لکھاری لکھاری » میرا نقطہ نگاہ » اور بجلی کٹ گئی -الیاس بابر محمد

ad

میرا نقطہ نگاہ میرا نقطہ نگاہ

اور بجلی کٹ گئی -الیاس بابر محمد


15056375_894072960693856_2782144273281659681_n
عابدہ حسین معروف پاکستانی سیاستدان ہیں ،امریکہ میں پاکستان کی سفیر بھی رہی
ہیں انکی حالیہ آنے والی کتاب ” POWER FAILURE ” کا اردو ترجمہ ” اور بجلی کٹ
گئی ” کے نام سے اکتوبر میں مارکیٹ میں آیا ہے اسی سے لکھاری کے قارئین کے لیے
کچھ دلچسب واقعات قسط وار شئیر کر رہا ہوں – ( حصہ دوئم )

عابدہ حسین اپنی کتاب کے تیسرے باب میں سیلاب کے دوران زوالفقار علی بھٹو کی
جھنگ آمد کا ذکر کچھ یوں کرتی ہیں

سرگودھا ڈویژن کی ساری انتظامیہ بشمول اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ہیلی پیڈ
پر قطار بنائے کھڑے تھے ایک اسٹنٹ کمشنر نے قطار میں کھڑے تمام افراد کو گیندے
اور گلاب کے ہار پکڑا دیئے – جب وہ لائن کے آخر میں میرے پاس پہنچا تو تو میں
نے پوچھا یہ ہار کس لیے ؟؟ قائد عوام کے لیے ، اس نے جواب دیا – وزیر اعظم
سیلاب سے تباہ حال لوگوں سے اظہار ہمدردی کرنے اور امداد دینے کے لیے آ رہے
تھے جو انکا فرض تھا ، بیوروکریسی اس موقعے کو سیاسی ریلی میں تبدیل کرنے کی
کوشش کیوں کر رہی تھی ؟ میں نے ابھی کمشنر سے اتنا ہی کہا تھا کہ جواب میں اس
نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر نیچے آ رہا ہے –

بھٹو ماؤ کیپ اور سفید سفاری سوٹ پہنے ہیلی کاپٹر سے اترے – میرے سوا ہر کسی
نے انہیں پھولوں کے ہار پہنائے یہ دیکھ کر انہوں نے سارے ہار اتار دیئے اور
اونچی آواز میں کہا ” یہ ہار پہنانے کا موقعہ نہیں ہے ” تب انہوں نے آواز کو
دھیما کیا اور مجھ سے پوچھا ‘ عابدہ یہ تم ہو ؟ تمھاری حالت بہت خراب لگ رہی
ہے کیا ہوا ؟

جناب وزیر اعظم میں امدادی کیمپوں میں کام کر رہی تھی ، اور یہاں لوگوں کی
حالت خوفناک ہے – میں نے جواب دیا –

” کہاں ہیں وہ مجھے دیکھاؤ "، اور وہ گورنر مصطفیٰ کھر کے ہمراہ تیز قدموں سے
آگے بڑھے – جب ہم عورتوں اور بچوں کے پاس پہنچے تو بد بو آئی اور بھٹو نے شاید
ناک پر رکھنے کے لیے رومال نکالا ، لیکن عورتوں کی داد و فریاد سن کر انکی
آنکھوں میں آنسو آ گئے – انہوں نے گھٹنوں کے بَل جھک کر بچوں کو بانہوں میں
لیا ، انکے چہروں کو اپنے رومال سے پونچھا –

بھٹو صاحب نے مجھے بلایا ، ” عابدہ مجھے بتاؤ ان عورتوں اور بچوں کو فوری طور
پر کس چیز کی ضرورت ہے ” وزیر اعظم صاحب ، انہیں کپڑے دھونے کا صابن ،
بیکٹیریا مارنے والا اور صفائی کا سامان ، بنیادی گھریلو برتن ، گرمیوں کے
کپڑے اور جوتے ، آٹا ، چاول اور خوردونی تیل جیسے ڈرائی راشن کی ضرورت ہے ” –

” باجوہ ” بھٹو نے کمشنر سرگودھا کو آواز دی
” ہماری نوجوان عوامی نمائندہ نے جو کچھ کہا ہے نوٹ کر لو اور فورا” صابن کا
ایک ٹرک ان لوگوں کو پہنچاؤ ، اس کے علاوہ تام ضروری سامان بھی ” – آؤ اب اس
جگہ چلتے ہیں جہاں مرد جمع ہیں –

جب بھٹو ڈائیس کے ایک طرف بنائی گئی عارضی سیڑھیوں سے اوپر چڑھے تو صدر پی پی
جھنگ عمر حیات سیال میگا فون پر نعرے لگا رہے تھے ” قائد عوام زندہ باد ”
بھٹو اس کی طرف گئے، اور میگا فون چھینا اور چلائے – ” چمچہ ! بیٹھ جا ! ” مگر
سیال باز نہ آیا اس نے ایک اور میگا فون اٹھایا اور چلایا
” مجھے قائد عوام کا چمچہ ہونے پر فخر ہے ”

” او چمچہ مجھے تمھاری ضرورت نہیں – مجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا آتا ہے ” بھٹو
نے جواب دیا –
مجمعے کو یہ مکالمہ بہت پسند آیا اور کافی دیر تک ” جیئے بھٹو ، جیئے بھٹو ”
کے نعرے گونجتے رہے –
یہ تھے زوالفقار علی بھٹو ، عظیم عوامی رہنما –

( جاری ہے )