پانامہ کیس – سردارجمیل خان

ad



ad

میرے مطابق

پانامہ کیس – سردارجمیل خان


سپریم کورٹ آف پاکستان میں جو کیس زیر سماعت ہے اسکی دو جہتیں ہیں۔۔
01۔ عمران خان پٹیشن:- جسمیں سپریم کورٹ آف پاکستان سے استدعا کی گئی ہے کہ
وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز میاں محمد نواز شریف ولد محمد شریف ساکن
جاتی عمرہ راۓ ونڈ جھوٹ، دروغ گوئی، بد دیانتی اور منی لانڈرنگ کے مرتکب پاۓ
گيۓ ہیں لہذا سپریم کورٹ دفعہ 62/63 کے تحت انھیں نااہل قرار دے۔۔
سپریم کورٹ جو کہ “احتساب کورٹ” نہیں ہے فی الوقت دفعہ 62/63 کے تحت وزیراعظم
کی اہلیت دیکھ رہی ہے اور فوری فیصلے کی منتظر قوم کی نظریں بھی اسی پر لگی
ہوئی ہیں ۔۔۔
نوازشریف اینڈ فیملی ملکیت کا اعتراف کر چکی ہے اس لیے انکے خلاف مذید تحقیقات
کی ضرورت ہی نہیں بنتی بلکہ نواز اینڈ فیملی کو عدالت میں اب صرف یہ ثابت کرنا
ہو گا کہ ان کی ملکیتی پراپرٹی لیگل ہے۔۔
02:- سراج الحق پٹیشن:- جسمیں سپریم کورٹ آف پاکستان سے استدعا کی گئی ہے کہ
عدالت تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے جو تمام پانامہ مجرمین، قرض و کمیشن خوروں کے
خلاف انکوائری کرے نیز عدالت الیکشن کمیشن، نیب، ایف۔آئی۔اے اور ایف بی آر
سمیت تمام متعلقہ اداروں کو تحقیقاتی کمیشن سے تعاون کا حکم جاری کرے۔۔۔
بلاشبہ وسیع تر احتساب، لوٹی ہوئی دولت کی واپسی اور کرپشن کی روک تھام کے لیے
سراج الحق کی پٹیشن قوم کے دل کی آواز ہے مگر اس کے لیے 6 ماہ سے ایک سال کا
عرصہ درکار ہے لہذا مناسب یہی ہے کہ میاں نواز شریف کے اہلیت کیس کو وسیع تر
احتساب کے مطالبے کے ساتھ گڈمڈ اور نتھی نہ کیا جاۓ۔۔
امید رکھنی چاھییے کہ سپریم کورٹ نواز شریف اہلیت کیس فیصلے کے بعد ایک
تحقیقاتی کمیشن ضرور تشکیل دے گی جو کمیشن پانامہ کیس، سوئیزرلینڈ اور قرض
معافی کیسز کی روشنی میں نواز، زرداری، شہباز، عمران خان، مولانا فضل الرحمن،
سراج الحق، اسفند يار اور فاروق ستار سمیت ان کے پارٹی ممبرز، بیوروکریٹس کی کرپشن کی آزادانہ تحقیقات کرے اور لوٹی ہوئی دولت واپس قومی خزانے
میں لانے کا انتظام بھی ۔۔