لکھاری لکھاری » بلاگ » اردودانی اورہم–ظفراللہ

ad




ad




اشتہار




بلاگ زبان و بیاں میرے مطابق

اردودانی اورہم–ظفراللہ


تعلیمی ورکشاپ میں جب میرا مقالہ ختم  تو متعلقہ ادارے کے سربراہ مجھے سب سے علحیدہ لے جاکے بڑے رازدارنہ انداز میں مشورہ دے ڈالا کہ “تمھیں فارسی ضرور سیکھنی چاھئے!”میرے تعجب خیز استفسار پر مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ میری “اردودانی”بڑی تگڑی ہے اور مجھے فی الفور “فارسی دانی” سے اس میں مزید نکھار لانا چاھئے..بہرحال ہم نے اس کو روایتی “مکھن”سمجھ کر ادھر ہی قصہ بےباق کیااچھا ہوا وہاں ہمارا دوست خلیفہ خان موجود نہیں تھا کیونکہ اس کے “وہاہاٹٹٹھ” سے ڈائریکٹر کی جان کنی واقع ہونی تھی.اردو ہماری محبوبہ ہے اور ہم اس معاملے میں بھی مؤحد ہونے کے قائل ہیں اگرچہ ذاتی طور پر میری یہ شدید خواہش رہی ہے کہ فارسی سیکھ کر علوم کے مزید موتیوں تک رسائی حاصل کی جائے تو کیا ہی بات ہو..مگرچچا غالب کہہ گئے تھے”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے”

اب یہ خیال گُرز کی طرح ذھن پر برس رہاہے کہ بجائے یہ کہ فارسی پہ مغزماری کی جائے..”آقاؤوں”کی مقدس زبان “انگلش”سیکھ کر ثواب دارین حاصل کرتے ہیں(احباب سوچ رہے ہونگے کہ اس میں”دارین”کا کیا محل..تو جناب دیکھتے جائیے کچھ عرصے بعد پاکستان میں جنت میں جانے کے لئے بھی انگلش سیکھنے کی شرط رکھی جائے گی)مجھ میں یہ انقلاب معکوس کیوں رونما ہوا اس کی چند وجوہات ہیں!

حالیہ دنوں میں  NTS کے تمام ٹیسٹ اس زبان میں دینے پڑ رہے ہیں اور منہ کا ذائقہ اس قدر خراب ہوچکا ہے کہ اب اپنی “محبوبہ”کے متعلق نفسیاتی طور پر کڑواہٹ محسوس کرنے لگاہوں.پورے ٹیسٹ کی ترتیب بندی(Format) اس طرح کی گئی تھی کہ خود پر شکسپئرانہ نسل ہونے کا گمان ہونے لگا..اور باہر نکل کر ایسی سرمستی کی کیفیت تھی کہ”لہرا لہرا کے بل کھا کے”سب کو بڑے مخمور انداز میں دور دور ہی سے جلترنگ سے نوازتے رہے…گویا “نہ باگ ہے ہاتھ میں نہ پا ہے رکاب میں” کے مصداق خود کو ہواؤں میں اڑتا پایا.

ٹیسٹ سنٹر میں بیٹھ کر ہی ہم نے لگے ہاتھوں کئی ارادے باندہ لئے تھے کہ پہلی مہم”انگش کی کوہِ پیمائی کی تھی..اگرچہ آج تک اس زبان کی تحصیل میں ہم نے کوئی ایسی کسر نہیں چھوڑی ہے جس پر آج پچھتانا پڑتا..مثلاً

جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو “ہیلو مم”اور “میں بیٹھ جاؤں پاپا”کہنا شروع کردیتے ہیں اور بعض تو ایسے بھی ہیں کہ پوری عمر ان دو لفظوں سے خود کو باندھے رکھتے ہیں. اور”ٹونکل ٹونکل لٹل سٹار”گاتے ہیں پھر ساری عمر درست گرائمر اور درست تلفظ پر قربان کرتے ہیں.ہم شکسپئر کو شکسپئر کے ہم وطنوں سے ذیادہ جانتے ہیں.مگر اس کے باوجود اہل انگلش ہمیں آج بھی ان پڑھ ہی مانتے ہیں.گویا”اس ہستی موہوم میں کس کام کا ہوں میں”
ایک دن میرے دوست خلیفہ خان مغموم بیٹھے تھےکہنے لگے کہ میں نے اپنی ٹیویشن بند کردی ہے.میں نے وجہہ پوچھی تو کہنے لگے

گھر میں ماموں Would کو “وولڈ”ُپڑھاتے ہیں اور ٹیویشن ماسٹر “ووڈ”پڑھاتے ہیں..میں نےکہا.. تو؟کہنے لگے

گھر میں ووڈ پڑھتا ہوں تو ماموں مار دیتے ہیں اور ٹیویشن ماسٹر کے سامنے وولڈ بولتاہوں تو وہ مارنے لگتے ہیں..میرا ہاسا نکل گیا تو وہ خونخوار نظروں سے مجھے دیکھا اور گویا ہوا

“وولڈ یو لائیک ٹو ٹیل می اباؤٹ”اس سے پہلے کہ وہ جملہ مکمل کرتا ہم نے بھی اس کے رخسار مبارک کو لال کیا اور یہ جا وہ جا..!

یہ چند مثالئے ہیں حالانکہ ہماری پوری قومی”ٹیسٹ”تاریخ ان سے بھری پڑی ہے معاملہ اگر یہیں تک محدود ہوتا تو بادل نخواستہ قابل قبول ہوسکتاتھا.مگر اب تیسری زبان بولتے بولتے بھلے چنگے انسان بھی تیسری جنس بنتے جارہے ہیں.اس ملک کے مستقبل کے ساتھ اس سے بڑھ کر اور کیا کھلواڑ ہوسکتاہے..میں اپنے دوست خلیفہ خان کو یہ کتھا سنا رہاتھا تو آخری سطر پہ وہ چلا اٹھا…”وہاہاہاٹٹٹھھھ”آر یو میڈڈڈے؟

اس سے پہلے کہ وہ “وولڈ” بولتا اور دوبارہ اپنا رخسار لال کرواتا…ہم نے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت جانی…