لکھاری لکھاری » بلاگ » ترکی کی اسرائیل کی مدداورحقائق—حافظ مدثررشید

ad

بلاگ

ترکی کی اسرائیل کی مدداورحقائق—حافظ مدثررشید


15240330_383565138650848_118380537_n
لشکر اسلام نے مجوسیوں کو دھکیلتے ہوئے ہوئے گریٹ فارس کی مغربی سرحدوں تک کا علاقہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سلطنت میں شامل کردیا تھا، لیکن ابھی فارس کی فوج کا آخری حصہ اسلامی لشکر کے سامنے پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا جس کی حالت عظیم فارس کی فوجوں جیسی تو ہرگز نہ تھی لیکن پھر بھی وہ تعداد کے لحاظ سے مسلمانوں سے ایک ڈیڑھ گنا زیادہ ہی تھے۔
امیر لشکر اسلام اس آخری فیصلہ کن جنگ میں پہل نہیں کرنا چاہتے تھے، کیونکہ فارس کی اس فوج سے لڑنے کا سوائے ایرانیوں کی جانوں کے ضیاع کے اور کوئی فائدہ نہ تھا، کیونکہ بچی کھچی فوج کا یہ حصہ بغیر کسی کمک اور رسد کے ایک برفانی علاقے میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا اور ان کی امید کی آخری کرن یعنی ترک بادشاہ نے ان کی مدد سے انکار کردیا تھا، اور لشکر کی حالت ایسی تھی کہ سامان خوردونوش نہ ہونے کے برابر تھا، عورتیں، بچے، بوڑھے اور زخمی کھلے آسمان کے نیچے سردی سے ٹھٹھر رہے تھے، اس لشکر میں مسلمانوں کے ساتھ لڑنے تو درکنار کھڑا ہونے کی ہمت نہ رہی تھی، لیکن امیر لشکر کو ڈر تھا کہ اگر مسلمانوں کو ہماری حالت کا علم ہوگیا تو وہ حملہ کرکے تمام لوگوں کو قتل کردیں گے عورتوں کو باندیاں اور بچوں کو غلام بنا لیں گے۔
اسی خوف کے پیش نظر فارس کے سپہ سالار نے ایک دانا شخص کو مسلمانوں کی طرف بھیجا تاکہ کوشش کرکے مسلمانوں کے ساتھ صلح کی جاسکے۔
قصہ مختصر اس قاصد نے یہاں آکر جب مسلمانوں کا لشکر دیکھا تو وہاں کچھ سابقہ ایرانیوں کو اسلامی لباس میں دیکھ کر دنگ رہ گیا، وہ روم کے ساتھ ہونے والی جنگوں میں شامل رہا تھا لیکن آج تک کسی فاتح فوج میں کسی مفتوح کو اس آزادی اور وقار کے ساتھ گھومتے نہیں دیکھا تھا، لشکر اسلام میں قاصد کا خیرمقدم کیا گیا، اور اسے ایک مہمان کی طرح ٹھہرایا گیا، دو دن یہاں گزارنے کے دوران قاصد کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ کسی سے صلح کی بات کرسکے لیکن جب تیسرے دن اسے یقین ہوگیا کہ مسلمانوں کا رویہ ایرانی مسلمانوں کے ساتھ بھائیوں جیسا ہے تو اسے ہمت ہوئی اور اس نے جاکر ایک مسلمان کو اپنے لشکر کی موجودہ حالت ہوبہو بتا ڈالی۔

اپنے دشمن کی حالت کا سننا تھا کہ سالار کے چہرے پر غم کے آثار نمودار ہوئے، اور اگلے ہی لمحے وہ خیمے سے باہر اپنے سپاہیوں کو رسد کا قافلہ بنانے کی ہدایت کر رہا تھا جس میں اشیاء خوردونوش، ادویات اور سردی سے بچنے کیلئے کمبل اور چادریں وغیرہ شامل تھیں، دوسری جانب اس کے ساتھ موجود فارسی قاصد کو یہ سب دیکھ سن کر اپنی سماعت پر شک ہونے لگا تھا، وہ مسلمان سالار کے نزدیک گیا تو بے اختیار اس کے منہ سے نکلا، “میں نے سن رکھا تھا کہ تم قیدیوں اور رعایا کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہو، لیکن میرے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ عسکری میدان میں دشمن کی بھوک بھی تمہیں پریشان کر سکتی ہے۔”
مسلمان سالار ایک جھٹکے سے اس کی جانب مڑا اور فقط اتنا ہی کہا، “میں مسلمان ہوںَ” اور اس کے اس جملے نے فارسی قاصد کو اسلام کو مکمل مطلب سمجھا دیا۔
کچھ ہی وقت بعد فارس کے سپاہی اپنے دشمنوں کی مہمان نوازی کا لطف اٹھا رہے تھے، یہ سب دیکھ کر فارس کا سپہ سالار آگے بڑھا اور جھک کر اپنی تلوار لشکر اسلام کے ایک معمولی سالار کے قدموں میں رکھ دی۔
اور یوں مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی عظیم فارس کو مکمل طور پر تسخیر کرنے کی خواہش اختتام پذیر ہوئی۔
۔
یہ واقعہ ان ناعاقبت اندیشوں کیلئے سوالیہ نشان ہے کہ جو رجب طیب اردگان کی اسرائیلیوں کی مدد کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، میں جانتا ہوں کہ بظاہر یہ کوششیں بےمقصد نظر آتی ہیں لیکن انشاء اللہ اس کے بعد کبھی بھی اسرائیل کو فریڈم فلوٹیلا کو روکنے کی ہمت نہ ہوگی، کبھی بھی اسرائیل ترکی کے فلسطینیوں کے متعلق ہوئے کسی بھی مطالبے کو سراسر نظر انداز نہیں کرپائے گا.