لکھاری لکھاری » اسلام » نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ایک داعی۔—خلیل الرحمن شاکر

ad

اسلام اسوہ حسنہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ایک داعی۔—خلیل الرحمن شاکر


15310182_707554102745927_75941057_n

حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سراقدس پر نبوت کا تاج سجادیا گیا
اقاء کو مکہ کی ظالم حکومت کے مقابل حزب اختلاف کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا مگر یہ عنوان پوری سیاست کے فریب سے ایسا بدنام ہے کہ اس کا معنون آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنایا نہیں جاسکتا
مکہ میں ابوجہل کی گورنمنٹ قائم ہے ظلم و ستم کا دور دورہ ہے
کوئی آواز نہیں اٹھا سکتا بتوں کا تقدس مانا جاتا ہے حقیقی خدا کی راہ سے پہلوتہی کی جاتی ہے جو مخالف اٹھتا پے اس کا سر کاٹ دیا جاتا ہے دفعتا ایک شخص محمد نامی نے فاران کی چوٹیوں سے اعلان کیا!
ایک خدا کی شاہی قبول کرلو
اسی نے تم کو پیدا کیا
اسی نے زمین و آسمان بنائے
اس کی حاکمیت میں فلاح و کامرانی ہے
ظلم وستم کی اندھیر نگری ختم کرکے اسی خدا کے عدل و انصاف کی راہ اختیار کرلو،
یہی سرمدی فلاح کا راستہ ہے
عجیب نعرہ تھا اور انوکھا عنوان تھا
حیرت انگیز منشور تھا اور بے مثال آوازہ تھا
جو اس محمد نے لگایا سارا ملک چونک اٹھا
یہ کیا ہوگیا اور کیوں ہوگیا
یہ محمد کون ہے یہ کیسی آواز ہے تقریر و تحریر کی پابندی کا سنگم کس نے توڑا ہے
ہر طرف سے چہ میگوئیاں ہونے لگتی ہیں۔۔۔۔
یکایک پتھروں کی بارش ہوتی ہے اور نئے نعرہ کے علمبردار کو زخموں سے چور کردیا جاتا ہے اور وہ اقتدار کی نگاہ ناخوش میں کھٹکنے لگتا ہے وہ محمد جو سریر ارائے نبوت تھا
اپنی جماعت کے افراد پیدا کرنے کیلئے دن رات کوشاں رہتا ہے
بالآخر ابوبکر نامی ایک شخص مکہ کا تاجر ابتدائی رکنیت قبول کرلیتا ہے
اس طرح یکے بعد دیگرے 36 افراد جماعت میں شامل ہوجاتے ہیں سربراہ مکہ ابوجہل ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے ہرطرح کی پابندی لگاکر دیکھ چکا ہے مگر دن بدن اپنے پروگرام کو بڑھاتا چڑھاتا رہا ہے ائے دن اس کی جماعت ترقی کرتی چلی جاتی ہے اس کو مکہ کا سارا اقتدار (سرداری وزارت یا گورنری )پیش کیا جاتا ہے مگر وہ تو سارا نظام بدلنا چاہتا ہے پتھروں کی مورتیوں کو توڑ کر ایک خدا کے سامنے سب کو کھڑا کرنے کے درپے تھا اسے کوئی لالچ اور دھمکی اپنے مشن سے نہ روک سکتی تبھی وہ تمام پابندیاں توڑتا ہے خدائی قوانین کی رکاوٹوں کو پاوں کی نوک پر رکھتا ہے اوباشوں کا لاٹھی چارج سہتا ہے مگر اپنا منشور ہرجگہ دنیا کو سناتا ہے
ستم بالائے ستم یہ کہ جو کلمہ پڑھ کر محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جماعت کی رکنیت قبول کرتا ہے
سارا معاشرہ اس سے بائیکاٹ کرلیتا ہے اگرچہ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم 13 سال تک مکہ میں اس انقلاب کے قائد رہے
مگر آپ کی زبان سے :
کوئی جملہ اصولوں کے خلاف سرزد نہ ہوا-
آپ نے کسی مخالف پر اوچھی تنقید نہیں کی-
آپ نے اپنے استدلال میں کبھی جھوٹ نہ بولا۔
جو بات ایک دفعہ فرمادی اسی پر قائم رہنا آپ کا شیوہ تھا
مخالفین ہر قسم کی اذیتیں دیتے رہے
حالانکہ طائف والوں نے آپ کو زخموں سے چور کردیا تھا
مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بدعاء کا کلمہ ان کے حق میں نہ کہا تھا اور فقط ہدایت کی دعاء فرمائی تھی۔۔۔۔
۔۔
۔