سنتِ نبوی کی اتباع اور فضیلت—- مولانااحتشام الحسن

  • 3
    Shares

اللہ رب العزت نے مجسمہ انسانی کو اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا،اس کو اشرف
المخلوقات کا لقب دیا ،اس کی فطرت میں حق و باطل، ہدایت و ضلالت اور خیرو شر
کے دو متضاد مادے رکھ دئیے اور اس کو دارالامتحان میں پہنچادیا۔انسان اگر راہِ
حق کا مسافر بن جائے تو فرشتے اس کی قدم بوسی کو اتریں اور اگر فطرت سے بغاوت
پر آمادہ ہوجائے توجانور بھی اس سے پناہ مانگیں۔انسان کو رضائے الٰہی کی منزل
تک پہنچنے کے لیے کسی نمونہ ،آئیڈیل اور میر کاروں کی ضرورت پڑھتی ہے، جس کے
نقشِ قدم پر چل کر اور نشانہ منزل کو اپنا کر دائمی کا میابی کو پاسکے۔
اللہ رب العزت نے امتِ محمدیہ پر ایک عظیم احسان کیا ،خاتم النبیین، رحمۃ
للعالمین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شکل میں ایک نجات دھندہ عطا کیا ،ایک بے مثال،
بے نظیر، آئیڈیل ونمونہ ودیعت کیا، ہدایت و خیر کے اس روشن چراغ کو جبلِ فاران
کے افق سے نمودار کیا ، جو بلند ہوا اور ہوتا جارہا ہے ، جو چمکا اورچمکتا جا
رہا ہے ، جو بڑھا اور بڑھتا جا رہا ہے ، جو پھیلا اور پھیلتا چلاجا رہا ہے ،
جس کی کتابِ حیات کا ہر ورق و صفحہ، ہر موضوع و عنوان ، ہر سطرو جملہ اور ہر
حرف ولفظ ، ہر زمانہ ،ہر شعبہ میں ہدایت کا روشن چراغ ہے ، جس نے زمانہ و مکان
کی لامحدود وسعتوں کو مہر درخشاں کی مثل ضوفشاں کر دیا، انسانی معاشرے کے دشت
بے اماں میں گل ہائے ، رنگارنگ اور میوہ ہائے شیریں سے لدے شجر سایہ دار کھڑے
کر دےئے اور افق تا افق محیط تا ریکیوں کے سینے پر روشنی کی کرنیں پھیلادیں۔
عرب کے صحراء نشینوں نے آپ کی پیروی اور اتباع کرکے روم و فارس اور عرب و عجم
پر حکمرانی کی ہے۔ ؂
ہوں گے جو محمدﷺ کی سنت کے نگہبان
ان لوگوں کو ہم ملک کا سردار کردیں گے
جس رہ سے گزریں گے سنتِ محمدﷺ کے فدائی
اس راہ کے ہرذرے کو بیدار کریں گے
اتباعِ سنت فطری تقاضا:
شریعت کے قوانین وضوابط اپنی جگہ، مگر فطرت کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں،محبت کے
بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ۔ انسانی فطرت ہے کہ جو جتنا بڑا محسن ہوتا ہے طبیعت اس
جانب مائل ہوتی اور اس کے رنگ میں رنگنے کا جی چاہتا ہے۔محب ہمہ تن اسی جستجو
میں رہتا ہے کہ محبوب کی محبت میں اضافہ ہی ہوتا چلاجائے ۔امت محمد یہ میں
کوئی فرداس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتاجب تک حضورﷺ کی محبت سب محبتوں پر غالب
نہ ہو،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’النبی أولی بالمؤمنین من
أنفسھم‘‘(احزاب:۶)مسلمانوں نے آپﷺ کی محبت میں ایسے ایسے کارنامہ سر انجام
دیئے ہیں کہ دنیا ان جیسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ مسلمانوں نے اپنا تن ،من
،دہن آپﷺ کی ناموس عصمت پرنچھاورکردیں۔
محب تو محب رہا، محبوب کے کیا کہنے ۔۔۔۔۔۔!!ہر وقت وہر گھڑی اپنی امت ہی کی
فکر میں ہیں ۔۔۔۔۔۔عرش ہویا فرش ،دن ہویا رات ،گرمی ہویا سردی ،صحت ہویا
مرض،خوشی ہویاغمی، مرض الموت ہویا قیامت،حشر ہویا نشر ،ہر وقت ایک ہی صدا، ایک
ہی ندا،ایک ہی پکار اور ایک ہی التجاہے ،یارب امتی امتی ۔۔۔۔۔۔!!آپﷺ سے ہم
اتنی محبت کرتے ہوں اور حضورﷺ کے ہم پراتنے احسانات ہوں ،اس کے باوجود بھی ہم
سنتوں کو سنت کہ کر چھوڑدیں تو کہاں کا انصاف ہے؟یقیناًہم کچھ بھول رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔!!
اتباعِ سنت قرآن مجید کی نظر میں :
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف مواقع پر مختلف انداز میں سنتِ نبوی کی
اتباع کا حکم دیا ہے،کبھی وعدہ کرکے تو کبھی وعید سناکر ،کبھی ڈانٹ کر، کبھی
خوش خبری سناکر تو کبھی ڈراکر ، کبھی انعام دے کر تو کبھی عذاب سناکر ۔ سب
کالب لباب اور خلاصہ یہی ہے کہ تمہیں پسند ہویا ناپسند،تم پرخوش گوار گزرے
یانا گوار ، تمہیں ہر حا ل میں محبوبﷺ کی اتباع کرنی ہے ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ
نے آپﷺ کی ذات کو بہترین آئیڈئل قرار دیا :لقد کان لکم فی رسول اللہ أسواۃ
حسنۃ۔(احزاب:۳۱)کہیں پر مطلق اطاعت کا تاج آپ ﷺ کے سر پر رکھ دیا۔وماأرسلنا من
رسول الا لیطاع باذنِ اللہ۔(نساء:۶۴)کہیں پر رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار
دیا:من یطع الرسول فقد اطاع اللہ۔(نساء:۸)ترجمہ:جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے
اللہ کی اطاعت کی۔کہیں پر اپنی محبت کے حضور ﷺ کی اتباع کے ساتھ مشروط کر
دیا:قل ان کنتم تحبون اللہ فا تبعو نی یحببکم اللہ۔(آل عمران:۳۱)کہیں پر رسولﷺ
کے امرونہی کا پابند بنا دیا: ماآتکم الرسول فخذوہ ومانھا کم عنہ
فانتھوا۔(حشر:۷)ترجمہ:رسول تمہیں جو دے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رکھ
جاؤ۔

اللہ رب العزت نے جس طرح اپنے کلام میں اتباعِ سنت کی تاکید و تلقین کی ہے،
اسی طرح تکوینی طور پر حضور پاکﷺ کی ایک ایک سنت کو زندہ رکھا۔ آج دنیا بھر
میں فقہاء کے چار مسالک رائج ہیں۔ بظاہر تو وہ فقہی اختلافات نظر آتے ہیں ،
مگر در حقیقت ہر ہر سنت کی اتباع کا غیر محسوس طریقہ ہے۔

اتباعِ سنت نبی پاکﷺ کے ارشادات کی روشنی میں:
آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی ﷺ خاتم النبیین و خاتم المرسلین ہیں۔ آپ جانتے
تھے کہ ایک نبی و رسول کا مقام و مرتبہ کیا ہوتا ہے، اس کے حکم و امر کی کیا
حیثیت ہوتی ہے اور اگر کوئی حکم عدولی کرے تو اس کا انجام قوم عاد، لوط اور
قوم نوح کی طرح ہوتا ہے اور اس کا حشر فرعون ،ہامان اور نمرذ کی طرح ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے آپ ﷺ نے بروقت اپنی امت کو اطاعت و اتباع کی ترغیب و تربیت کی، آپﷺ
نے فرمایا:ترجمہ :تم پر میری اور میرے خلفائے راشدین کی سنت پر عمل لازمی ہے
اس کو تھام لو اور اس پر مضبوطی اختیار کرو۔(رواہ احمد:۲۸ /۳۷۳)ترجمہ: جس نے
سنت کو تھاما، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔(کنزالعمال:۱/۱۰۵)ترجمہ :جس کا اطمینان
جاکر میری سنت پر ہوا، وہ کامیاب ہو گیاا ور جس کا اطمینان اس کے علاوہ پر
ہوا، وہ ہلاک ہوگیا۔(رواہ أحمد:۱۱/۳۷۵)ترجمہ: جس نے میری سنت سے بے رغبت کی وہ
مجھ سے نہیں ہے۔(رواہ البخاری ، کتاب النکاح، باب الترغیب فی
النکاح:۵۰۶۳،والمسلم،کتاب النکاح:۱۴۰۱،وأحمد:۱۱/۹) ترجمہ: جس نے میری سنت سے
محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ، جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں
ہوگا۔(تہذیب تاریخ دمشق الکبیر:۳/۱۴۵)ترجمہ: جس نے میر امت کے فساد کے وقت
میری سنت کو تھاما ، اس کو سو(۱۰۰)شہیدوں کا ثواب ملے گا۔(مشکاۃٰ
المصابیح:۱/۶۲، رقم:۱۷۶،ط:المکتب الاسلامی)ترجمہ: بہترین کلام کتاب اللہ ہے،
عمدہ سیرت ، محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے، اور اس میں نئی چیزیں گھڑنا
بدترین کام ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔(المسلم:۲/۵۹۲)
قرآن و سنت کی ان قطعی نصوص کے بعد کیا کوئی حجت باقی رہ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔؟
!!حیرت اور تعجب ہوتا ہے کہ؂ آخر ہم کہاں پھرے جا رہے ہیں ؟!! ہم پیچھے مڑکر
کیوں نہیں دیکھتے۔۔۔۔۔۔؟!!
اتباعِ سنت اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین:
بعثتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل عرب پستی کے دہانے پر کھڑے تھے، ضلالت و
گمراہی کی آخری حدود تک پہنچ چکے تھے اور اچھائی، بھلائی اور نیکی ان میں آخری
سانسیں لے رہی تھی، مگر چند دنوں اور ہفتوں میں ان کا کایا پلٹ گیا، ان کی
زندگیاں بدلی گئیں، انہوں نے قیصر کسریٰ کی قبائیں نوچیں ، بڑے بڑے صاحب جبروت
بادشاہوں کے تاج پاؤں میں روندھے، ملائکہ ان کی مدد کو اترے، جنت کی ان کو
بشارتیں آئیں ، فرشتوں نے ان کو سلام بھیجے، سمندروں اور دریاؤں نے ان کو
راستے دیئے، جس ملک و علاقہ میں پہنچے وہاں کے باشندے ان کے گرویدہ ہوگئے، ظفر
و فتح نے ان کے قدم چومے اور آسمان سے ان پر سکینہ نازل ہوئی۔
یہ مدد و نصرت کیوں اتری؟ اس لیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے
اپنے آپ کو مکمل طورپر سنت کے سانچہ میں ڈھال دیا تھا۔۔۔۔۔۔لباس وپوشاک ،کلام
و گفتگو، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، عبادات و معاملات،اخلاق و
اقدار، تہذیب و تمدن غرض یہ کہ ہر چیز میں دیکھتے کہ ہمارے رسول ﷺ کا اس میں
کیا طریقہ کار تھا؟ وہ سنت پر مر مٹتے تھے، سنت کے مقابلہ میں کوئی رائے قبول
نہ کرتے اور خلافِ سنت کاموں پر آگ بگولہ ہوجاتے، کبھی یہ نہ سوچتے تھے کہ اس
میں کوئی علت ہے یا نہیں ، کوئی فائدہ ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔!! امیر المومنین ،
خلیفہ اول، حضرت ابو بکر صدیقؓ فرماتے ہیں: “میں ہر گز ایسا کام نہیں چھوڑ
سکتا، جس کو نبی ﷺ نے کیا ہو، میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں کوئی سنت چھوڑ دوں گا
تو بھٹک جاؤں گا”(مسند احمد:۱/۲۰۵)حضرت عمرؓ نے حجر اسود کو مخاطب کر کے کہا
تھا کہ :”میں جانتا ہوں تو پتھر ہے ، نفع دے سکتا ہے نہ نقصان، اگر نبی
کریمﷺتمہیں بوسا نہ دیتے تو میں بھی تمہیں بوسانہ دیتا”(البخاری:۱۶۱۰)ایک اور
جگہ ارشاد فرمایا:”آخری زمانہ میں کچھ لوگ آئیں گے جو شبہاتِ قرآن کریم میں تم
سے جھگڑیں گے تم ان کے مقابلہ میں سنتوں کو تھامو، اصحابِ سنت کتابُ اللہ کو
زیادہ جاننے والے ہیں۔”(سنن الدارمی:۸۰)حضرت علیؓ ایک دفعہ کھڑے ہو کر پانی پی
رہے تھے، میسرہ بن یعقوب نے پوچھا: آپ کھڑے ہو کر پانی پی رہے ہیں؟ آپؓ نے
فرمایا:”اگر میں کھڑے ہو کر پانی پیتا ہوں تو میں نے آپﷺ کی اسی طرح دیکھا ،
اور اگر میں بیٹھ کر پانی پیتا ہوں، تو میں نے تب بھی آپ ﷺ کو اسی طرح
دیکھا”۔(مسند احمد:۲؍۲۴۲)حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں:”ہم کچھ نہیں جانتے
تھے، اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف آپ ﷺ کو معبوث کیا ، پس ہم وہی کرتے ہیں جس طرح
ان کو کرتے دیکھا ہے۔”(مسند احمد:۹؍۴۹۵)
حضرت ابنِ عمرؓ سب سے زیادہ حضور اکرم ﷺ کی سنتوں پر عمل کرتے تھے، سفر میں
بلاضرورت لیٹ جاتے اور بغیر ضرورت کے قضاء حاجت کے لیے بیٹھ جاتے، پوچھنے پر
یہی جواب دیتے کہ میں نے حضور ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ آپؓ اکثر یہ
آیت تلاوت فرماتے تھے:”لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنۃ”(مسند
احمد:۹؍۱۹۱)حضرت ابن مسعودؓ کے بارے میں آتا ہے کہ آپؓ سب سے زیادہ نبی کریم ﷺ
کی مشابہت اختیار کرتے تھے، حتی کہ گھر کے معمولات معلوم کرنے کے لیے اپنی
والدہ کو حضور پاک ﷺ کے گھر بھیجتے تھے، ایک دفعہ فرمایا:”اتباعِ کرو ، بدعت
اختیار نہ کرو ، ،پس یہی تمہاری نجات کے لیے کافی ہے۔”(الابانہ:۱؍۳۲۸)حضرت
علیؓ نے فرمایا:”اگر دین عقل کے تابع ہو تا تو ہم موذہ کے باطن پر مسح کرتے،
،مگر ہم نے رسول اللہ ﷺ کو ظاہر پر مسح کرتے دیکھا ہے۔”(مسند احمد:۲؍۲۴۲)
اتباعِ سنت کے موضوع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے اتنے اقوال ہیں
کہ ایک مستقل دیوان بھی ناکافی ہے۔۔۔۔۔۔!! عقل والوں کے لیے اشارہ بھی کافی
ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔!!
اتباعِ سنت اور اسلافِ امت:
صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے بعد تابعین و تبع تابعین سے لے کر ہندو
پاک کے اکابرینِ امت تک ہر فرد اتباعِ سنت کا شدائی تھا، ان کا اوڑھنا ،
بچھونا، دل کا سکوں، آنکھوں کا نور اور سینہ کی ٹھنڈک اتباعِ سنت میں تھی، ان
کے شب و روز کا ایک ایک عمل، زبان کا ایک ایک قول اور زندگی کاایک ایک
معمول۔۔۔۔سنتِ رسول ﷺ کے سانچہ میں ڈھلا ہوا تھا۔ معاملات سے لے کر عبارات تک
اور اخلاق و عادات سے لے کر معاشرت تک ہر ہر شعبے میں ان کی زندگی رسول اللہ ﷺ
کی اتباع کا نمونہ تھی، وہ اٹھتے بیٹھتے۔۔۔۔۔۔کھاتے پیتے۔۔۔۔۔۔سوتے
جاگتے۔۔۔۔۔۔ملتے جلتے۔۔۔۔۔۔آتے جاتے۔۔۔۔۔۔اسی طرح بے شمار طبعی امور میں بھی
نہ صرف سنتوں کا خیال رکھتے تھے ،بلکہ پابندی کے ساتھ عمل پیرا ہوتے تھے۔
امام شافعی ؒ فرماتے ہیں:”جب میں کسی کو حدیث و سنت پر عمل کرتا ہوا دیکھتا
ہوں تو گویا میں کسی صحابی کو دیکھتا ہوں ۔ “(خطبات ازپروفیسر عبد
الشکور:۲؍۳۵)امام مالکؒ کا مشہور قول ہے:”ان السنۃ مثل سفینۃ نوح، من رکبھانجی
ومن تخلف عنھا غرِق”( شمائل کبریٰ:۱؍۴۳) ترجمہ: سنت مثلِ سفینہ نوح ہے، جو
سوار ہوا، نجات پاگیا ، جو پیچھے رہا غرق ہو گیا۔امام زہریؒ فرماتے
ہیں:”الاعتصام بالسنۃ نجاۃ”(سسن الدارمی:۲۸)امام اوزعیؒ کا ارشاد ہے:”ندور مع
السنۃ حیث دارت‘‘(نضرۃ النعیم:۲؍۴۰،بحوالہا أصول الاعتقاد:۱؍۱۶۴)ایک اور جگہ
فرمایا:”پانچ چیزیں ایسی ہیں جس پر صحابہ اور تابعین اچھی طرح عمل پیراتھے ،
ان میں سے ایک اتباعِ سنت ہے۔”(نضرۃ النعیم:۲؍۴۰،بحوالہا أصول
الاعتقاد:۱؍۱۶۴)امام ابو عثمان الحیریؒ فرماتے ہیں:”جس نے قول و فعل میں اپنے
نفس کوسنت کا عادی بنایا ، وہ دانش مندی والی باتیں کرے گا”(الاعتصام:۶۵)
امام ابو زنادؒ فرماتے ہیں:”سنتیں حق کی راہیں ہیں، جو اکثر رائے کے خلاف آتی
ہیں۔ پس مسلمانوں کے لیے اس کی اتباع کے علاوہ کوئی چارئے کار نہیں ہے۔‘‘(نضرۃ
النعیم:۲؍۴۰،بحوالہ:البخاری۔الفتح:۴؍۲۲۵)امام ابو حفض ؒ فرماتے ہیں:” جس نے
افعال و احوال کو ہر وقت سنت پر نہ پرکھا اور نہ ہی اس کے نفس نے اس کا اہتمام
کیا، تو اس کو مردوں کی صف میں شمار نہ کرو۔”(الاعتصام:۶۴)امام ابوبکر ترمذیؒ
کا ارشاد ہے:” صرف اور صرف اہل محبت ہی تمام اوصاف میں بلند ہمت ہوتے ہیں اور
وہ یہ بلند ہمتی سنت کی اتباع اور بدعت سے اجتناب کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں”
(الاعتصام:۶۲)امام ہشام بن عروہؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:”ان السنن قوام
الدین”(الترغیب والترھیب:۱؍۱۲۴) امام سیوطیؒ نے اس موضوع پر ایک شاندار کتاب
لکھی ، اس کا نام ہے: “مفتاج الجنۃ فی الاحتجاج بالسنۃ”. (الترغیب
والترھیب:۱؍۱۲۶)
حضرت بشرحا فیؒ فرماتے ہیں: ایک دفعہ حضور اکرم ﷺ میرے خواب میں آئے اور پوچھا
“اے بشر!کیا تو جانتا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے ہم نشینوں میں کیسے بلند
مرتبہ عطا کیا؟”میں نہ کہا “نہیں! یا رسول اللہ”،فرمایا:میری سنتوں کی اتباع ،
نیک لوگوں کا احترام وغیرہ کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔(الاعتصام:۱۶)حضرت ابو عثمان
الجبریؒ فرماتے ہیں:”اگر حضورپاک ﷺکی صحبت کواختیارکرناچاہتے ہو توسنت کی
اتباع کرو”(الاعتصام:۶۵)اور امام عبد اللہ بن دیلمیؒ فرماتے ہیں :ہمیں یہ بات
پہنچی ہے کہ دین اس وقت نکلنا شروع ہو جاتا جب سنت کو چھوڑ دیا جاتا ہے، پھر
ایک ایک سنت کر کے سارا دین چلا جاتا ہے، جیسے رسی کا ایک ایک بٹ نکالنے سے
رسی ختم ہو جاتی ہے۔”(سسن الدارمی:۲۸)
مجدد الف ثانی علامہ سرہندیؒ فرماتے ہیں :میں ہر وقت اپنے اور دوسرں کے لیے یہ
دعا کرتا ہوں: “اللھم أحیا متبعاً للسنۃ ، وأمتنی متبعاً للسنۃ وأحشرنی علی
اتباع السنۃ”(مقالاتِ عثمانی)حضرت شیخ الہندؒ اکثر وتروں کے بعد دو رکعات نفل
بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے ، کسی نے پوچھا کہ “اس سے تو ثواب آدھا رہ جاتا ہے ؟
“آپؒ نے جواب دیا “بھائی ! اس سے نبی کریمﷺ کی اتباع میں جی زیادہ لگتا
ہے۔”حضرت اشرف علی تھانویؒ ایک دفعہ بازار گئے اور جہاں کہیں سے “کدو ں”ملے
جمع کر کے لے آئے ، کسی نے پوچھا اتنے سارے کدوں کا کیا کریں گے؟ فرمایا “میرے
نبی ﷺ کو ’’کدو‘‘ بہت محبوب تھے ، میں اس سنت پر عمل کرتے ہوئے کدوں کھاؤں
گا”حضرت امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے فرمایا”ایک دفعہ فاقہ کی وجہ سے سنت پر عمل
کرتے ہوئے دو پتھرپیٹ پرباندھے ، مجھے بہت سکون اور نورانیت محسوس ہوئی”شیخ
العرب، العجم حضرت سید حسین احمد مدنیؒ کا اتباعِ سنت بہت مشہور تھا ،آپ آخری
عمر میں بہت علیل ہو گئے تھے ، حکیموں اور خادمین نے بہت اصرار کیا کہ آپ کو
تکلیف اور پریشانی ہوگی آپ ٹیک لگاکر کھاناکھالیں، آپ نے فرمایا “نہیں! یہ
خلافِ سنت ہے”اور ٹیک چھوڑ کر کھانا کھایا۔(اتباع سنت)
یہ سب اقوال اور واقعات آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں، ان جیسے انمول
موتیوں سے کتابیں بھری پڑی ہیں ، کون کون سا واقعہ اور کون کون سا قول نقل
کروں صفحات کم ہو تے جا رہے ہیں اور سطریں سمٹتی جا رہی ہیں، جب کہ اسلافِ امت
کا ہرہر قول اور ہرہر واقعہ آگے بڑھ کر یہی کہہ رہا ہے کہ “مجھے بھی ذکر
کرو۔۔۔۔۔۔میرے بارے میں لکھو۔۔۔۔۔۔میرا بھی تذکرہ ہونا چاہئے۔۔۔۔۔۔!!”بہت کچھ
بیان ہوتا رہا اور بہت کچھ ہوتا رہے گا، بہت ہی لکھا جاتا رہے گا اور لکھا جا
تارہے گا، مگر فائدہ اور نتیجہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب عملی زندگی کو سنوارا
جائے گا۔
اتباعِ سنت کا ثمرہ:
“من یطع اللہ ورسولہ ند خلہ جنت تجری من تحتھا الانھار”ترجمہ:جس نے اللہ اور
رسول کی اطاعت کی وہ ایسی جنت میں داخل ہو جائے گا جس کے نیچے نہریں بہتی
ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کیا ہی عمدہ انعام کا ذکر کیا ہے۔ اتباعِ سنت
کمالِ محبت کی دلیل ہے، اتباع سے جہاں اللہ تعالیٰ کی محبت، رحمت، مغفرت اور
رضاعت ملتی ہے وہاں پر مدد و نصرت اور عزت و فلاح نصیب ہوتی ہے۔ نفسانی
خواہشات دور ہوتی ہیں اور عبادت میں لذت محسوس ہوتی ہے۔ متبعِ سنت زمانہ کا
امام و مقتداء ہوتا ہے۔ اتباعِ سنت کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔نہ منزل
ملتی ہے۔۔۔۔۔۔نہ نجات ملتی ہے۔۔۔۔۔۔نہ ترقیاں ملتی ہیں۔۔۔۔۔۔نہ کمالات حاصل
ہوتے ہیں۔سنتِ رسولﷺ ایسا نور اور ایسی روشنی ہے۔۔۔۔۔۔جس سے ہر قسم کی
تاریکیاں کافور ہو جاتی ہیں۔ جو شخص اس سایہ میں آجائے گا۔۔۔۔۔۔خواہ وہ قصداً
آیا ہو یا غیر ارادی طور پر۔۔۔۔۔۔اپنے اختیارات سے آیا ہو یا غیر ارادی طور
پر۔۔۔۔۔۔تو وہ ہر قسم کی گمراہی اور تاریکیوں سے محفوظ ہوجائے گا۔
ایک صا حبِ بصیرت بزرگ فر ما تے ہیں:اتبا ع سنت سے خوش گو ارتبدیلی محسوس ہوگی
۔۔۔۔۔۔ چین و سکون نصیب ہو گا ۔۔۔۔۔۔ کا مو ں میں آسا نی و بر کت نظر آئے گی
۔۔۔۔۔۔دولت اور وقت میں بر کت ہو گی ۔۔۔۔۔۔وہ لوگ جو آپ سے نفرت کرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔ وہ آپ سے محبت کر نے والے بن جائیں گے ۔۔۔۔۔۔آپ ہر دلعزیز بنتے جا ئیں
گے ، اس لیے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی سنتوں میں ایسی دلکشی اور کشش
ہے کہ دوسروں کو اپنی طرف کھنچتی ہے، یہی کا فر کو بھی اپنی طرف ما ئل کر لیتی
ہے ۔۔۔۔۔۔کافر بھی جب کسی سنت پر عمل کرنے والے کو دیکھے گا تو اس کی طرف مائل
ہو گا۔ ( اتبا ع سنت : ۹۴ ، حوالہ اصلاحی خطبات )
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک دفعہ ایک یہودی اور منا فق کے ما بین فیصلہ کیا
، فیصلہ یہودی کے حق میں تھا ۔منا فق نے کہا حضرت عمر فاروق ؒ سے فیصلہ کر
واتے ہیں دو نوں حضرت عمرؓ کے پاس حاضر ہوئے ،سارا واقعہ سنایا گیا، یہودی نے
کہا کے ایک دفعہ حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم میری حق میں فیصلہ کر چکے ہیں ،
مگر میرے مد مقابل نے کہا کہ آپ سے فیصلہ کر وائیں ، حضرت نے کہا یہیں رکو
،میں فیصلہ کرتا ہوں گھر گئے اور تلوار لاکرمنافق کا سر تن سے جدا کردیا اور
فرمایا کہ جس کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پسند نہیں اُس کا اِس
دنیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں!!مفتی نظام الدین شا مزائی شہید ؒ اس واقعہ کو
ذکر کر کے فرماتے ہیں :’’صحا بہ کے ہاں منکرِ سنت کی سزا قتل ہیں ۔ اب اس
واقعہ کی روشنی میں وہ لوگ اپنے انجام پر غور کریں اپنی زندگی کے مختلف مو اقع
میں سنت رسول کر جاننے کے باوجود شر ک کردیتے ہیں اور عملاً گویا منکر ہوتے
ہیں وہ اگر دنیا وی سزا سے تو بچ جا ئیں گے تو کیا وہ آخری عذاب سے بچ جائیں
گے ؟ ترک سنت سے اللہ تعالیٰ کا غضب قہر اور غصہ نازل ہو تا ہے اور زندگی کے
خوب صورت پہلو مر جاتے ہیں ،حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تارکِ سنت کو اپنی
شفاعت سے محروم فرمایا دیا‘‘۔ (ما ہنا مہ الفا روق، جلد: 1 ، شمار : ۳)
دور حاضر میں اتباعِ سنت کا فقدان اور اثرات:
آج سے ایک صدی قبل ’’لارڈ میکا لے ‘‘ نے کہا تھا کہ ’’ میں ایسا نصاب اور پرو
گرام تشکیل دوں گا ، جس سے یہ مسلمان اگر یہودی اور عیسائی نہ بن سکے تو
مسلمان بھی نہیں رہیں گے ‘‘ آج اس شاطر دماغ کا دعوی سچ ہوتا دکھائی دے رہا ہے
۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلمان آباد ہیں ، فرد ہو یا جماعت ، ایک گھر ہو
یا پورا خاندان ،ایک چھوٹی سی بستی ہو یا بڑے سے بڑاشہر، غیر مسلم ممالک میں
رہنے والی مسلم اقلیت ہو یا مسلم ممالک کی غالب اکثریت ، ہر فرد مسلمان ہونے
کا دعویٰ تو کرتا ہے مگر شکل و صورت اور وضع قطع سے وہ کہیں سے بھی مسلمان
نہیں لگتا ۔ سنت کو سنت کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ ہرطرف، ہر جانب اتباع سنت
کا فقدان ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ جہاں ایک طرف مسلمان مغلوب ہیں،
ان کا خون ندی نالو ں کی طرح بہہ رہاہے، مسلمانوں کی بستیاں روئی کی گا لو ں
کی طرح اُ ڑ رہی ہیں اور لمحہ بھر میں سیکڑوں مسلمان لقمہ اجل بن جاتے ہیں ،
وہاں دوسری طرف اسلام پر نزع کا عالم طاری ہے ، ہر طرف فحاشی و عریانی کا
طوفان برپا ہے ، مادیت کا سیلاب رواں ہے ۔ ہر طرف مغربیت کی گھٹائیں چھائی
ہوئی ہیں، بدکاری اور شراب نوشی عام ہے ، رب کی نا فرمانیاں حد سے تجاوز کر
چکی ہیں، ہر کوئی الحاد،زند قہ،بد دینی اوربے دینی میں مبتلا ہے، اخلاقی
اقدار، روحانی بصیرت اور ایمانی جوہر کھو چکا ہے۔انٹر نیٹ، کمپیوٹر ، ٹیلی
ویژن اور میڈیا کی تباہ کاریاں عام ہیں ، مساجد اور خانقائیں ویران، جب کہ
سینما گھر اور نیٹ کلب آباد ہیں۔
افسوس صرف یہ نہیں کہ کچھ معلوم نہیں، بلکہ جو معلوم ہے، وہ معمول میں نہیں ہے
اور افسوس صد افسوس یہ ہے کہ آج کا دینی طبقہ بھی اس رخ پر چل پڑا ہے اور اسی
بہاؤ میں بہہ رہا ہے۔۔۔۔۔۔!!آج ہم یہ رونا روتے ہیں کہ ہماری پگڑیاں اچھالی جا
رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔ہمارے قباء نوچے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہمارے ذاتی امور پر نقطہ
چینی ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ آج مسا جد سے لے کر مدارس تک
۔۔۔۔ خا نقاہوں سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے دینی اداروں تک ۔۔۔۔۔۔ ہم وارثانِ
انبیا ء ہوکر بھی عملی دنیا میں کئی سنتوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کیا
اس سے حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کا دل نہ دکھتا ہو گا۔۔۔۔؟!! کیا اس سے آپ
صلی اللہ علیہ وسلم خفا نہیں ہوں گے ۔۔۔۔۔۔؟!!کیا اللہ تعالیٰ اس پر نا راض
نہیں ہوتے ہوں گے۔۔۔۔۔۔؟!! تو پھر یہ آہ وبگا کس بات کا ۔۔۔۔۔۔؟!!
آج گلی کو چوں سے لے کر بڑی بڑی شاہراوں تک نا موس ورسالت اور حر متِ رسول
اللہ ﷺ پر احتجاج اور ریلیا ں نکال کر ہم ظاہری محبت کا اظہا رتو کر لیتے ہیں
،مگر صبح سے شام ،دن سے رات تک اور سر سے پاؤں تک ہم حضور اکرمﷺ کی کئی سنتوں
کو ذبح کر دیتے ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہما رے دل آپ ﷺ کے حقیقی مقام
، مرتبہ اورعظمت سے خالی ہیں، اس لیے کہ ہم دلوں میں دنیا اور اس دنیا کی محبت
گھر چکی ہے ، ہمارے آئیڈیل وہ داغ دار لوگ بن چکے ہیں جو ملمع سازی کے ساتھ
کیمرے کی سکر ین میں آجاتے ہیں متبعِ سنت علماء و صلحاء سے ہمارانا طہ ٹوٹ چکا
ہے ، ہمارے بچے نوجوان ہو کر بوڑھے ہو جاتے ہیں مگر سیرتِ طیبہ سے بلکل نابلد
ہوتے ہیں ، ہم بچین ہی سے بچوں کے ہاتھ میں لعوو لعب کے ایسے آلا ت محقی د یتے
ہیں کہ وہ مرتے دم تک ان میں کھو کر سیرت النبی ﷺ سے غافل ہو جا تے ہیں۔
ہم متبع سنت کیسے بن سکتے ہیں ؟
اگر تم چاہتے ہو سارے زمانہ کا اَمن
تو یہ راز پوشیدہ ہے محمد ﷺ کے خزانہ میں
اگر ہم چا ہتے ہیں کہ فرد سے جماعت تک، گھر سے خاندان تک ، بستی سے شہروں تک
اور ملک سے پوری دنیا تک سب امن دآشتی کا گہوارہ بن جائے تو ہمیں اپنی زند گیا
ں بد لنی ہوں گی ، حضور پاک ﷺ کے حقیقی مقام و مرتبہ کو پہچاننا ہوگا ۔ نیک
وصالح علماء اور بزر گانِ دین کی صحبت اختیار کرکے دنیا اور اہل دنیا کی محبت
نکالنی پڑے گی،اغیار کی مشا بہت چھوڑ کر نبوی رنگ میں رنگناہو گا ،اپنا ہر قول
اور ہر فعل آپ ﷺ کی سنتو ں سے مزین کرنا ہوگا۔اس کا سب سے بہترین طر یقہ یہ ہے
کہ ہم خودبھی اور اپنے بچوں کو بھی سیرتِ النبی ﷺ کامطا لعہ کرائیں۔قدرت اللہ
شہاب ’’شہاب نامہ‘‘میں لکھتے ہیں: ’’سیا سی شکستگی ،معاشی بد حالی ، ثقا فتی
ابتری اور رو حانی اقرار کی بدحالی کے اس تاریک دور میں مسلمانوں کے دینی شعور
کو سہارا دینے اور محکم رکھنے کے لیے علمائے کرام اور روحانی پیشو اؤں نے بہت
سے راستے اختیار کئے۔ ان راستوں میں ایک یقینی راستہ سیرتِ طیبّہ کی نشروا
شاعت کا اہتمام تھا کیو نکہ احیائے ایمان میں حبِ رسول اور ذکرِ رسول ﷺ کیمیا
کی طرح اکسیر کا حکم رکھتا ہے۔‘‘( شہاب نامہ ازقدرت اللہ شہاب)
خلا صہ کلام:
امام اہلسنت حضرت مولاناسر فراز خان صفدرؒ نے اتباعِ سنت پر اپنے دلی جزبات کا
اظہار بہت عمدہ الفاظ میں کیا ہے ،جو اس مضمون کا لبِ لباب اور خلا صہ ہے،
فرماتے ہیں: ’’ جنابِ نبی کریم ﷺ کی تعلیم عین فطرِت انسانی کے موافق اور
متوازی ہے۔اورانسانی فطرت کے دبے اورپھٹے ہوئے جملہ تقاضوں کی ترجمانی
ہے،اوراس کے خلاف ورزی فطرتِ انسانی سے بغاوت ہے۔ہادیِ بر حق ،رہبرِکامل،خاتم
النبیین،حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شر یعت اورآئیں جس تو جہ کا مستحق ہے ،اگر ویسی
ہی توجہ اس کی طرف کی جائے توآج بگی مسلمان وہی جوشِ ایمانی اوروہی مبہوت کن
کارنامے دنیا کوپھر دکھا سکتے ہیں۔جو آں حضرات صحابہ کرام نہ دکھا ئے تھے۔
مذھبِ اسلام اور سنتِ سول ہی کے ذریعہ دنیا میں کا مل اتحا د، صحیح عدل اور
مکمل امن قائم ہو سکتا ہے نہ ان جیسا رہبر کامل دنیا میں پیدا ہوا ، اور نہ تا
قیا مت پیدا ہوگا ،اور نہ کو ئی نظام اور آ ئین ہی ایسا موجود ہے ؂
تراب خو شگوارم ہست ویارمہربان سا فی
ندار وہیچ کس یارے چنیی یا رے کہ من دارم
ولادت سے لے کر وفات تک ، خو شی سے لے کر غمی تک ،زندگی کے ہرپہلو اورہرشعبہ
میں اس کی اصلاح کے لیے ہم کو صرف سنتِ رسول اللہ اور شر یعتِ اسلامی کی طرف
متو جہ ہونا پڑ ے گا ، جو ہر طرف سے محفوظ و موجود ہے ۔کسی دو سری شر یعت ،کسی
دوسرے ہادی، کسی اور آئین اور کسی رسم ورو اج کی طرف نہ تو ہمیں نگا ہ اٹھانے
کی ضرورت ہے اور نہ گنجائش۔بھلا جس کے گھر میں شمعِ کا فوری روشن ہو ،اس کو
فقیر کی جھو نپڑی سے اس کا ٹمٹما تا ہوا چراغ چرانے کی کیا ضرورت اور حا جب ہے
؟ ہاں مگر کوئی خوش نصیب اس کی طرف ہا تھ بھی گو بڑھاے کو تا ہ دست اور بد
قسمت کوسنتِ رسول اللہ کے آبِ حیا ت سے کیافائدہ ؟ ؂
یہ بزم لے ہے یہاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اُٹھالے ہاتھ میں مینا اُسی کا ہے
(راہ سنت :۲۴)


  • 3
    Shares

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *