لکھاری لکھاری » بلاگ » تعویذات —فیاض الدین

ad




ad




اشتہار




بلاگ

تعویذات —فیاض الدین


15211530_346745059017526_903753943_n
ہم لوگ ہر چیز کے لیے شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں جنت چاہتےہیں وہاں بھی شارٹ کٹ چاہتے ہیں کوئی بیماری آگئی اسے دور کرنے کے لیے بھی شارٹ کٹ کی تلاش میں ہوتے ہیں اور یہی شارٹ کٹ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اکثر ایسے خرافات میں پڑ جاتے ہیں کہ نکلنا پھر شکل ہو جاتا ہے۔جس طرح یہود نے کتاب اللہ کو چھوڑ کر ہر کام شارٹ کٹ طریقے سے کرنا چاہا اس مقصد کے لیے انہوں نے جادو شروع کیا کہ بس ایک پھونک مار کر کام ہو جائے اسی طرح بعض لوگ قرآن کو بھی کوئی ایسی کتاب سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی بیماری دور کرنے یا جن بھوت بھگانے کے لیے اترا ہے ۔
ہمارے ہاں دکھ درد اور غم یا کسی او ر مقصد کے لیے تعویزات ،منکے ،کڑے ،چھلے اور د م کردہ دھاگے لٹکائے جاتے ہیں جبکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ
وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا
اور اس (اللہ) کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ۔۔۴:۳۶
اللہ پاک فرماتے ہیں
وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ
ـــــاور اگر اللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس (تکلیف) کو کوئی دور کرنے والا نہیں۔
۱۰:۱۰۷
اللہ پاک ایک اور مقام پر وضاحت کرتے ہیں کہ
وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَىٰ ۗ بَل لِّلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا ۗ أَفَلَمْ يَيْأَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَن لَّوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا
اور اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس (کی تاثیر) سے یہ پہاڑ چلنے لگتے یا(اس کے اثر سے)زمین پھٹ جاتی یا مردہ بولنے لگتا (تو ان تمام صفات سے متصف یہی قرآن ہوتا ) بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ ) سب کام اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔۔۱۳:۳۱
اس آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نفع نقصان پہنچانے اور سارے کے سارے اختیارات صرف اللہ کے پاس ہیں اس میں اسکا کوئی شریک نہیں ۔ یہ تاثیر نہ تو کسی کلام میں ہے نہ جادو میں نہ کلمات طیبات میں ہے ۔قرآن میں جو شفا ہے اس کے متعلق ہمارے مالک نے واضح کر دیا کہ
يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ [١٠:٥٧] لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے

قرآن سے جو شفا حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن پر عقیدہ رکھ کر اس کے ذریعہ عقائد واعمال کی اصلاح کی جائے نہ کہ اس کو گلے میں لٹکا یا جائے یا بازو پر باندھ لیا جائے ۔ قرآن نے شہد کو شفا کہا ہے اب کوئی شہد کھانے کے بجائے اگر شہد کی بوتل کو گلے میں لٹکا دے تو آپ اسے پاگل سمجھیں گے یا عقلمل مند؟
ایسے انسان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے کہ اگر اسے کینسر ہو اور وہ میڈیکل کی کوئی بڑی کتاب کو پڑھنے لگے یا اس کو گلے میں لٹکا لے تو کیا وہ ٹھیک ہو جائے گا؟ آپ یہی کہیں گے نا کہ یہ انتہائی احمق ہے اسے اس میڈیکل کی کتاب پر عمل کرنا چاہیے ۔ لیکن یہی عمل قرآن کریم کے ساتھ ہماری آنکھوں کے سامنے روزانہ ہوتا ہے ہم کو حیرت کیوں نہیں ہوتی ،آپ اس آدمی کو بیوقوف سمجھتے ہیں جو کینسر کے علاج کے لیے ڈاکٹری کی بڑی کتاب پڑھنے لگ جائے مگر یہ جو قرآن کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ہم خاموش ہو جاتے ہیں بالکل یہی عمل ہو رہا ہوتا ہے لیکن ہم اسکو ٹھیک سمجھنے لگتے ہیں اللہ پاک نے جو عظیم الشان نسخہ بھیجا ہے دن رات اس کے ساتھ یہی سلوک ہورہا ہوتا ہے
جب ہم قرآن کی تلاوت کریں یا لکھیں تو یہ افعال ہمارے ہیں ہم مخلوق ہیں مخلوق کے اقوال وافعال بھی مخلوق ہیں،اب تعویذ لکھنا مخلوق ہے اور انسان کہے کہ مجھے اس سے شفا مل جاتی ہے۔ایسا کرنا اور سمجھنا غلط ہے۔ نبی پاک ﷺ فرماتے ہیں
من تعلق تمیمتہ فقد اشرک۔۔(جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا) مسند احمد جلد۴ صفحہ ۱۵۶
واضح رہے کہ تمیمہ کے معنی تعویذ کے ہیں درج ذیل لغات دیکھئے (المنجد صفحہ ۱۱۷،مصباح اللغات صفحہ ۸۷،بیان اللسان صفحہ ۱۸۳)قرآنی تعویذ لٹکانے کا ثبوت نبی پاک ﷺ کی کسی صحیح حدیث سے نہیں ملتا۔ باقی جو روایات عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ سے جامع ترمذی اورسنن ابوداؤد کے حوالے سے پیش کی جاتی ہے وہ صحیح نہیں کیوں کہ اس روایت کے کچھ راوی ناقابل اعتبار ہیں۔

ڈاکٹر سعید راہی صاحب اپنی کتاب ،،مجھے حکم ہے اذان لاالہ اللہ جادواورتسخیر جنات کی حقیقت ،، میں قرآنی تعویذ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آج ہمارے مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد تعویذ کے فرسودہ تصور کو اپنائے ہوئے ہیں اور انتہائی دکھ کی بات ہے کہ اس مقصد کے لیے قرآنی آیات کو استعمال کیا جارہا ہے(استغفراللہ)تعویذ ایک جھوٹا کاروبار اور پھر قرآنی آیات کے ساتھ؟ کیا شرکیہ فعل کو قرآنی آیات کے ساتھ جوڑ کر شرعی بنایا جاسکتا ہے ۔جس طرح غیر اللہ کے سامنے سجدہ کرنا شرک ہے اسی سجدے میں اگر قرآن پڑھنا شروع کیا جائے تو دگناہ گناہ ہوگا باکل اسی طرح تعویذ ایک شرکیہ فعل ہے اس میں قرآنی آیات کا استعمال قابل مذمت ہے یہ کام ہندو بھی کرتے ہیں اور عیسائی بھی یہ طریقہ یہودیوں میں بھی ہے اور بدھ مت کے پیروکاروں میں بھی لیکن ہمارے عاملوں نے تعویذی کاروبار کے پس منظر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے تھوڑی محنت سے ذیادہ کمانے کے لیے ایک غیر اسلامی عمل کو اسلامی کر کے کاروبار شروع کردیا اور پھر یہ صنعت اتنی ترقی کر گئی کہ پورا قرآن پرز ے پرزے کرکے بیچ ڈالا۔وقت گزرتا گیا اور مالی منفعت کے رسیالوگ تعویذی فن کو ترقی دیتے ہوئے آیات مقدسہ اور اسمائے جلیلہ کو نیلام کرنے پر اتر آئے ۔اکتساب زر کے گھٹیا کاروباری وہاں تک پہنچے کہ جہاں کوئی غیرت مند ہندو اپنی گیتا،کوئی سکھ اپنی گرنتھ اور کوئی اہل کتاب اپنے کسی صحیفے کا ایک لفظ بھی لکھنا گوارا نہ کرے،