لکھاری لکھاری » کراچی » سو بچوں کا قتل!!

ad

کراچی لاہور لکھاری میرے مطابق

سو بچوں کا قتل!!


دسمبر 1999, لاہور, پاکستان.

محکمۂ پولیس اور مقامی اخبار کو ایک ہی دن ایک خط موصول ہوا، خط میں لکھے مندرجات نے پولیس اور صحافیوں کو سکتے میں مبتلا کردیا۔ خط میں جاوید اقبال مغل نامی ایک شخص نے سو کم سن بچوں کو زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ جاوید اقبال کی درندگی کا نشانہ بننے والے تمام بچوں کی عمریں 6 سے 16 سال کے درمیان تھی اور ان میں سے زیادہ تر بچے گھر سے بھاگے ہوئے اور لاہور کی سڑکوں پر رہنے والے تھے۔ جاوید اقبال معصوم بچوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے کر نے کے بعد انہیں تیزاب میں گلا کر دریائے راوی میں بہا دیتا تھا۔

جاوید اقبال نے اپنے خط میں راوی دریا میں کود کر خود کشی کرنے کی کوشش کا اعتراف بھی کیا تھا۔

ایک ماہ تک جنونی قاتل نے پولیس اور میڈیا کو چکرائے رکھا۔

تیس دسمبر 1999 کو ایک شخص جنگ اخبار کے دفتر پہنچا اور کہا، ’’میں جاوید اقبال ہوں، سو بچوں کا قاتل، مجھے نفرت ہے اس دنیا سے، مجھے اپنے کیے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے اور میں مرنے کے لیے تیار ہوں، مجھے سو بچوں کو قتل کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ لاہور پولیس نے مجھے بچوں سے زیادتی کے جھوٹے کیس میں گرفتار کیا تھا اور مجھ پہ بے انتہا تشدد کیا جس سے میری ماں کو بہت دکھ ہوا اور میں نے تہیہ کر لیا کہ پولیس کے ہاتھوں میری ماں روئ ہے اب سو مائیں روئیں گی.”

جاوید اقبال اپنا بیان لکھوا رہا تھا کہ وہاں موجود عملے نے پاکستان آرمی کے ادارے ایم-آئ کو خبر کردی جس کے سو سے زائد جوانوں نے اس عمارت کو گھیر لیا. اور جاوید اقبال کو گرفتار کرلیا.

یہ خبر آگ کی طرح پاکستان بھر میں پھیل گئی. لاہور سمیت تمام پاکستانی عوام کے سامنے جب 100 بچوں کے بہیمانہ اغوا، قتل اور ان کے ٹکڑے کر کے تیزاب میں جلا دینے کا لرزہ خیز سکینڈل منظر عام پر آیا تو ہر اس گھرانے میں صف ماتم بچھ گئی جس کاکوئی بچہ اغوا یا لا پتہ ہوا تھا پورے ایک سو بچے اغوا ہو جانے کے بعد بھی پولیس کو اور نہ ہی عوام کو کانوں کان خبر ہوئی تھی۔ ان دنوں گلی گلی محلہ محلہ ، گھر دفاتر ہر جگہ سو بچوں کے بھیانک قتل کی خبر ہی موضوع گفتگو تھی.

پولیس اور اخباری نمائندے جاوید اقبال کے گھر پہنچے تو وہاں انہیں دیواروں اور فرش پر خون کے دھبے اور وہ زنجیر بھی ملی جسے جاوید اقبال بچوں کا گلا گھوٹنے میں استعمال کرتا تھا، جب کہ ایک پلاسٹک کے تھیلے میں کئی متاثرہ بچوں کی تصاویر بھی موجود تھی۔ ان تمام چیزوں پر ہاتھ سے لکھے گئے صاف ستھرے پمفلٹ چسپاں تھے۔ پولیس کو گھر سے تیزاب کے دو ڈرم بھی ملے جن میں دو بچوں کی باقیات موجود تھیں، جن پر ایک تحریر لکھی ہوئی تھی،’’ان لاشوں کو جان بوجھ کر تلف نہیں کیا گیا ہے تاکہ حکام انہیں دیکھ سکیں۔‘‘

پولیس کو اس کے گھر سے ایک ڈائری بھی ملی تھی جس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کی تفصیلات لکھی ہوئی تھی، جب کہ متاثرہ بچوں کے کپڑوں اور چپلوں سے بھرے تھیلے بھی برآمد ہوئے تھے.

اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح حرکت میں آگئے. پولیس نے جرم میں معاونت کرنے پر جاوید اقبال کے ساتھ رہنے والے تین افراد کو گرفتار کرلیا تھا، جن میں سے پولیس کے مطابق ایک جاوید اقبال کو تیزاب سپلائی کرنے والا ملزم اسحاق بلا جب کہ بقیہ دو ملزمان نے اپنے اعترافی بیان میں شریک جرم ہونے اور کچھ بچوں کے ساتھ زیادتی کا اعتراف کیا۔
جاوید اقبال کون تھا؟

جاننگے اس کیس میں..
جاوید اقبال ہم جنس پسند:

جاوید اقبال ایک ہم جنس پسند انسان تھا. اس کا مقصد معصوم بچوں کو اپنی طرف راغب کرنا تھا، جس کے لئے اس نے شادباغ میں ایک ویڈیو گیم کی دکان کھولی، وہ معصوم بچوں کو کم قیمت میں ٹوکن دیا کرتا تھا بلکہ کبھی کبھی تو مفت بھی دے دیا کرتا تھا۔ وہ اپنی دکان میں سو روپے کا نوٹ جان کر گراتا تھا اور دیکھتا تھا کون سا بچہ اسے اٹھا رہا ہے پھر وہ اعلان کرواتا تھا کہ پیسے گر گئے ہیں جس کے بعد سب کی تلاشی لیتا تھا، بعد ازاں وہ بچے کو پکڑ کر ایک کمرے میں لے جاتا تھا اور اسے زیادتی کا نشانہ بنا کر تعلقات اچھے رکھنے کے لئے اٹھاے ہوئئے پیسے واپس دے دیتا تھا.

مختلف رپورٹ کے مطابق جب عوام نے بچوں کو اس کی دکان پر بھیجنا بند کردیا تو اقبال نے فیش ایکوریم کی دکان کھولی بعد ازاں لڑکوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے جم بھی کھولا.

اقبال نے ایک ایئر کنڈیشنر اسکول بھی کھولا لیکن وہ اس میں ناکام رہا، اس نے ایک دکان بھی کھولی جس میں بازار سے کم قیمت پر اشیاء فروخت کرتا تھا۔ جو صرف چند ہفتوں کے لئے جاری رہی۔

اقبال پر بچوں کے ساتھ زیادتی کے لاتعداد کیسس تھے مگر اس نے ہمیشہ ہر کیس کو غلط فہمی اور الزام قرار دیا. اس نے دو شادیاں کی مگر دونوں ناکام رہی. دونوں بیویوں نے اسے اس لۓ چوڑ دیا کے اسے عورتوں میں کوئ دلچسپی نہیں تھی. شادیاں ناکام ہونے کے بعد اس نے باقی زندگی الگ گزاری جہاں اس نے گھر سے بھاگے ہوۓ 16-15 سال کے 5-4 لڑکے ملازم رکھے تھے. اور عجیب بات یہ تھی کے وہ لڑکے بھی اس کے اتنے وفادار تھے کہ وہ ہر جگہ جاوید اقبال کے ساتھ رہتے. جاوید اقبال کی گرفتاری کے بعد لڑکوں نے پولیس سے کہا کہ وہ سولی پر چڑھ جائیں گے لیکن جاوید اقبال کا ساتھ نہیں چوڑنگے. ان لڑکوں نے ساری دنیا کو حیران کر رکھا تھا.

تو کیا وہ 4 لڑکے بھی گناہ کی اس طویل داستان میں برابر شریک تھے.

کیا ان سب نے مل کر اپنا یہ شیطانی شوق پورا کرنے کے لئے 100 معصوم بچوں کی جان لی؟
جاوید اقبال ایک عزاب:

کوٹ لکھپت جیل میں جاوید اقبال کی ایک پاکستانی کینیڈین ماہر نفسیات ڈاکٹر خالد سہیل کو انٹرویو.

“میری پیدائش لاہور کی ہے. میرے والد محمد علی, تھے تو تاجر لیکن شاعر اور صوفی منش آدمی تھے. اسی طرح میرے نانا بھی ایک درویش منش انسان تھے. ہمارے خاندان کو پیروں فقیروں سے بہت عقیدت تھی. گھر والے اکثر داتا دربار پر جایا کرتے تھے.

میری چار بہنیں اور چار بھائ ہیں مگر میرے والدین کو مجھ سے خاص لگاؤ تھا. اور وہ خاص لگاؤ ایک واقعہ کی وجہ سے تھا.

جب میں دس سال کا تھا تو میں والد کے ساتھ مزار گیا. مزار پہ ایک بابا جی نے مریدوں سے خطاب کرنا تھا. تھڑی دیر بعد بابا نے خطاب شروع کیا تو دوران خطاب میں بابا جی کی ہاتھ میں خوبصورت سبز تسبیح کو غور سے دیکھ رہا تھا. بابا جی کی نظر دوران خطاب مجھ پڑی تو خطاب کرتے کرتے رک گۓ. پھر میری طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہنے لگے.

یہ لڑکا کون ہے؟

جاوید اقبال, کسی نے جواب دیا.

کس کا بیٹا ہے؟

محمد علی کا, ایک مرید نے کہا.

اگر محمد علی محفل میں موجود ہے تو سامنے تشریف لائیں.

میرے ابو سامنے گۓ اور مجھے بابا جی کی خدمت میں پیش کیا.

بابا جی نے سب کے سامنے میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور کہنے لگے “محمد علی! میں تمہیں ایک خوشخبری دیاتا ہوں. تمہارا بیٹا کسی اور دنیاں کا باشندہ ہے. وہ برگزیدہ انسان ہے. اس کے ابروؤں کو دیکھو ان کے درمیان ایک ستارہ ہے. یہ ایک نشانی ہے, روہانی نشانی, عالم ارواح کی نشانی. یہ بڑا ہوکر ایک درویش, ایک صوفی, ایک ولی اللہ بنے گا. اس کے ہاتھوں سے لوگوں کو شفا ملے گی.

پھر بابا نے میرے سر پر سبز چادر ڈالی, کچھ پڑھا اور پھونک ماری تو میں بے ہوش ہوگیا. جب مجھے ہوش آیا تو میں تلاوت کلام پاک کر رہا تھا.

وہاں موجود لوگوں نے دیکھا تو وہ بہت متاثر ہوۓ. اس کے بعد بابا کے مرید دور دور سے اپنے بیمار بچے میرے پاس لاتے. حیرت کی بات تھی کے میں دعا کر کہ ان پہ پانی چھڑکتا تو وہ شفایاب بھی ہو جاتے.

میں جو پیشن گوئیاں کرتا وہ بھی درت نکلتیں. میرے گھر والنے ان واقعات پر حیران پریشان تھے. وہ آج بھی ان باتوں کے گواہ ہیں. کرامات کا سلسلہ بڑھتا گیا تو مجھے گھر والے دوبارہ بابا کے پاس لے گۓ.

بابا نے ابو سے کہا میں نے تو پہلے ہی بتایا تھا کہ یہ کسی اور دنیا کا باسی ہے. اللہ نے تمہیں نو بچے دیۓ ہیں اقبال کو یہیں مزار پہ چھوڑ جاؤ.

بابا کی باتیں سن کر ابوں رونے لگ گۓ اور کہاں کے میں ایسا نہیں کر سکتا.

اس کی ماما مجھے کبھی معاف نہ کرے گی.

اس کے بعد بابا جلال میں آۓ اور کہا کہ اچھا پھر اسے واپس لے جاو.

میں اپنی تسبیح اس کے گلے میں ڈالتا ہوں جب تک یہ پہنا رہیگا اسے حال نہیں آۓ گا لیکن محمد علی جاوید کا خاص خیال رکھنا. اسے دنیاوی کاموں شادی کے جھمیلوں میں نہ پھنسانا. کیونکہ اگر کسی نے اس کا دل توڑا یا اس پہ ظلم کیا تو پورے خاندان اور پوری قوم پر ایک عزاب آۓ گا. اور اس دن کے عزاب سے ڈرنا. میں کراچی سے لوٹا تو دن رات تسبیح میرے گلے میں رہتی. اس سے مجھے سکون ملتا تھا. اس میں ایسی طاقت تھی کہ میں اسکول میں جو کام کرتا کامیاب رہتا.

تقریری مقابلوں میں انعامات حاصل کۓ.

میں نے پینٹنگ شروع کی تو لوگ حیران رہ گۓ.

میں چاہے قرت کرتا یا گانا گاتا لوگ میری آواز کی تعریفیں کرتے.

مجھے لکھنے کا شوق تھا میں جرنلسٹ بننا چاہتا تھا.

اسکول کے زمانے سے میں نے مضامین لکھنا شروع کۓ جو “وقت” اخبار میں چھپا کرتے تھے. وہ مضامین آج بھی میری شاعرہ بہن یاسمین کے پاس موجود ہیں. اس نے میری پینٹنگ بھی سمبھال کر رکھی ہوئ ہے.

قلمی دوستیاں میری مشاغل میں شامل تھیں. اپنے ایک سعودی دوست زاہد کے ساتھ مل کر ایک رسالہ بھی شروع کیا تھا جس کا نام ہم نے “جاوید انٹر نیشنل” رکھا تھا جس میں ہم اپنے تمام دوستوں کے نام اور پتے شائع کرتے تھے.

اسکول کے بعد کالج لائف میں نے عالمی مذاہب میں دلچسپی لینی شروع کی. ایک مذہبی ادارے میں تورات, زبور, انجیل اور قرآن مطالعہ کیا اور امتحان دے کر سرٹیفیکیٹ بھی حاصل کیا.

اس کے بعد گھر والوں نے میری شادی کروائ حالنکہ بابا جی نے ابو سے کہا تھا کہ اسے شادی کی الجھنوں میں مت ڈالنا. اس لیۓ میرے خاندان پر یہ عزاب آیا.

میں ایک میگزین بھی نکالا کرتا تھا جو کپشن کے خلاف تھا. اسی میگزین میں میں نے بہت سے گھر سے بھاگے ہوۓ بچوں کی کہانیاں بھی لکھی تھی. اور پولیس پر بہت تنقیدی مضامین لکھا کرتا تھا.

جاوید کا انٹرویو لینے کے بعد ڈاکٹر خالد سہیل اس کے خاندان سے ملا. اسے بڑی حیرت ہوئ کہ جاوید اقبال نے اس سے جو کہا تھا وہی اس کے خاندان نے بھی کہا. وہ بچپن میں ایک روحانی انسان تھا. اس بات کے گواہ بابا جی کے مرید بھی تھے.

کیا ایک برگزیدہ انسان معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کرسکتا ہے؟

یا جاوید کا پڑھا لکھا خاندان بھی پیروں فقیروں کا شکار تھا؟
عدالت کا فیصلہ:

جاوید اقبال کی ڈائری میں اس کے ہاتھوں قتل کیے گئے تمام بچوں کی تفصیلات, اس کے گھر سے تیزاب کے دو ڈرم, گھر کی دیواروں پر خون کے دھبے اور زنجیر ملی لیکن عدالت میں اقبال نے خود کو بے گناہ قرار دیا۔ اس کے مطابق یہ سب گھر سے بھاگنے والے بچوں کے معاملات کو سامنے لانے کے لئے گھڑا گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ایسا صرف اس لیۓ کیا تھا کہ حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھے.

100 افراد نے اقبال کے جرم سے متعلق شہادتیں جمع کرائیں مگر تمام کی تمام شہادتیں صرف بچوں کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ مگر دیگر ثبوتوں کو مدنظر رکھتے ہوۓ عدالت کے جج نے فیصلہ دیا کہ جاوید اقبال کو ان والدین جن کے بچوں کا وہ قاتل ہے، کے سامنے گلا گھونٹ کر مارا جائے گا۔ اس کی لاش کے سو ٹکڑے کئے جائیں گے اور اس کے بعد اسے تیزاب میں ڈالا جائے گا۔ جس پہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا تھا کہ مجرم کا نفسیاتی معائنہ کے بغیر ایسی سزا سنانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت جلد سے جلد اس کیس کو ختم کرنا چاہتا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور قانونی لہاز سے تشویشناک ہے.

تاریخ کی بدترین سزا سنائ جانے کے بعد بھی جاوید اقبال کے تاثرات پر کوئ فرق نہیں پڑا۔
جاوید اقبال اور پولیس:

کہتے ہیں کہ پولیس کی دوستی اور دشمنی دونوں ہی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں.

جاوید اقبال کی پولیس سے دوستی بھی تھی اور دشمنی بھی۔

یہاں پولیس سے دوستی پر اپنے ایک محلے دار کی مختصر کہانی سناتا ہوں.

راقم کے محلے میں اس کے ایک ہم عمر لڑکے کی پولیس سے دوستی تھی. وہ 3 پولیس والوں کو ایسی چھوٹی موٹی خبریں دیتا تھا جس میں ان کا کوئ خرچہ پانی نکلے. وہ 3 پولیس والے بغیر تھانے میں اطلاع دیۓ بغیر ہر اس جگہ پہنچ جاتے تھے جس کی خبر لڑکا دیتا تھا جس میں لڑکے کو بھی خرچہ ملتا تھا. ایک دن لڑکے کی انفارمیشن پہ پولیس والے ایک جگہ پہنچے جہاں سے ایک موبائل چور کو پکڑنا تھا. 3 پولیس والوں کے ساتھ لڑکا بھی تھا جو 3 میں سے ایک پولیس والے کے ساتھ جاۓ واقوع سے تھڑے فاصلے پہ کھڑا رہا. دو پولیس والوں نے جیسے ہی موبائل چور پہ ہاتھ ڈالا تو اس نے فائر کۓ اور دونوں پولیس والوں کو مار کر بھاگ گیا. اب تسرے پولیس والے کو آگے بہت سارے سوالات کے جوابات دینے تھے. اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تو اس نے پستول نکالی اور اپنے دوست انفارمر لڑکے کو وہی قتل کر دیا. صبح اخبار میں جبر آئ “شاہرا فیصل کے قریب پولیس مقابلہ۔ دو پولیس والے اور ایک ڈاکو ہلاک”

جاسوسی گروپ کے ممبر پولیس والے, حبیب پلیجو سے جب اس بارے بات کی گئ تو انہوں نے بتایا کہ آرمی کے علاوہ تمام اداروں میں یہ عام بات ہے اور ایسا انٹرنیشنل لیول پہ بھی ہوتا ہے. بہ وقت ضرورت سنگینی سے بچنے کے لیۓ وہ ایسے لوگوں کو راستے سے ہٹا دیتے ہیں اور ایسے کافی کیسس ہو چکے ہیں.

جاوید اقبال کو ہمیشہ پولیس سے شکایت رہتی تھی. وہ اپنے رسالے میں ان کے خلاف لکھتا تھا. مگر اس کے باوجود اس کی کافی پولیس والوں سے دوستیاں بھی تھی. اس کے گھر والے اکثر اسے پولیس سے تعلقات سے منع کرتے تھے. وہ اپنے رسالے میں کچھ پولیس والوں کی تصاویر کے ساتھ تعریفیں بھی لکھا کرتا تھا. اس کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس کے گھر کے باہر اکثر پولیس کی گاڑی آتی تھی جس میں سے کافی پولیس والے اس کے گھر چاۓ پیتے اور گپ شپ کرنے آتے تھے. جاوید اقبال کا بھائ ایک دن اس سے ملنے گیا تو اس کے گھر کے باہر پولیس کی گاڑیاں دیکھ کے اسے لگا کہ جاوید اقبال پھر کسی غیر قانونی مسائل کا شکار ہوگا. مگر اندر جا کے معلوم ہوا کے وہ سب اس کے دوست اور مہمان تھیں.

اس کے کافی پولیس کے بڑے افسران سے بھی دوستیاں تھی. اور پولیس والوں سے دوستی یا تو سرکاری شخص کی ہوتی ہے یا پھر بڑی سطح پر غیر قانونی کام کرنے والوں کی.

پھر بھی جب وہ سو بچوں کو قتل کر رہا تھا تو کسی پولیس والے کو کیوں خبر نہ تھی؟

کیا وہ بھی اس کے ساتھ اس کارستانی میں برابر شریک تھے؟

جنگ اخبار کے دفتر میں جب جاوید اقبال گرفتاری دینے آیا تھا تو اخبار والوں کو ایک ماہر قانون نے مشورہ دیا کہ اسے پولیس کے حوالے نہیں کرنا ورنہ وہ اسے فوراً کسی نہانے سے قتل کر دینگے اسی لئے عملے نے آرمی سے رابطہ کیا. مگر پھر پتہ نہیں وہ کیسے آرمی سے پولیس کے ہاتھوں میں گیا اور وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا. پہلے جاوید اقبال کے ساتھی اسحاق بلا کو دوران تفتیش قتل کیا گیا اور لوگوں سے کہا کہ اسحاق نے خودکشی کی مگر پوسٹ مارٹم میں اسے زبردستی چھت سے گرایا تھا. جس پر پولیس نے اپنے ہی محکمے کے کچھ پولیس کے خلاف کاروائ کا حکم دیا. مگر یہ اللہ جانتا ہے اس حکم پر عمل بھی ہوا یا وہ سب دکھاوا تھا.

اس کے بعد جاوید اقبال اور اس کے ایک اور ساتھی کو جیل میں قتل کر دیا گیا. جسے خودکشی کا نام دے کر کیس بند کردیا.

پولیس والے اسے کیوں قتل کرنا چاہتے تھے اس کا جواب پولیس کبھی سامنے نہیں لائ.
گمشدہ بچے:

جاوید اقبال نے پہلے تو سو بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا اور پھر عدالت میں انکار کر دیا.

جاوید اقبال کی کہانی کا ایک پراسرار پہلو وہ تیزاب کے دو ڈرم تھے جو اس کے گھر سے نکلے تھے. الزام کے مطابق ان میں سو بچوں کی لاشوں کو تحلیل کیا گیا تھا.

فورنزک سانئنس کے ماہر اور لیبارٹری کے انچارج ڈاکٹر عامر علی کے بیان کے مطابق ایک 15 سال سے کم عمر بچے کی لاش کو تحلیل کرنے کے لئے کم سے کم 20 گیلن تیزاب درکار ہوتا ہے اس طرح 100 بچوں کی لاشوں کے لیۓ 2000 گیلن تیزاب درکار ہوتا ہے. جس کی قیمت تقریباً 6 لاکھ روپے ہے اور اتنی بڑی مقدار میں تیزاب صرف فیکٹریوں کو جاتا ہے جس کا خریدنے والی فیکٹری کے پاس لائیسنس ہوتا ہے اور تیزاب دینے والے کے پاس باقاعدہ ریکارڈ ہوتا ہے۔

تیزاب میں چیزیں ڈالنے سے جو بخارات پیدا ہوتے ہیں وہ باہر کے لوگ محسوس کر سکتے ہیں۔

راوی روڈ کے جس گھر میں سو بچوں کے قتل کا واقعہ پیش آیا اس گھر کی ساخت ایک پیالے کی طرح تھی اور ہمساۓ اس گھر کے صحن میں جھانک سکتے تھے. اگر کوئ اس گھر میں چیختا بھی تو ہمسائوں کو فوراً خبر ہو جاتی. کیا یہ ممکن ہے کہ اس گھر میں پورے سو بچوں کا قتل ہو اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو؟

جاوید اقبال کے گھر سے ملنے والی ڈائری میں پورے سو بچوں کے نام, عمر, پتہ, رنگ, قومیت کے ساتھ قتل کی تاریخ اور دیگر تفصیلات موجود تھی۔

پولیس کئ دنوں تک گمشدہ اور مقتول بچوں کے بارے میں تفتیش کرتی رہی. پولیس کے مطابق 80 سے زائد بچوں کی شناخت ان کے اہلخانہ اور جاوید اقبال کی ڈائری کی مدد سے کرلی گئ تھی۔

جاوید اقبال نے اپنے جیل سے ایک بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ بچے اب بھی زندہ ہیں اور ایک خفیہ جگہ موجود ہیں مگر پولیس کبھی انہیں ڈھونڈ نہیں سکتی.

جاوید اقبال پہ کچھ لوگوں نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ اس نے بچوں سے زیادتی کے بعد اعلی پولیس افسران کی سرپرستی میں بچوں کے اعضا سمگل کۓ جس میں تیزاب کا استعمال ہوتا رہا۔

کیونکہ انہی دنوں یورپ سے کچھ ایسے کیسس سامنے آۓ تھے۔

اگر یورپ میں یہ ممکن تھا تو پاکستان میں بھی ہو سکتا تھا.
ڈرامے باز:

جاوید اقبال کو جتنے لوگ جانتے تھے ان کا کہنا تھا کہ جاوید ہمیشہ ایسی فلمیں دیکھا کرتا تھا جو مار ڈار والی ہو. وہ لائبریری بھی جایا کرتا تھا جہاں وہ جاسوسی سے بھر پور کہانیاں پڑھتا تھا. اسے زندگی بھر ڈرامہ کرنے کا اور سسپنس کا شوق تھا اسی لیئے وہ اکثر معمولی سی بات کو بڑھا چڑا کے ایکشن سے بیان کرتا تھا. اس کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ اس کی ہر بات %99 جھوٹ اور بنائ ہوئ کہانی ہوتی تھی اس لیۓ ممکن ہے کہ وہ اپنی بے مقصد زندگی سے پریشان ہوا ہو اور سوچا ہو سو بچوں کو قتل کا ڈرامہ رچایے تاکہ وہ مشہور ہو جاۓ کیونکہ اس کے ایسے ہی عجیب شوق تھے. اس بات کا ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ اس نے 30 دسمبر 1999 کو گرفتاری دی تاکہ 31 دسمبر 1999, صدی کے آخری دن اخبار میں اس کی تصویر چھپے اور وہ صدی کا سب سے خطرناک قاتل کا ٹائٹل حاصل کرے. اور ایسا ہی ہوا. اخبارات میں اسے صدی کا سب سے بڑا قاتل کا نام دیا گیا.

قتل دو ہو یا سو دونوں صورتوں میں سزا پھانسی ہی ہے.

ہو سکتا ہے اس نے 3-2 قتل کۓ ہوں اور اسے 100 بنا دیا ہو. کیونکہ اکثر سیریل قاتل کی کہانیوں سے ثابت ہوا ہے کہ جب ان کے دور میں کوئ قتل ہوتا ہے تو وہ اپنے گلے میں ڈال دیتے ہیں تاکہ انہیں خطرناک سمجھا جاۓ اور اجباروں کی سرخیوں میں اس کا نام آۓ.
ایک بزدل انسان:

جاوید اقبال کو کسی بھی طرح جاننے والوں نے جب یہ خبر سنی کہ جاوید اقبال نے پولیس کو خط لکھا ہے اور سو بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے تو انہوں نے ماننے سے انکار کیا. کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایک بزدل اور ڈرپوک انسان تھا. اس میں اتنی ہمت اور جرت نہیں تھی کہ وہ سو بچوں کو قتل کر سکے.

جب بھی اس پہ کوئ کیس ثابت ہوتا تھا تو اسے اکثر بہت مار کھانی پڑتی تھی. ایک مارکیٹ میں کاروبار کرتے ہوۓ ایک لڑکے سے بد فعلی کی کوشش کرتے ہوۓ پکڑا گیا تھا تو بہت مار کھائ اور اسے اس شرط پہ مارکیٹ میں کاروبار کرنے کی اجازت دی کہ وہ ایک اسٹام پیپر پر معافی نامہ تحریر کرے اور پھر ہر دوکان میں جا کے سب سے ہاتھ جوڑ کے معافی بھی مانگے. وہ اتنا بزدل تھا کہ اس نے ایسا ہی کیا. پر اس کے باوجود اس نے نہ اس بچے کو دوبارہ کچھ کہا نہ ہی اس نے مارنے والوں میں سے کسی سے بدلہ لیا.​مگر حیرت کی بات ہے کہ ایسا بزدل اور ڈرپوک انسان خود پر اتنا سنگین الزام کیونکر لگائگا. جس میں اسے یقیناً ریمانڈ بھی دینی تھی. اور اس کے گھر سے تیزاب کے دو ڈرم بھی تو برآمد ہوئے تھے. جس میں دو بچوں کی باقیات بھی پائ گئ تھی.

باقیات کے مطلق اپنے انٹرویو میں جاوید اقبال نے بتایا کہ وہ انسانی باقیات نہیں تھی. ایک اور اخباری ریپورٹ میں بھی ان باقیات کو جانور کی باقیات بیان کیا تھا اور پولیس نے تحقیقات سے بچنے کے لیۓ اس بات کو دبایا.

تو کیا ایک ایسا بزدل انسان سو بچوں کا قاتل ہوسکتا ہے؟

مگر کہتے ہیں کہ اکثر بزدل لوگ بھی دماغی تناؤ کی وجہ سے قتل جیسا سنگین کام کر جاتے ہیں.
قابل رحم نفسیاتی مریض:

سائیکو پیتھک شخصیات کے حامل انسان صدیوں سے عوام اور خواص دونوں کے لیۓ ایک معمہ رہے ہیں. ایسے لوگ صحیح اور غلط کا فرق جاننے کے باوجود غلط راہ پر چلتے رہتے ہیں. ایسے افراد اپنی غیر اخلاقی حرکات کی وجہ سے معاشرے کے لیۓ مسائل کھڑے کرتے رہتے ہیں. ماہر نفسیات انہیں پوری طرح جاننے میں اور ان کے علاج سے تاحال ناکام دکھائ دیتے ہیں.

جاوید اقبال کی گرفتاری سے 3-2 سال پہلے اس نے داتا دربار سے ایک نوجوان مالشی بلایا تھا جس نے مالش کے بعد جاوید اقبال پر حملہ کیا اور اسے اتنا مارا کے وہ 22 دن بے ہوش رہا. اسے ہسپتال داخل کروایا جہاں اس پر 95,000 روپے خرچ ہوجانے کے بعد بھی ڈاکٹروں نے اس کے زندہ بچ جانے کو معجزہ قرار دیا.

جاوید اقبال نے اپنے میڈیا کو بھیجے گۓ خط میں اس حملے کا زکر کرتے ہوۓ لکھا تھا کے اس پہ قاتلانہ حملہ ہوا جس کی رپورٹ پولیس کو لکھوائ تو پولیس نے مجرم کو سزا دینے کے بجاۓ ایک اعلی عہدیدار کے گھر ملازم رکھ لیا۔

وہ دماغی اور جسمانی دونوں لحاظ سے مفلوج تھا. 22 دن بے ہوش رہنے والا شخص یقیناً زہنی تناؤ کا شکار ہو سکتا ہے. ماہر نفسیات نے جاوید اقبال کو ایک نفسیاتی مریض کہا اور اسے قابل علاج اور قابل رہم سمجھا.

تو کیا ایک دماغی اور جسمانی مفلوج انسان سو بچوں کا قتل کر سکتا ہے؟

ممکن ہے اس میں اتنی طاقت نہ ہو پر اپنی دماغی خرابی کی وجہ سے وہ ایسے کام کروا تو سکتا تھا.

جاسوسی گروپ ایڈمن ڈاکٹر صباء ارشد سے اس متعلق جاننا چاہا تو انہوں نے جن نفسیاتی بیماریوں کا نام لیا ان میں بایوپالر ڈس آرڈر, ڈپریزن, اور پرسنالٹی ڈس آرڈر شامل ہے. انہوں نے کہا کہ مندرجہ بالا بیماریوں میں ممکن ہے کہ کوئ بھی شخص اس حد تک جا سکتا ہے کہ وہ معصوم لوگوں کو قتل کرے.

اور ان تمام بیماریوں کی خصوصیات جاوید اقبال پر پوری اترتی ہیں.
جاوید اقبال, خودکشی یا قتل:

دس اکتوبر 2001 کو خبر آئ “لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سو بچوں کے قاتل جاوید اقبال اور اس کے ساتھی ساجد نے اپنی اپنی کوٹھڑیوں کی چھتوں سے بستر کی چادروں سے لٹک کر خودکشی کرلی”

جو حضرات جیل کے قوانین سے متعلق تھوڑی بہت معلومات رکھتے ہیں وہ جانتے ہونگے کہ جیل میں سب سے زیادہ اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ بیرکس میں کوئ بھی زریعہ قتل نہ رہے. صرف اس لیۓ نہیں کہ کوئ خودکشی نہ کرے بلکہ اس لیۓ بھی کہ کوئ قیدی دوسرے قیدی کا قتل نہ کرسکے.

جیل کی بیرک میں کبھی ایسی جیز نہیں چوڑتے کہ جس سے لٹک کے خودکشی کی جا سکے.

ایک بات اور بھی عجیب ہے کہ دونوں قیدی الگ الگ بیرکس میں قید تھے مگر دونوں نے ایک وقت میں خودکشی کی. جب کہ ان کے درمیان کسی قسم کا کوئ رابطہ بھی نہیں تھا.

پوسٹ مارٹم رپوٹ آئ تو شکوک صحیح ثابت ہوۓ. ان کے جسم پر چھت سے لٹکنے کے نشانات تو نہیں تھے البتہ انہیں گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا.

آج بھی جب جاوید اقبال کی موت کے بارے میں جاننا چاہو تو دو باتیں ملتی ہیں. ایک, اس نے اور اس کے ساتھی ساجد نے لٹک کے خودکشی کی اور دوسری بات, ان دونوں نے زہر کھا کہ خودکشی کی.

وہ ایک بابا اور اس کے مریدوں کی نظر میں خاندان کے لیۓ تحفہ یا پھر عزاب تھا.

وہ اپنی نظر میں ایک مسیحا تھا.

معاشرے کی نظر میں پاپی.

پولیس اور عدالت کے لیۓ مجرم.

جب کہ ماہر نفسیات کی نظر میں ایک قابل رحم نفسیاتی مریض.

اس کے پچپن, جوانی اور بڑھاپے کے ساتھ اس کی موت بھی پراسرار تھی. امان سعید خان