لکھاری لکھاری » بلاگ » مسلم دنیا میں عالمی سامراج کا طریقہ واردات 

ad




ad




اشتہار




بلاگ لکھاری

مسلم دنیا میں عالمی سامراج کا طریقہ واردات 



عالمی سامراج نہایت سرعت کے ساتھ مسلمان ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے 

 فرق محض اتنا ہی ہے کہ پہلے علانیہ دھمکیوں سے نوازا جاتا تھا کھلم کھلا مداخلت جاتی تھی. لیکن ان طریقوں سے جو فوائد حاصل کیے جانے تھے ان میں خاطر خواہ کامیابی و ممکنہ نتائج برآمد نہ ہو سکے .

 لہذا مسلسل تجربات کرنے اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ سامراجی طریقہ کار بدل چکا ہے؛ خطے کا مسلم الثبوت ٹھیکیدار  مسلم ممالک پر  مکمل قبضہ جمانے اور وسائل کو لوٹنے کے لیے ایک نئی طرز پر قدم اٹھا چکا ہے. اب کے طریقہ واردات میں پراکسی وار؛ دہشتگردی فتنہ و فساد کی رٹ لگا کر  مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں پر اپنے دروازے بند کرنا ؛ سیکولر ازم کی آڑ میں ٹرمپ ومودی جیسے زہریلے لوگوں کے لیے اقتدار کا راستہ ہموار کرنا ؛ اعتدال پسند طبقے پر دہشتگردی کا لیبل چڑھانا؛ مسلم دنیا میں القاعدہ یا داعشی لبادہ اوڑھ کر جنگ و جدل کا آلاؤ بھڑکانا وغیرہ طرق شامل ہیں ؛ 

ان تمام وارداتوں کو امریکہ مسلمان ممالک میں نہایت کامیابی کے ساتھ آزما چکا ہے 

آپ سوچتے ہونگے بھلا پہلے  اور دوسرے طریقے میں کیا فرق باقی رہ گیا ہے؟ 

بہت بڑا بلکہ زمین آسمان کا فرق ہے. 

پہلی صورت میں نام نہاد سیکولر ازم کا لبادہ اترتا تھا. اور بزعم خود انسانیت کا چیمپئن کہلانے والا امریکہ نے مزید ننگا وعریاں ہو جانا تھا پھر اس سے جیو اور جینے دو کی منافقانہ امریکی ومغربی پالیسی بری طرح ایکسپوز ہو جاتی . جبکہ دوسرے طریقہ میں ممکنہ نتائج بھی بڑھ چڑھ کر حاصل ہوتے جا رہے ہیں. سیکولر ازم لبادہ بھی جوں کا توں باقی  ہے. انسانیت کا چورن بھی اچھی طرح بک رہا ہے. گویا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے. 

واقعی جس غفلت کی کھائی میں ہم روز بروز تیزی کے ساتھ گر رہے ہیں اتنا ہی امریکہ نہایت سرعت و کامیابی کے ساتھ  پتے کھیل رہا ہے.

خلیجی ممالک پر  اربوں کھربوں روپے کا اسلحہ بیچ کر  انہیں کے مابین پٹرول چھڑک کر آگ بھڑکا رہا ہے. ایک طرف قطر سے پیار کی پینگیں؛ تو دوسری جانب سعودیہ کو عشق و الفت کی تھپکیاں دیکر خلیجی ممالک میں  آزاد و خود مختار ملک قطر کو زیر اثر کر کے دوسرا یمن بنانا چاہتا ہے. یہ کام ٹرمپ نہایت خوش اسلوبی سے وکٹ کی دونوں طرفوں پر کھیل رہا ہے. 

کچھ عرصہ قبل دی اکانومسٹ کے ایٹیوریل بورڈ نے ٹرمپ کی شخصیت پر چشم کشا تبصرہ کیا جو ہر باشعور شخص کے کان کھولنے کے لئے کافی وشافی ہے. بورڈ لکھتا ہے  ڈونلڈ ٹرمپ  ایسے صدر ہیں جو امریکہ کی جمہوری اقدار کی بنسبت آمرانہ اور مطلق العنانہ حکومتوں سے ذیادہ دوستی رکھتے ہیں. سب سے پہلے امریکہ جو ٹرمپ انتظامیہ کی نئ خارجہ پالیسی ہے اسکا خلاصہ یہ ہے کہ جمہوری اقدار کے فروغ کے بجائے اپنے مقصد کے حصول کی جانب توجہ دی جائے. تھوڑا آگے چل کر رقمطراز ہے  ماضی میں آمرانہ حکومتوں کے ساتھ امریکی تعلقات بہت اچھے رہے ہیں اور امریکہ نے ہمیشہ ہی اپنی مفاد پرستانہ پالیسیوں کے لیے منافقانہ توجیہات پیش کی ہیں. 

غرض حضرت ڈونلڈ ٹرمپ دامت ضلالتہم نے مسلم دنیا  کی بساط لپیٹنے کے لیے اوباما دور کے براہ راست اقدام و پریشر ڈالنے والے طریقوں کو چھوڑ کر نئی پالیسی کے تحت مشرق وسطی میں جاری خلفشار کو نئے سرے سے ہینڈل کرنا شروع کیا.امریکہ کی قدیم پالیسی یہ تھی کہ ہر گزرے وقت میں وہ خود کو دنیا کا تھانیدار سمجھتا تھا. اسلئے جہاں چاہتا اپنی ٹانگ اڑا لیتا تھا . لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ اسکی تھانیداری کا سورج غروب ہوتا گیا . مشرق و مغرب میں بغاوت اٹھنے ہونے لگی سامراجی تختہ دھڑن ہونے کے قریب پہنچ گیا. عراق افغانستان اور دیگر مسلم ممالک میں جاری جنگ نے امریکی معیشت پر برا اثر ڈالا امریکہ کو پوری طرح جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا اور دنیا کے سامنے الگ سے ناک کٹوانی پڑی . اسلئے اوباما کے آخری دور میں امریکہ اور عالمی سامراج نے دنیا بھر میں خلافت کے نام پر جاری مسلح تنظیموں کی پشت پر تھپکیاں دینی شروع کیں. داعش بنیادی طور پر نیٹو طرز کا بنا عالمی سامراج کا وہ سویلین ہتھیار ہے کہ جس کی کوئی بنیادی شناخت نہیں ہے وقتاً فوقتاً چہرہ بدل کر حملہ آور ہوتا ہے. عالمی مافیا اک بڑا حصہ داعش پر صرف کرتی چلی آ رہی ہے. داعشی کارڈ نہایت کامیابی سے کھیلا گیا اور کھیلا جا رہا ہے. داعش کی دوزخ کو جہاں عالمی برادری نے بھرا وہیں مشرق وسطی میں عرب ممالک نے اہل تشیع کے خلاف داعش کو بھرپور ایندھن فراہم کیا . عرب اس خام خیالی میں مبتلا تھے کہ داعش عراق وشام اور یمن میں بخوبی انکے مقاصد پر پورا اتر رہی ہے. کچھ عرصے بعد جب آنکھیں کھلیں تو بہت سا پانی  پلوں تلے بہہ چکا تھا .  داعش نے عربوں کے مفادات پر پورا اترنے کی بجائے انہی کو ڈسنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ ایران کے ساتھ بھی جھپیاں ڈالی رکھیں.کیونکہ داعش کو خلیج کے حصے بخیے کرنے کے لیے ہی لانچ کیا گیا تھا. عالمی سامراج کو اس  سے تین طرح کے فوائد حاصل ہوئے 

اؤل!  برابر صیغہ راز میں رہے  ساتھ ہی ساتھ انسانیت نامی چورن کا بھی راگ الاپتے رہے. 

دوم مشرق وسطی میں خلفشار برپا کرنے کے لیے مستقل طور پر شیعہ سنی کو آمنے سامنے کیا اور اس جنگ کو شیعہ سنی کا نام دیکر خود دور سے نظارہ کرتے رہے. 

سوم! وسائل سے مالا مال مسلم خلفشاری کو بڑھاوا دیکر وسائل کو اندھا دھند لوٹتے رہے. 

 ایک ایک کر کے تمام مسلم ممالک نظر ڈالتے جائیں تو یہ تمام تلخ حقائق نکھر کر سامنے آ جاتے ہیں. یہی پراکسی وار وہ کامیاب ترین پالیسی ہے جس کے تحت اکثر مسلم ممالک کو تہس نہس کر کے وہاں ایسی کالی  آندھی مسلط کی گئی کہ کسی کو کچھ پتہ نہ چلا کہ ہٹ کہاں  سے ہو رہی ہے. گویا سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹی . 

عرب چونکہ شروع ہی سے امریکی زلفوں کے اسیر رہے خوش فہمی میں اس قدر آگے نکل کر گئے کہ خود تازیانہ عبرت بن گئے . انھوں نے اپنے تحفظ کے لئے کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں کیے. روز اؤل سے  داعش جیسی مشترکہ لونڈی سے فائدہ اٹھایا لیکن وہاں خاک کے سوا کچھ نہیں ملا.  رہا اسلامی  اتحاد! تو وہ گیا تیل لینے. جس کو ہینڈل کرنے والا ہی ٹرمپ ہو وہاں سے کیا ملنا. بظاہر خوشنما نظر آنے والا یہ اتحاد اندر سے بدترین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے. 

ایرانیوں کا معاملہ کچھ الگ ہے ایرانیوں نے محض داعش پر انحصار نہ کیا نہ ہی وہ خوش فہمیوں میں سود وزیاں سے آگے نکل گئے. توازن کے طور پر ایران نے پاسداران انقلاب شیعہ ملیشیا؛ اور نہایت منظم اور مضبوط تنظیم حزب اللہ کی ہر طرح بھرپور  حمایت جاری رکھی . یوں ایران کو اندرونی بیرونی طور پر مکمل تحفظ حاصل رہا. ایران نے عرب ممالک کا بخیہ نکالنے کے لیے اپنی ان تینوں تنظیموں لانچ کیا اور وسائل کو لوٹنے میں عالمی سامراج کا حصہ دار بنا. یہ کھیل بڑی منظم طریقے سے جاری ہے. عالمی دباؤ میں عرب امارات کا قطر کا مقاطعہ اور اسکو تنہا کرنا اسرائیل وامریکہ کی سعودیہ کو تھپکی حماس واخوانیوں کے خلاف ابھارنا؛ نشریاتی اداروں پر پابندی؛ اور پھر دوسرے طرف سعودیہ کا چاروں جانب گھیراؤ سرحدوں پر رقص کرتی آگ جو اب سر تک پہنچ گئی ہے . حرمین شریفین کے خلاف مذموم مقاصد منظم حملے؛اور آل سعود کی اندرونی نوک جھونک؛ اپنوں کی سادگی غیروں کی عیاری امت مسلمہ کی غفلت وبے پرواہی؛ 

نجانے یہ لاوا  اب اور کس کس کو نگلے گا.


About the author

انس انیس

محمد انس ہزارہ ڈویژن کے علاقے حضرو سے تعلق رکھتے ہیں لکھاری ڈاٹ کام کے معاون چیف ایڈیٹر ہیں ،روزنامہ نئی بات میں کالم بھی لکھتے ہیں ،بقول انس انیس
علمی دنیا کا مسافر ؛ دلیل کا طالب؛ سچائی کی جستجو میں سرگرداں اک ذرہ بے نشان.

Add Comment

Click here to post a comment