شادی خانہ آبادی اور رسم و رواج–ابراراحمد


15107250_1224843690910451_8653387967200978398_n
یہاں بیرون ملک شادی کی ساری تقریبات ایک هی دن میں هو جاتی هیں جبکه پاکستان میں رسم و رواج کی ایک لمبی فہرست هے شادی کی تقریبات کئی دنوں تک چلتی هیں ان تقریبات میں بہت سارے لوگوں کو مدعو کیا جاتا هےخاص کر شادی کے موقع پر بیش قیمت زیورات اور کپڑے تیار کیے جاتےهیں تقریبات ختم هونے کے بعد سیر سپاٹے اور دعوتوں کا سلسلہ جاری هو جاتا هے همارے هاں شادی نا هو گیی گویا انگلینڈ اور آسٹریلیا کے مابین هونے والی ایشیز سیزیر هو گیی جو ختم هونے کا نام هی نهیں لیتی۔شادی کے بعد ایک عام آدمی اپنی نیی زندگی کا آغاز مقروض حالت میں کرتا هے ایک سے دو هو جانے کی اسے وقتی خوشی تو میسر آتی هے مگر ساتھ هی اسے قرضہ اتارنے کی فکر بهی لاحق هو جاتی هے ایسی صورتحال سےنبٹنے کے لیے ذیاده تر لوگ کمیٹی کاسہارا لیتے هیں ابهی کمیٹی کی اقساط ختم نهیں هوتیں کہ بچہ کی پیدایش هو جاتی هےیقیناَ یه میاں اور بیوی دونوں کے لیے خوشی کا بہت بڑا موقع هوتا هے اور وه موقع کی مناسبت سےسارے ارمان پورے کرتے هیں خاندانی رسم ورواج کے مطابق لین دین کرتے هیں نتیجاَ اپنی زندگی کا بیشتر حصہ شادی کے فرض کے قرض کی ادائیگی میں گزار دیتے ہیں۔شادی اگرچہ ایک اہم فریضہ ہے مگر فضول رسم و رواج نے اسے ایسا پیچیدہ مسئلہ بنا دیا ہے کہ ایک عام آدمی اس سے نبٹنے کے بعد ساری زندگی اس معاشی بوجھ تلے رہتا ہے اور اس کی زندگی عدم توازن کا شکار هو جاتی هے یوں اس خوشگوار فریضے کو ناقابل برداشت بوجھ بنا دیا گیا ہے بیوقوف آدمی سر پر چڑها هواقرضہ تو اتارنے کی کوشش کرتا هے لیکن سر پر چڑهے هوے فضول رسم و رواج اتارنے کی ذرا بهی کوشش نهیں کرتا دن بدن معاشرتی براییوں میں اضا فہ هوتا چلا جا رها هے اگر هم معاشرتی براییوں میں کمی لانا چاهتے هیں تو فضول رسم و رواج سے جان چهڑواکر شادی کو آسان کرنا هو گا۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *