لکھاری لکھاری » بلاگ » ایک دل اور اتنی جگہوں سے چھلنی –سلیم صدیقی

ad

بلاگ جنید جمشید

ایک دل اور اتنی جگہوں سے چھلنی –سلیم صدیقی


15151463_343449432680422_1200677961_n
2016 کا سال عالم اسلام اور اردو دنیا کیلیے اب تک ماتمی ہی رہا ہے، سال رواں کبھی فلسطینی عوام پر، تو کبھی شامی بے قصوروں پر، کبھی کراچی کے بے گناہوں پر ، تو کبھی جنت نظیر کشمیر پر قیامت خیز ثابت ہواـ
اس ماتمی سلسلہ کا آغاز معروف افسانہ نگار انتظار حسین سے شروع ہوا اور پھر ندافاضلی، اسلوب انصاری، اسلم فرخی، عابد سہیل اور خلیق انجم سے لیکر شمیم نکہت تک گیا تو کئی ادبی لوگوں نے شکوہ کیا کہ ملکوت الموت اردو ادیبوں کے پیچھے لگ گئے ہیں_ تو ملک الموت اپنا رخ بدل لیا اب اس کے نشانے پر انسانیت کے اک بڑے خادم عبد الستار ایدھی آگئےـ
پھر عزرائیل ع کی نظروں میں مشہور قوال امجد صابری کھٹکنے لگے بالآخر وہ بھی بلوائیوں کے ہاتھوں جان ہار گئے …
مگر…
ابھی تک یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ اور آگے تک چلا پھر موت کی پٹری پر راشد آذر اور منظر شہاب بھی آگئےـ
پھر دینی شخصیات کی باری آئی تو ایشیا کے معروف دینی مرکز کے استاد حدیث علامہ حسن باندوی اور دوسرے اکابر نے دنیا کو خیرآباد کہ دیا ـ
ابھی ہم ان کا غم غلط بھی نہیں کر پائے تھے کہ عالمی شخصیت محمد علی کلے خدا کے پیارے ہوگئے،
ان کی یاد پرانی بھی نہیں ہوئی تھی کہ جمیل عالی اس دار فانی کو الوداع کہ کر ہمیں سوگوار کردیاـ ماتم ابھی بھی مکمل نہیں ہوا دل تھام کے پڑھتے جائیے ـ
تھوڑے وقفے کے بعد رؤف رضا صاحب ملک عدم کو کوچ کرگیے (جس کا غم اردو دانوں پر فطری ہے) ابھی رونا دھونا پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ دور غلامی کے انقلابی شاعر جو اپنے انقلابی شاعری کی وجہ سے انگریزوں کے مشق ستم بھی بنے ، طرح طرح کی مجبوریاں بھی کاٹیں مگر اپنے یقین محکم پر دھول جمنے نہیں دیا،
شاعری سے دلوں کو فتح کیا ایوان سیاست کے مؤقر عہدے پر براجمان ہوئے اور راجیا سبھا کے ممبر بھی بنائے گئے
زندگی سے لڑتے لڑتے وہ بھی ۸۸سال کی عمر میں موت سے ہار گئےـ
چار روز قبل یہ خبر قوت سماعت پر پہاڑ بن کے گری کہ “بیکل اتساہی اب نہین رہے”
ابھی اس کوہ الم سے باہر بھی نہیں نکلے تھے کہ کل یہ اطلاع ملی کہ کڑوروں دلوں کی دھڑکن عاشق رسول جنید جمشید اور ان کی وفا شعار دیندار اہلیہ اور دیگر دوسرے مسافرین شہادت پاکر اپنی آخرت سدھار گئے…..
یہ سال میرے لیے کچھ زیادہ ہی سخت ثابت ہوا کہ رمضان المبار کی ۲۴ویں تاریخ کو ہماری پیاری بہن محض 15سال کی عمر میں ہم سے رخصت ہوگئی اور ایک مہینہ پہلے میری پھوپھی بھی داعی اجل کو لبیک کہ کر ہمیں اپنے سایہ شفقت سے محروم کردیا
“ایک دل اور اتنی جگہوں سے چھلنی ”
مگرہم میں الحمد للہ ثم الحمد للہ ابھی صبر کی تلوار باقی ہے جس سے ان جیسے لاکھوں کڑوروں غموں کو کاٹ سکتا ہےـ
اللہ میری بہن، پھوپھی اور جنید جمشید تمام مرحومین کی مغفرت تامہ فرمائے
آمین ……