدار ہوئی بلکہ الٹا دہشت گردی کے طعنے مسلمانوں کو ہی سہنے پڑتے ہیں. 

مسلمان ممالک کی اکثریت سیکولر ازم یا لبرل ازم کے تحت قائم دائم ہے رہے سہے مسلم ممالک کے حکمرانوں نے مصلحت کی چادر تان رکھی ہے.

 انڈونیشیا میں تیمور نامی شہر میں  عیسائی کمیونٹی کی اکثریت تھی اسکو وہاں سے ابھار کر انڈونیشیا سے جدا کر دیا گیا. سوڈان کے حصے بخیے کر دیے گئے لیکن کہیں سے بھی ان ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند نہ ہوئی.

 تیونس ولیبیا میں سیاسی عدم استحکام کی صورت حال برپا کر دی گئ جسکا نتیجہ اب آپ کے سامنے ہے . 

شام کا قضیہ سلجھانے کے بجائے مزید الجھانے دیا گیا شامی مسلمانوں کا خون پانی ذیادہ سستا ہو گیا معصوم سے کھلتے پھول اور کلیاں مرجھا دی گئیں. لیکن کسی ایک کی رگ حمیت نہ پھڑکی. 

آئے دن فلسطین کے ایک ایک ٹکڑے کو اسرائیل نگل رہا ہے قبلہ اؤل کی مسلسل بےحرمتی جاری ہے   کسی عالمی ادارے کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی. 

یہی وہ سامراجی کارڈ ہے جو منظم ومرتب طور پر کھیلا جا رہا ہے کہیں براہ راست مداخلت کی صورت میں تو کہیں بوکو حرام  داعش اور  القاعدہ کے نام پر جنگ مسلط کر دی جاتی ہے تاکہ اسلحے کا مکروہ دھندہ مسلسل چلتا رہے. اسی مخصوص ذہنیت کے تحت عالم اسلام کو بحرانوں سے دوچار کر دیا گیا تاکہ اس کے رد عمل میں متشدد نظریات کی حامل جہادی تنظیمیں وجود میں آئیں اور مقاصد سرعت کے ساتھ پورے ہونے لگیں.

 خطے میں داعشی کارڈ کھیل کر امریکہ کو وہ  فوائد حاصل ہوئے ہیں جو براہ راست مداخلت کی صورت میں کبھی  حاصل نہیں کیے جا سکتے.

داعش کو سامنے رکھ کر امریکہ اور سی آئی اے نے ان ممالک میں کھل کر کام کیا جہاں پر براہ راست مداخلت نہیں کر سکتے تھے. داعش کے نام پر شام و عراق کو اک نہ ختم ہونے والی جنگ کی طرف دھکیل دیا گیا اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے یہی داعشی کارڈ افغانستان کشمیر بلوچستان میں بھی کھیلا جا رہا ہے لیکن  بفضل اللہ یہاں امریکی سامراج اور سی آئی اے کو بھرپور ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.