جب زاتیات کی بنیاد پر تنقید ہوتی ہے تو دکھ ہوتا ہے،سرفراز احمد


قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ پی ایس ایل سے کھلاڑیوں کو ایکسپوژر ملا ہے،پی ایس ایل کا نئے خون کا متعارف کرنے میں اہم کردار ہے، فخر زمان اور شاداب اس سے قبل بھی ڈومیسٹک کھیلتے رہے تھے لیکن پی ایس ایل سے انکو پہچان ملی ۔پی ایس ایل جیسے ایونٹس سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کو ہوم کرکٹ نہ ہونے سے بہت نقصان ہوا ہے ، پاکستان میں بھی اب کرکٹ بحال ہونی چاہیے ، انگلینڈ میں سیکیورٹی ایشوز کے باوجود ٹیمیں کھیلی ہیں ،فخر زمان نے پورے ٹورنامنٹ میں بہتر ین کھیلا ۔

ان خیالات کا اظہار سرفرازاحمد کراچی پریس کلب کے زیر اہتمام پریس کلب میں میٹ دا پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر صدر کراچی پریس کلب سراج احمد،جنرل سیکریٹری مقصود یوسفی،سینئر اسپورٹس جرنلٹس عبدالماجد بھٹی نے بھی خطاب کیا۔

سرفراز احمد نے مزید کہا کہ کہاکہ بھارت سے پہلا میچ ہارنے کے بعد ہم بہت ذیادہ افسردہ تھے،لیکن زاتیات کی بنیاد پر کی جانے والی تنقید نے مجھ سمیت پوری ٹیم کو دکھی کردیا،ہم پاکستان کے لئے کھیلتے ہیں جان لڑاتے ہیں لیکن جب زاتیات کی بنیاد پر تنقید ہوتی ہے تو دکھ ہوتا ہے،تنقید کرنا سب کا حق ہے تنقید ہونی چاہیے میڈیا کھل کر تنقید کرے تجزیہ نگار تنقید کریں لیکن تنقید سے قبل معاملات کی تصدیق کرلیا کریں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم بات کرتے بھی نہیں اور اس پر بڑی بڑی اسٹوریاں بنالی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چھوٹے ہیں اکثر غلطیاں ہوجاتی ہیں لیکن بڑوں کو ہمیں چھوٹا سمجھ کر معاف کردینا چاہیے یا ہمیں میسج ہی پہنچاکر غلطیوں کی نشاندہی کردینی چاہیے لیکن جب ایسا ہونے کے بجائے معاملات براہ راست میڈیا پر زیر بحث لائے جاتے ہیں تو اس سے ٹیم پر اثر پڑتا ہے اور کھلاڑیوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ایسے ہی میچ کھیلتے ہیں اور گیم کو سیریس نہیں لیتے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم جب بھی میچ ہارتے ہیں رات کو نیند نہیں آتی،ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ جان لڑا کرمیچ جیتیں ۔سرفراز احمد نے مزید نے کہا کہ ٹیسٹ کی کپتانی چیلنج ہے اور کوشش کروں گا کہ بورڈ سلیکٹرز اور قوم کی امیدوں پر پورا اتروں ۔سرفراز احمد نے کہاکہ چیمپئنزٹرافی کی جیت سے پاکستان کی کرکٹ میں ایک نئی جان آگئی ہے ،جیت کسی ایک کی نہیں ، پورے پاکستان کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ میں سینئر کھلاڑیوں سے مشورے نہیں لیتا بلکہ میں جب بھی ضرورت ہوتی ہے سینئر کھلاڑیوں سے مشورہ لیتا رہتا ہوں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹیم کو سینئر کھلاڑیوں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے یونس خان اور مصباح الحق کی کمی محسوس ضرور ہوگی ،اس وقت ٹیم سینئر اور جونیئر کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو ایک زبردست کمبی نیشن ہے ،۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد،عوام اور والدین کی دعاؤں سے کامیابی ملی ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرکٹرز کے پیچھے جو کوچز محنت کرتے ہیں انہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے،ہم بظاہر اسکرین پر کھیلتے نظر آتے ہیں لیکن ہمارے پیچھے ہمارے کوچز کی محنت ہوتی ہے ۔سرفراز احمد نے کہا کہ کاونٹی کرکٹ کھیلنے کا موقع ملنا میرے لیے بڑا اچھا ہے،،کاونٹی کرکٹ کھیلنے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا ، پچھلے ڈیڑھ سال سے چیزیں بہتر ہوئی ہیں، میرا ہدف ٹیم میں مستقل مزاجی لانا ہے ، ہمیں اب آگے بڑھنا ہے اوربھی جیتنا ہے ، چیمپینز ٹرافی جیتنے کے بعد پاکستانی عوام کی امیدیں زیادہ بڑھ گئیں ہیں،پاکستان کی کرکٹ کیلیے خدمات انجام دیتارہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ پریس کلب کی اعزازی ممبر شپ میرے لیے اعزاز ہے،زندگی میں دوسری بار پریس کلب آیا ہوں آج سے12 سال پہلے پریس کلب کے سی سی اے کی جانب سے مظاہرہ کرنے بس میں بیٹھ کر آیا تھا ۔س موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر سراج احمد ،جنرل سیکریٹری مقصود احمد یوسفی ،سینئر اسپورٹس جرنلٹس عبدالماجد بھٹی و کراچی پریس کلب کے گورننگ باڈی کے ارکان نے سرفراز احمد کو تاحیات ممبر شپ کی اعزازی شیلڈ دی اور سندھ کا روایتی اجرک کا تحفہ بھی پیش کیا۔

جبکہ کراچی پریس کلب کے صدر سراج احمد نے اپنے خطاب میں سرفراز احمد کو قوم کا ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرفراز جیسے کرکٹر قوم کا سرمایہ ہیں اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی اسی طرح اعلیٰ کاکردگی کا مظاہرہ کرکے ملک اور قوم کا نام روشن کرتے رہیں گے،جبکہ سینئر اسپورٹس جرنلٹس عبدالماجد بھٹی نے کہا کہ سرفراز احمد نے ملک و قوم کا نام روشن کردیا ہے اور ٹیم کو متحد کرنے میں ان کا بڑا کردار ہے۔


ویب ڈیسک

ویب ڈیسک لکھاری ڈاٹ کام

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *