لکھاری لکھاری » میرے مطابق » برمی مسلمانوں کی حالت ِزار–فرازناصردھاریوال

ad




ad




اشتہار




میرے مطابق

برمی مسلمانوں کی حالت ِزار–فرازناصردھاریوال


14925502_1283446005051935_422765690786987413_n-2
میانمار (برما) چووّن ملین آبادی پر مشتمل جنوب مشرقی ایشیائی ملک ہے جس کی سرحدیں انڈیا، بنگلہ دیش، چائنہ، لاوس اور تھائی لینڈ سے جڑی ہوئی ہیں، اس ملک میں نُواسی فیصد لوگ بدھ مت مذہب کے پیروکار ہیں، چار فیصد لوگ عیسائی مذہب سے منسلک ہیں، چار فیصد لوگ مسلمان ہیں اور باقی تین فیصد لوگوں کا تعلق مختلف مذاہب سے ہے۔ اس طرح میانمار میں مسلمان اقلیت کی حثیت رکھتے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کی کل آبادی تقریبا اکیس لاکھ ساٹھ ہزارہے۔
برما میں موجود اور مختلف ممالک میں پناہ گزین روہنگیا مسلمانوں کی تفصیل ذیل ہے:
برمامیں موجود : تقریبانو لاکھ
سعودی عرب : تقریباچار لاکھ
بنگلہ دیش : تقریباپانچ لاکھ
پاکستان : تقریبادو لاکھ
تھائی لینڈ : تقریباایک لاکھ
ملائشیا : تقریباساٹھ ہزار
میانمار کی مغربی ریاست راخائن روہنگیا مسلمانوں کا اکثریتی صوبہ ہے جو کہ میانمار کی غریب ترین ریاست ہے،اس وقت روہنگیا مسلمان امدادی کیمپوں میں بے یارومددگار زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے روزمرہ کے حالات بدترین ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ انہیں اس ملک کی شہریت بھی نہیں دی جا رہی جہاں وہ قدیم زمانے سے ہی آباد چلے آ رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ہی وطن میں بے وطن ہیں، ان کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے، ان کے خاندان کے افراد کی تعداد پر نظر رکھی جاتی ہے، انہیں مذہبی آزادی حاصل نہیں اور انہیں روزگار تک رسائی نہیں۔ برما میں شدت پسند بدھ مت اور برمی مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کو دو سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے اور اس دوران روہنگیا مسلمانوں کی نسل کُشی جاری ہے۔گذشتہ دو ماہ سےبدھ مذہب کے پیروکار بوذی قبائل کے دہشت گردوں اور عسکری اداروں کے ہاتھوں مسلمانوں کے سفاکانہ قتل عام میں ہزار وں افراد شہید اور لاکھوں کو بے گھر کیا جا چکا ہے۔ اس وقت بحیرۂ انڈمان میں میانمار اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے ہزاروں پناہ گزین کشتیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔کشتیوں میں پھنسے پناہ گزینوں کی پانی اور خوارک کی کمی کی وجہ سے حالت کافی خراب ہے۔ حکومت کی طرف سے برما کے مسلمان اکثریت کے علاقوں میں کسی غیر ملکی صحافی کے دورے پر مکمل پابندی ہے اور ان مسلم اکثریتی علاقوں میں عسکری اداروں کا مکمل کنٹرول موجود ہے۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ان بے سہارا اور مظلوم مسلمانوں کے لٹے پٹے قافلے پناہ کی تلاش میں ہمسایہ مسلمان ملک بنگلہ دیش میں جانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہاں کی حکومت بھی دھتکار کر واپس دھکیل دیتی ہے۔ دوسری طرف مسلمان ممالک کی تنظیم او آئی سی بھی مکمل چپ سادھے ہوئے ہے۔کیا مسلمان ممالک میں کوئی تنظیم یا ادارہ ان مظلوموں کے لئے عملی قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے۔اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی بھی تکلیف دہ ہے۔
میڈیا کی جانب سے اس طرح کے مظالم کو ٹھیک طرح سے اجاگر نہ کرنا بھی کسی جرم سے کم نہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں مظلوموں کی دادردسی کے لیے برما نہیں پہنچیں ۔اس موقع پر میں امریکی و برطانوی ہائی کمان و عالمی امن کے متولی ادارے اقوام متحدہ کی بے حسی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
اتوار کو کولمپور میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف ریلی کی قیادت کرتے ہوئے ملائیشیاکے وزیراعظم نجیب رزاق نے برما میں جاری مسلمانوں کےقتل عام کو روکنے کے لیے ہمسایہ ایشیائی ممالک اور دنیا پر زور دیا ہے ۔ان کامزید کہنا تھا کہ ہم میانمار کی حکومت کو سخت پیغام دینا چاہتے ہیں کہ”بس بہت ہوگیا”۔