لکھاری لکھاری » میرے مطابق » بگڑتا معاشرہ اور اس کا حل—-قدوس سید

ad




ad




اشتہار




میرے مطابق

بگڑتا معاشرہ اور اس کا حل—-قدوس سید


حالات کی رنگینیوں اور حوادثات زمانہ سے سب سے پہلے انسان متا ثر ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے نبی علیہ السلام نے اپنی امت کو ایک دعا سکھلائی ہے اور مانگنے کی تلقین کی ہے ’’ اے دلوں کے پھیرنے والے اللہ ۔! میرے دل کو اپنے دین کی طرگ پھیر دے ’’ ۔
ہر عقل میں آنے والی سوچ یا نظر کو بہا دینے والا منظر اچھا، فائدہ مند یا سود مند نہیں ہوتا بلکہ سب سے مضبوط چیز وہ ہوتی ہے جس پر سب سے زیادہ تجربات ہوتے ہیں ۔ مٹی کے گھڑے کی صداآپ اگر سن پائیں تو وہ زبان حال سے پکار رہا ہوتا ہے ۔ ’’میراپانی تجھے بہت میٹھا لگتا ہے ،ٹھنڈا لگتا ہے ، لیکن مجھ پر کتنے تجربے ہوئے تو بھول گیا پہاڑ سے کدالوں کے ذریعے کھودا گیا ۔ سواریوں پر لاد کر پھینکا گیا ۔ گوندھا گیا ۔ سانچے میں ڈالتے وقت ہر طرف سے پیٹا گیا ۔ دھوپ میںُ سکھایا گیا ۔ آگ میں پکایا گیا ہر تجربے سے گزرنے کے بعد آج تیری خوشی کا ذریعہ بنا ہواہوں ۔
انسان کے بننے کے لئے فلاسفہ نے قوت سمعی اور بصری کے درست ہونے کو شرط قرار دیا ہے ۔تب ہی انسان انسان کہلاتا ہے جب برا اس کو حقیقت میں برا لگے اور اچھا حقیقت میں اچھا لگے۔ اگر بغض اور دشمنی میں اچھے کو برا اور اندھی عقیدت اور محبت میں برے کو اچھا ثابت کرنے میں وہ ایڑھی چوٹی جا زورلگاتا ہے تو سمجھ لیجئے کہ اس کی قوت سمعی اور بصری کمزور ہے جس کا علاج دنیا کا کوئی ڈاکٹر نہیں کر سکتا بلکہ اس کے دل و دماغ کا یک جہتی سفر ہی اس معاملے میں صحیح فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے ۔
ہمارے بگڑتے ہوئے معاشرے میں کچھ ایسی ہی چیزیں اثر انداز ہو رہی ہیں ۔ اندھی عقیدتیں ،جھوٹے وعدے ، بغض وعنا د سے لدے پھدے قلوب و اذھان آزادی آزادی کی رٹ لگاتی زبانیں ، بنیادی حقوق کے نام پر حقوق پہ ڈاکہ ڈالتی تنظیمیں ، یہ سب کچھ سبب بن رہا ہے قتل و غارت گری کا،حرام اور ناجائز تعلقات کا ، حرام کاروبار کا ، خاندانوں کے اجڑنے کا ، خاندانی نظام کی تباہی کا ، اولاد کے سرکش ہونے کا ، اور سب سے بڑھ کر غربت اور بے روزگاری کا ۔ اصدق القائلین جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’’ قریب ہے کہ فقر و فاقہ انسان کو کفر تک پہنچا دے ’’ ا س چھوٹی سی حدیث میں ہمارے لئے اسباق کے انبار ہیں ، سوچ بدلنے کے مواقع ہیں ، معاشرہ درست کرنے کے اشارے ہیں اور حالات کے تند وتیز تھپیڑوں کو درست سمت موڑنے کا طریقہ ہے ۔
روز روز کے ٹوٹتے بنتے قوانین نے قومی نظریات کو سخت ٹھیس پہنچائی ہے جس کے نتیجے میں اتحاد کش معاشرے کی تشکیل ہو رہی ہے حالانکہ چودہ سو سال قبل سرزمین عرب سے ہمیں بھائی چارے کا درس دیا گیا تھا. اخوت اور محبت کے عملی نمو نے د کھائے گئے تھے رنگ و نسل کی تفریق کو یکسر مسترد کر کے تقوے کو پہچان بنایا گیا تھا.چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کی عزت کا اصلاح کن قانون سکھایا گیا تھالیکن ہم بدلتے چلے گئے حالات کی رنگینیوں سے متاثر ہوتے چلے گئے پھر نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری عزتیں بھی غیر کے آگے تار تار ہو گئیں . جبکہ آزمودہ نظریاتی اور آفاقی قانون کے نفاذ کا دور خوشحال اور ترقی یافتہ تھا . مشرق سے زیورات سے لدی عورت مغرب تک پہنچتی لیکن نظر اٹھا کر کوئی نہ دیکھتا ۔. لیکن آج اپنے آپ کو ترقی یافتہ سمجھنے والی اقوم اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ سات پردوں میں موجود عورت کی عزت پرہاتھ ڈالنے والے قانون کے شکنجے میں کیوں نہیں آتے؟؟؟؟؟
تمام پریشانیوں ،مصیبتوں،مشکلات اور پیچیدگیوں کا آزمودہ حل آسمانی آفاقی اور سچا قانون ہے جس مین کوئی پیچ و خم نہیں ہے…