اک ستارہ تھا جو کہکشاں ہو گیا — انس انیس

ad



ad

بلاگ جنید جمشید میرے مطابق

اک ستارہ تھا جو کہکشاں ہو گیا — انس انیس


wp-image-1281881841jpg.jpeg
جب سے جنید جمشید شہید اور دیگر لوگوں کے سانحہ کا ذکر کان میں پڑا تبھی سے دل ہے کہ وھم وگمان دماغ ازحد پریشان ہے؛ سوچتا ہوں کیسی کیسی شخصیات پیوند خاک ہو گئیں جو اپنے علم و عمل کی؛ اپنی معطر گفتگو اور پاکیزہ اخلاق کی خوشبوئیں بعد والوں کے لیے چھوڑ جاتی ہیں؛ ہمارا سماج زندوں کا خون چوس چوس کر ان کو بےجان بنا دیتا ہے؛ مرنے کے بعد ان کی قبروں پر گنبد بنایا جاتا ہے اور دربار لگائے جاتے ہیں ؛ احمد ندیم قاسمی نے خوب ہی فرمایا
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ؛
جنید جمشید بھائی زندہ وجاوید لوگوں میں سے ہیں؛ تاریخ ان کے نام کی تعظیم کرے گی؛ تاریخ کے صفحات پر وہ چمکتے دمکتے رہیں گے؛ مال و دولت کی ریل پیل کے باوجود ان کی انکساری؛ عاجزی؛ تواضع میں ذرا برابر فرق نہ آ سکا؛اس
حدیث شریف کا صحیح مصداق تھے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن بھولا بھالا اور سیدھا سادہ ہوتا ہے جبکہ کافر کمینہ اور شقی ہوتا ہے؛ اے آر وائی کے اینکر وسیم بادامی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے کہا کہ میرا جنید جمشید کے ساتھ پانچ سالہ تعلق تھا کبھی انہوں نے کسی کی غیبت نہیں کی؛ مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل صاحب نے جنید جمشید اپنی یادیں تازہ کی فرمایا ان کے کیسے اخلاق تھے؛ نوجوانوں کوبطور نصیحت فرمایا کہ اپنے اندر جنید جمشید جیسے اخلاق پیدا کریں؛ ہر بار کسی عظیم شخصیت کی وفات کے موقع پر ہمارے سماج کا اصل چہرہ نکھر کر سامنے آتا ہے؛ ابھی تک مرحوم آدمی کی لحد پر مٹی کے داغ بھی نہیں لگے ہوتے اس کی ہڈیاں نوچنی شروع ہو جاتے ہیں؛ کس قدر اخلاق تھے اپنے اوپر حملہ آور مذہبی جنونیوں کو معاف کر دیا اس کو تنہا کرنے کی سازش کی گئی؛ جعلی مفتیان کے فتوے تلاش کیے گئے؛ اصل عداوت کچھ اور تھی جس کا اظہار اب سوشل میڈیا پر ہورہا ہے؛ المیہ یہ کہ یہاں وہ سیدھا سادھا مسلمان آدمی جو گلی گلی نگر نگر میں دین کاپیغام پہنچا رہا ہے؛ اس کے مسلک کھوج لگایا جاتا ہے؛ اس کا عقیدہ پوچھا جاتا ہے؛ کہ دیکھا جائے کوئی مخالف مسلک والا رانگ نمبر تو نہیں مل رہا اگر کہیں سے مسلک کی پڑیا برآمد ہو جائے پھر وہ تماشا لگایا جاتا ہے کہ الامان والحفیظ؛ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس سماج میں ایک سیدھا سادھا مسلمان زندگی بسر کرہی نہیں سکتا اگر کر بھی لے اسکی ایک ایک ادا نوٹ کی جاتی ہے اسکی نشست وبرخاست کو دیکھا جاتا ہے؛ دوسری بات یہ کہ ہم میں برداشت کا مادہ ہی ختم ہو چکا اوپر سے اخلاقی وعلمی زوال نے اس پر ظلمات بعضھا فوق بعض کا اضافہ بھی کر دیا ہے؛ اعتدال نام کی کوئی چیز یہاں نہیں پائی جاتی؛ پھر خود سوچ لیں کہ یہاں جنید جمشید جیسے اجلے آدمی پر انگلیاں کیوں نہ اٹھائ جائیں؛ کافر کافر کے فتووں کی بوچھاڑ کیوں نہ کی جائے؛ جہنم کا ٹھیکہ لے کر اسے واصل جہنم کیوں نہ کیا جائے؛ ہر طرف کانٹوں کے بیچ بونے والوں کے درمیان محبت کے بیچ کو دفن کیوں نہ کیا جائے؛ اس خوشبو کو کیوں نہ روکا جائے؛ اس گلاب کو مسل کیوں نہ دیا جائے؛ خود سوچیے اس ستارے کو کیوں نہ توڑا جائے کیونکہ یہ ستارا اپنی روشنی پھیلا رہا ہے؛ عملی اخلاقی خوشبو پھیلا رہا تھا اس سے پہلے کہ اس کو کسی جہاں میں پہنچایا جائے؛ یہ خود ہی کہکشاں ہو گیا؛