رشتے —-راحیلہ ساجد

ad



ad

بلاگ میرے مطابق

رشتے —-راحیلہ ساجد


13062421_1577075745955081_9023399615138537982_n
رشتے ایک ايسا لفظ ہے جس سے بہت سے لوگ کھٹ سے ہمارے ياد کی کھڑکی پر دستک ديتے ہيں ۔ رشتے اچھے بھی ہوتے ہيں اور برے بھی ۔ کچھ ايسے ہوتے ہيں جن کے بغير ہم رہ ہی نہيں سکتے اور کچھ ايسے ہوتے ہيں جن کا نام بھی بھی سننا ہم گوارہ نہيں کرتے۔ رشتوں کے معاملے ميں ہر شخص کا تجربہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ۔ رشتوں کی بہت سی اقسام ہيں ۔
وہ رشتے جو اللہ تعالی کی طرف سے وديعت کيے گۓ ہيں جن کو ہم بدل نہيں سکتے اور نہ ہی جن کا کوئی بدل ہے ۔ وہ ہيں والدين ، بھائی ، بہن اور والدين سے جڑے سب رشتے ، يعنی ، دادا ، دادی ، نانا ، نانی ، چچا، ماموں ، پھوپھو اور خالہ ۔ يہ وہ انمول رشتے ہيں جن کی وجہ سے انسان اپنے اپ کو بہت معتبر محسوس کرتا ہے ۔ ان مين کسی ايک کی بھی کمی ہميشہ ايک خلا کا احساس دلاتی ہے ۔ ہر ايک کا پيار کرنے کا اپنا انداز ، لاڈ اٹھانے کا اپنا طريقہ ۔۔۔۔کسی کو کسی سے مماثلت نہيں۔
آگے بڑھيں تو وہ رشتے جو والدين ، بھائی ، بہن کے بعد دل کے سب سے قريب ہوتے ہيں اور جن کے بغير زندگی کی رونقيں ماند لگتی ہيں ، وہ ہيں ، دوست ، سہيلياں ۔۔۔۔ پہلے تو کزنز ہی آپس ميں دوست ، سہيلیاں بن جاتے ہيں اور پھر گلی محلے ميں جس نے آپ کے ساتھ کھيل ليا وہ دوست بن گيا ، ذرا بڑے ہوۓ تو سکول ميں آپ کے مزاج کے مطابق جو لگا ،اسے دوست يا سہيلی بنا ليا۔ کالج ، يونيورسٹی ميں ترجيحات بدل جاتی ہيں مگر دوستی ايسا رشتہ ہے کہ نبھ جاۓ تو بچپن سے جوانی اور بعض اوقات بڑھاپے تک ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔ کھيلنا، جھگڑنا، مدد (ہر اچھے ، برے کام ميں ) ، بچاؤ (والدين اور اساتذہ کی ڈانٹ سے) تائيد ، اختلاف ، منانا ، روٹھ جانا سب اس خوبصورت رشتے کا خاصہ ہيں ۔
پھر ہم چلتے چلتے ايک ايسے موڑ پر پہنچتے ہيں جہاں ايک ايسا رشتہ ہماری ضرورت بن جاتا ہے جو ہمارے سکھ ، دکھ کا ساتھی ہو ، جو ہر موقعے پر ساتھ دے سکے ، جس سے آپ دل کی ہر بات کہہ سکيں۔ کچھ لوگ اسے گرل فرينڈ اور بواۓ فرينڈ کے روپ ميں اپناتے ہیں اور کچھ اسے زندگی کا ساتھی بنا ليتے ہيں ۔ يہ جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنا ہی کمزور بھی ۔ تين الفاظ دو انسانوں کو اتنے مضبوط بندھن ميں جوڑ ديتے ہيں کہ ساری زندگی وہ ايک دوسرے کے ساتھ ہنسی خوشی گذار ليتے ہيں اور کمزور اتنا کہ تين الفاط ان دونوں کو ہميشہ کے ليے اجنبی کر ديتے ہيں۔ پيار ، محبت ، قربانی ، سمجھوتہ اس کو قائم رکھتے ہيں اور لڑائی جھگڑا، خودغرضی اور انا اس کو خراب کرتے ہيں ۔ اور اس رشتے سے وجود ميں آتے ہيں وہ ننھے منے پيارے پیارے سے کھلونے جو اسکو نئی روشنیوں سے آشنا کرتے ہیں ،
رشتوں کی اتنی اقسام ہين کہ اگر ہرقسم پر لکھا جاۓ تو پوری کتاب بن جاۓ۔ مگر سب کا احاطہ کرنا شايد پھر بھی مشکل ہو۔ اللہ تعالی اور اس کے بندے کا رشتہ، استاد اور شاگرد کا رشتہ ، مالک اور ملازم کا رشتہ ، محبت کا رشتہ اور ہاں نفرت کا رشتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغيرہ وغيرہ
ايک بہت اہم رشتہ جو دو انسانوں کے مابين ہو سکتتا ہے وہ ہے ادب ، احترام ، خلوص اور اپنائيت کا رشتہ ، اور اگر يہ کسی مرد اور عورت کے درميان ہو تو اس کو بہت سے تنگ نظر لوگ غلط نگاہ سے ديکھتے ہيں اور غلط نام بھی دیتے ہيں۔ باوجود اس کے کہ ان کی نيتيں صاف ہوں مگر ہم لوگ انگلياں اٹھانے ميں ماہر ہیں اور ہمیں اس سے غرض نہيں ہوتی کہ کسی کے دل پر کيا گذرتی ہے ۔
بات سنجيدہ ہو گئی ، اور اس سے پہلے کہ رنجيدہ ہو جاۓ ، ميں چلتی ہوں ۔ بس جاتے جاتے يہ کہوں گی کہ رشتوں کا کھيل تماشہ نہیں بنانا چاہيے اور ہر رشتے کو اس کے درجہ کے مطابق اہميت اور محبت دی جاۓ تو انسان ساری زندگی رشتوں ميں خودکفيل رہتا ہے ۔

تحرير ۔ راحيلہ ساجد