لکھاری لکھاری » بلاگ » ہم سب عظیم بن سکتے ہیں– ارسلان نیّر

ad

بلاگ

ہم سب عظیم بن سکتے ہیں– ارسلان نیّر


15435871_1693231894340274_1214350621_n
مجھے ایک عظیم بزنس مین کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔
اس انٹرویو میں اس نےچند دلچسپ اور فائدہ مند باتیں کہیں جو میں آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
اس نے کہا کہ دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا۔
انسان کی معاشی زندگی تب شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز خود کرتا ہے۔
اسکی دوسری بات
کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔
اگر تعلیم سے روپیہ کمایا جا سکتا تو آج دنیا کا ہر پروفیسر ارب پتی ہوتا۔
اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں۔
ان میں سے کوئی بھی پروفیسر ،ماہر تعلیم یا اس فیلڈ کا کوئی شخص شامل نہیں۔
دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی۔
یہ لوگ وقت کی قدروقیمت سمجھتے ہیں اور یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور میں ہی کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔
کامیابی ان کو کالج یا یونیورسٹی کی بجائے کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے۔
میں زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا۔
میری کمپنی میں اسوقت اعلی تعلیم یا فتہ 30 ہزار مرد اور خواتین کام کرتےہیں
یہ تعلیم یا فتہ لوگ مجھ سے وژن، عقل اور دماغ میں بہت بہتر ہیں لیکن ان میں نوکری چھورنے کا حوصلہ نہیں۔
انہیں اپنےآپ پر اور اپنی صلا حیتوں پر اعتبارنہیں اور نا ہی اس قدر حوصلہ ہے کہ یہ کیرئیر کے آغاز میں اپنا کام شروع کرسکیں۔
میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگرکوئی شخص میرے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ اپنےلیے بھی کر سکتا ہے۔
بس اس کے لیے زرا سا حوصلہ اور ذرا سی ہمت چاہیے۔
دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا نہیں۔
دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں لیکن کام کرنے والوں کے لیے ساری دنیا کھلی پڑی ہے۔
اس کی کی باتیں سن کے میں نے سوچا
کاش کاش کاش
میں اس کی باتیں پاکستان کے ان تمام پڑھے لکھے بےروزگار نوجوانوں تک پہنچا سکوں جو دن رات بےروزگاری کا رونا روتے ہیں۔
کاش میں ان نوجوانوں کو بتا سکوں کے اگر فارم ہاوس کا مزدورمسلسل محنت کر کے اتنا عظیم بن سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں۔۔۔ ذرا سوچیے__!!!