لکھاری لکھاری » جنید جمشید » گلوکار سے داعی تک۔۔۔۔انوار الحق مغل

ad




ad




اشتہار




جنید جمشید میرے مطابق

گلوکار سے داعی تک۔۔۔۔انوار الحق مغل


حدیث مبارکہ ہے کہ انسان کے اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے زندگی بھر ایک آدمی بظاہر اچھے اعمال کرتا ہے لیکن کچھ کوتاہیاں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کوموت کے وقت ایمان سے محروم کردیتی ہیں اور ایک آدمی کے عمربھر کے اعمال تو برے ہوتے ہیں لیکن بیچ میں کچھ ایسے اچھائی کے کام بھی کرجاتا ہے جو اس کو دنیا سے جاتے وقت کام آجاتا ہیں۔
بچپن کے دنوں میں قومی ترانے سننے اور گنگنانے کا شوق ہوتا تھا جن میں ایک ملی نغمہ یہ بھی تھا جس میں ایک کلین شیو اور ماڈلنگ کرتا جوان ہاتھوں کو لہرا لہرا کر گا رہا ہوتا تھا۔۔۔دل دل پاکستان،جاں جاں پاکستان۔۔۔۔ایسی زمیں اور آسماں،ان کے سوا جانا کہاں۔۔۔۔۔بڑھتی رہے یہ روشنی،چلتا رہے یہ کارواں۔۔۔۔یہ ملی نغمہ اس قدر جوش سے لبریز ہوتا تھا کہ جب کبھی وہ جوان کسی پروگرام میں مدعو ہوتا اور اس نغمے کو گانے کی فرمائش کی جاتی تو اس کے شروع کرتے ہی سامعین جھومنے لگتے۔
جی ہاں اپنی سریلی آواز سے سامعین کے دلوں پر راج کرنے والا یہ نوجوان جنید جمشید تھا جس نے اپنی جوانی سنگر کی روپ میں گزاری لیکن خدا نے اس کی آگے کی عمر میں کچھ اور لکھ رکھا تھاسو دور حاضر میں ہر قسم کے تفرقے سے پاک جماعت اور دین اسلام کا درد رکھنے والوں کا گٹھ جنید جمشید کو اپنے نرغے میں لے آیا مجھے یاد ہے آج سے تقریبا 13، 14 سال قبل جب جنید جمشید نے دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیا تو پورے ملک میں ایک دھوم سی مچ گئی تھی۔
پھر وہ شخص جو روز اپنے منہ پر بلیڈ سے چمک پیدا کرتا تھا اب چہرے پر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سجا بیٹھا تھا۔۔۔ جینز پہننے والا صالحین کا لباس زیب تن کرنے لگا تھا۔۔۔ ننگے سررہنے والا اب سر پر ٹوپی اور عمامہ باندھنے کا عادی بن چکا تھا۔۔۔۔وہ جو بینڈ باجے پر جھوما کرتا تھا اب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جھومنے لگا تھا۔۔۔۔وہ لب جو عشق مجازی پر کہے اشعار گنگناتے تھے اب عشق حقیقی کو بیاں کرتے قافیے پڑھنے لگے تھے۔۔۔۔اب وہ گانے نہیں گاتا تھا بلکہ رو رو کر پڑھا کرتا تھا۔۔۔۔میرا دل بدل دے، میرا دل بدل دے۔۔۔۔۔گناہ و حرص والا دل بدل دے۔۔۔۔۔بدل دے میرا رستہ دل بدل دے۔۔۔۔جی ہاں وہ جنید جمشید جو کبھی پاپ سنگر کہلاتا تھا اب وہ دین کا داعی بن چکا تھا اور ایسا داعی جو دین کی دعوت لئے گھر سے نکلا لیکن اسی رستے میں دنیا کو خیرآباد کہہ گیا جس نے اس کی زندگی کو یکسر بدل دیا تھا۔۔۔۔خدا اس کو کروٹ کروٹ راحت نصیب کرے۔۔۔۔اس سمیت جتنے اس حادثے میں شہید ہوئے خدا سب کی مغفرت فرمائے۔۔۔آمین