لکھاری لکھاری » کالم » مقدمہ کشمیر اور بھارتی جنگی جنون—نجم الثاقب

ad

کالم

مقدمہ کشمیر اور بھارتی جنگی جنون—نجم الثاقب


saqib-small

پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کا حقیقی سبب کشمیر ہے۔آئیے ذرا مقدمہ کشمیر کو سمجھتے ہیں۔ شمال مشرق میں واقع کشمیرجنت نظیر وادی کی سرحدیں ایک طرف پاکستان جبکہ دوسری طرف چین اور بھارت کے ساتھ ملتی ہیں۔بانی پاکستان قائد اعظم نے قدرت کے حسین شہکار کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا۔ برصیغر کی تقسیم کے وقت کشمیر ایک الگ خود مختار ریاست تھی جس پر مہاراجہ ہری سنگھ کی حکمرانی تھی۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے بٹوارے کے رہنما ا صول بنائے جس میں تمام ریاستوں کے شہریوں کو کھل کر پاکستان اور بھارت میں الحاق کا حق حاصل تھا۔ 1947میں دنیا کے نقشے پر دو نئی ریاستیں پاکستان اور بھارت وجو د میں آئیں جن کا انتخاب 567 ریاستیں میں سے ہوا۔ جموں کشمیر ، حیدر آباد دکن اور جونا گڑھ کی ریاستیں کئی لحاظ سے منفرد تھیں جن کے حکمران ہندو یا مسلم جبکہ عوام کی اکثریت ہندو یا مسلم تھی۔ بھارت نے برطانوی سامراج سے مل کر حیدر آباد دکن اور جونا گڑھ پر یہ کہہ کر قبضہ کر لیا کہ وہاں ہندو اکثریت آباد ہے۔ جموں و کشمیر کی 75 فیصد آبادی مسلمان تھی جو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے ڈوگراراج کے ظلم و ستم برداشت کر رہے تھے۔
کشمیر کا خطہ کئی ادوار میں آزاد رہا ہے تیسری صدی قبل مسیح میں موریہ سلطنت، سولہ سے اٹھارہ صدی عیسوی میں مغلیہ سلطنت، جبکہ انیسوی اور بیس صدی میں برطانوی سمراج کا حصہ رہا ہے۔ 1846 تک یہ سکھوں کی سلطنت کا حصہ رہااس سال انگیریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر اسے سکھوں کے سردار گلاب سنگھ کو ایک معاہدے امر تسرگلاب سنگھ کے تحت 75 لاکھ میں فروخت کر دیا۔اس کے بعد خاندانی وراثت کا سلسلہ چلتارہا۔ گلاب سنگھ اور اس کے بعد آنے والے مہاراجوں نے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ گرائے۔
سے 1857 تک گلاب سنگھ۔ 1846 ٭
٭ 1857 سے 1885 تک رنبیر سنگھ۔
سے 1949 تک ہری سنگھ۔ 1885 ٭
سے 1925 تک پرتاب سنگھ۔ 1925 ٭

1932
شیخ عبداللہ نے جمو ں و کشمیرمیں پہلی سیاسی پارٹی آل جمو ں و کشمیرمسلم کانفرنس بنائی جو بعد میں نیشنل کانفرنس بن گئی۔ کشمیر کے بگڑتے ہوئے سیاسی حالات و اقعات کے ساتھ کشمیری عوام کے بھڑے ہوئے جذبات کو دیکھ کر مہاراجہ ہری سنگھ کو1934 میں مجبوراً جمہوریت کی اجازت ریاست کی قانون ساز اسمبلی کو دینا پڑی۔ تقسیم ہند کے وقت کشمیر کے عوام کو بھی حق رائے دہی استعمال کرنا کا حق تھا کہ وہ پاکستان اور بھارت میں سے جس کے ساتھ چاہیں اپنا الحاق کر سکتے ہیں۔ مہاراجہ ہری سنگھ بہت پہلے سے ریاست کی مرضی کے برخلاف بھارت کے ساتھ الحاق کا ارادہ کر چکا تھا۔ ریاست کے اندر بڑی تعداد مسلمانوں کی ہونے کا بڑا مسئلہ تھا سو مہاراجہ کی ایماء پر ڈوگرا فواج نے بڑے پیمانے پر مسلم نسل کشی کامنصوبہ بنایا تاکہ ہندوؤں کی تعداد39 فیصد کو پھیلایا جا سکے۔ 1 اکتوبر 1947 میں دو لاکھ مسلمانوں کو ڈوگرا افواج نے شہید کیا لاکھوں افراد کو زخمی کیا ان کی جائیدادیں اور املاک کے اوپر قبضہ کیا گیا۔ 22 اکتوبر 1947کو وزیرستانی اور ہزار ہ قبائلیوں نے کشمیر ی مسلمانوں کی مدد کے لئے لشکر بنا کر حملہ کر دیاڈوگرا افواج نے بڑی تعداد میں افراد کو دیکھتے ہی میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔مہاراجہ ہری سنگھ جو پہلے ہی اپنی ہمددریاں بھارت کے پلڑے میں ڈال چکا تھا اس نے کشمیر کی ڈور 27 اکتوبر 1947 کوبھارت کے حوالے کر دی۔ بھارت جو پہلے ہی تیار بیٹھا تھا اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کرکے قابض ہو گیا، قبائلیوں کا لشکر سری نگر تک جانے میں کامیاب نہ ہو سکا،یوں جموں و کشمیر کے بڑے حصے پر بھارت قابض ہو گیااس وقت کے بھارتی وزیر اعظم پنڈت جوہر لال نہرو بھی اس سازش کا حصہ تھے۔

کشمیری رہنما شیخ عبد اللہ اور پنڈت جوہر لال نہرو دونوں گہرے دوست تھے ، شیخ عبد اللہ جو کشمیری کیمونسٹ و سیکولرلیڈر تھے جو ماضی میں لمبے عرصے تک مہاراجہ ہری سنگھ کی زیر عتاب رہے۔شیخ صاحب کشمیر کی آزادی کے پاسبان کا علم اٹھائے ہوئے تھے جب کبھی شیخ صاحب کو ڈوگرا فواج کے ہاتھوں گرفتار ہونا پڑتا ،پنڈت جوہر لال نہرو کی دوستی کے بدولت انہیں رہائی ملتی۔کشمیر پر غاصبہ قبضہ کے بعد شیخ عبداللہ کے خیالات میں لالچ اور حکمرانی کا خواب صاف نظر آنے لگا، وہ کشمیر کا بلا شرکت غیر حکمران بننے کے لئے پنڈت جوہر لال نہرو سے روابط بڑھانے لگے۔ پنڈت جوہر لا ل نہرو بھی کشمیر پر بھارت کا کنٹرول قائم رکھنے کے ایک مسلم چہرہ چاہتے تھے تاکہ عالمی دنیا کو دیکھایا جائے کہ بھارت کشمیر ی قیادت کو تسلیم کر تے ہوئے اختیارت کی منتقلی کا عزم رکھتا ہے۔ پنڈت جوہر لال نہرو نے بھارتی آئین ساز اسمبلی سے آریٹکل 370 بل منظور کروایا جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خود مختاری حاصل ہو گئی بھارتی عوام خصوصی اجازت نامہ کے بعد کشمیر میں داخل ہو ں گے۔ شیخ عبداللہ نے ٹھاٹ باٹ کے ساتھ خود کو وزیر اعظم کہلوانا شروع کر دیا،مسلمانوں کی اکثریت نے وقت گزرنے کے ساتھ حالات و اقعات سے اندازہ لگا لیا یہ کشمیر ی عوام کے نہیں بلکہ بھارتی سرکارکے ایجنڈے پر کار فرماہیں۔ مسلم امت میں المیہ ہے کہ ہر دور میں میر جعفر و صادق موجود رہے ہیں جن کی ہمدردیاں اپنی لالچ اور مفادات کے لئے دشمن کے لئے ہیں۔ کشمیر کی تاریخ میں شیخ عبد اللہ اور فاروق عبداللہ نے یہ رول بھارتی سرکار کے لئے ادا کیا ہے۔ اْس وقت سے ابھی تک کشمیر کی جہدو جد آزادی میں قربانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔بھارت اور پاکستان کے دوران تین جنگیں لڑیں گئی جن میں 1965 ، 1971 اور 1991 میں کارگل شامل ہے۔
بھارت کو جنگی جنوں کا دورہ اکثر پڑتا ہے ماضی میں کئی بار لائن آف کنٹرول پر بلا جواز نہتے شہریوں کی زندگیوں کو نشانہ بنانا ،ان کے مال کو نقصان پہنچانا بھارتی فوج کاوطیرہ ہے۔ ماضی میں کئی بار جنگ کا بغل بجا کر اپنی افواج کو حملہ کرنے کی غرض سے سرحد پر لایا ،پاکستان قوم وافواج کو جذبہ ایمانی و حب الوطنی سے سرشار دیکھ کر مجبوراً منہ موڑنا پڑا۔ بھارت کو پاکستان کی صلاحیت کا شاید اندازہ ہی نہیں ہے پاکستان افواج ہر قسم کی جنگ و حملے کا منہ توڑ جواب کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بحثیت قوم ہم بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ آج کئی دہائیوں کے گزرنے جانے کے بعد کشمیری اپنی جانیں ، عزتیں اور املاک کی قربانی دے رہیں پاکستان نے ہر فورم پر ان کی سفارتی، اخلاقی اور مالی امدار کا عہد کر رکھا ہے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے بھارتی دہشت گردی کی تصویر اقوام عالم کو دیکھائی اور ان سے کشمیر میں وفد بھیجنے کی اپیل کی تاکہ وہ وہاں جا کر کشمیریوں کے ظلم و ستم کا اندازہ اپنی آنکھوں سے لگا سکیں۔
بھارت نے ہمیشہ پاکستان میں امن و سلامتی کی فضا کودہشت گردی میں تبدیلی کرنے کے لئے ہر حربہ آزمایا ہے۔ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نندرمودی نے بڑے فخر یہ انداز میں تقسیم بنگال کو بھارت کا عظیم کارنامہ قرار دیا ہے۔ پاکستان جب کبھی ان ثبوت کو پیش کرنے کی بات کئی تو بھارت نے راہ اختیار کی ہے۔ د نیا کو بھارت کا مکروہ چہرہ اور جنگی عزائم کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ، دہشت گردی، عصمت گری اور انتہا پسندی کی صورت میں نظر آرہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات بہت ہی کشیدہ ہے ، کشمیری رہنما مظفر وانی کی شہادت کے بعد بھارتی افواج نے مظالم کا نیا باب شروع کر رکھا ہے بھارت نے جنگی جرائم کی تمام حدو ں کو کراس کیا ہے۔کشمیر کی پوری وادی میں لمبے عرصہ سے کرفیو نافذ ہے۔ نہتے عوام پر ممنوعہ ہتھیاروں سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے ، پیلٹ گن، پاواشیل اور دیگر ہتھیاروں کا بیمانہ استعمال کر کے آزادی اور حق خودارادیت کی تحریک کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ نظام زندگی پوری طرح مفلوج ہو کر ر ہ گیا ہے ، سکول ، کالج، تعلیمی ادارے، ٹرانسپورٹ، زرائے ابلاغ کو مکمل طور بند ہیں۔تمام کشمیری حریت رہنماؤں کو گرفتار اور نظر بند کر رکھا ہے۔ کشمیر کی پوری وادی میں مظاہروں و احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، سری نگرکے اسپتال زخموں سے بھرے پڑے ہیں۔ پیلٹ گن سے سات سو افراد کی بینائی محروم ہو چکی ہے ایک سو بیس سے زیادہ شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہو چکے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنڑول کے قریب مقبوضہ کشمیر کے علاقے بارہ مولا کے قصبے میں اْڑی میں بھارتی فوج کے ہیڈ کوارٹر پر مسلح حملہ ہوا جس میں سترہ انڈین فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔بھارت نے حملہ کے دوران الزام پاکستان پر لگا دیا۔ حملے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنر کا رابطہ ہوا۔ انڈین ڈائریکٹر جنرل ملڑی آپریشن رنبیر سنگھ نے بتا یا کہ ہلاک ہونے والے چاروں حملہ آور کا تعلق جیش محمد سے تھا جن کے پاس کے پاکستانی اشیاء ملی ہیں۔ اس سے پہلے بھی رواں برس جنور ی میں پٹھان کورٹ واقع پیش آیاجس میں چھ شدت پسند و ں نے فوجی چھاؤنی میں گھس کر چار دن تک فوجیوں کو یاغمال بنائے رکھا اور سات سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے۔
دنیاکے سامنے بھارت کے مکروہ و گھناؤنے چہرے کی کلی کھل چکی ہے اب بھارت کو بھی عالمی طاقتوں کا دباؤ ہے اس لئے بھارت کے اندر عوام نے بھی سرکار کے ظلمانہ اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پرآواز اٹھا شروع کر دی ہے۔ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ سے د نیا بھرکے مظلوموں کے درد کو اپنا درد تصور کرتے ہوئے ان کی اخلاقی، سفارتی اور ضروریاتی امداد کی ہے۔ مسئلہ کشمیر ، فلسطین، برما، شام، لیبیا، عراق یا افغانستان کے معصوم انسانی جانوں کا زیاں پر ان کا ہر فورم پر ساتھ دیا ہے۔۔ جنگوں سے وسائل کا خاتمہ اور بات چیت کے ذریعے سے تمام مسائل کا حل نکلتا ہے۔
اقوام عالم جانتی ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے پچھلی تین دہائیوں سے ستر ہزار سے زیاد ہ قیمتی انسانی جانیں وطن عزیز پر قربان کیں ہیں۔ ڈاکٹرز، انجیئنر، پروفیسر، وکلاء4 ، دانشور، اسکالزر، ججز، استاتذہ ، طالب علموں کے ساتھ لاء ان فورس منٹ ایجنسی اور افواج پاکستان نے اپنی جانیں نچھاور کیں ہیں۔ اس کے باوجود پاکستانی اپنے کشمیری عوام کے لئے صدائے حق بلند کر رہے ہیں تاکہ بھارت کے ساتھ ساتھ نام نہاد علم بردار اور انسانی حقوق کے مجرمانہ خاموشی اپنائے ہوئے کو جگایا جائے۔ ایشیا میں امن و سلامتی کا سب سے بڑا خطرہ انڈیا کا جنگی جنون ہے جو کشمیر میں جاری دہشت گردی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ قائم روابط کی شکل میں واضح ہے۔ عالمی طاقتوں کو چاہیئے کہ وہ بھارت کے مکروہ چہر ے و عزائم کو سپورٹ نہ کرے، کشمیر میں خون کی جاری ہولی اور دہشت گردی کو فوراً روکا جائے۔بھارت خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کو ملحوظ خاطر رکھے جس کے بعد ہی تمام مسائل کا ٹیبل ٹاک کے ذریعے حل تلاش کیا جا سکتا ہے