لکھاری لکھاری » بلاگ » پینٹ شرٹ اور تشبہ باالکفار —-اکرام الحق ربانی

ad




ad




اشتہار




بلاگ میرا نقطہ نگاہ میرے مطابق

پینٹ شرٹ اور تشبہ باالکفار —-اکرام الحق ربانی


15218531_1875356279349815_248787720_n
من تشبہ بقوم ——(الحدیث)
اس حدیث کی غلط تشریح کی جارہی ہے –
ہر مسئلہ تشبہ کا نہیں ہوا کرتا –
ہر مادی چیز تشبہ کے زمرے میں نہیں آتی-
ہر جدید ایجاد کے استعمال میں تشبہ نہیں پایا جاتا-
ہر اس مادی چیز میں تشبہ باالکفار ہوگا جو چیز کفار کے مذھبی شعار ہوں اور وہ لوگ مذھبی احترام وعقیدت کے خاطر اس چیز کو زیر استعمال رکھئے-
پینٹ شرٹ میں تشبہ باالکفار نہیں کیونکہ یہ کسی بھی مذھب کا مذھبی شعار نہیں –
البتہ مسلمانوں کاکلچر بھی تو نہیں مسلم معاشرے کو اپنی کلچر وثقافت پے ناز ہونا چاے –
دوسروں کے کلچر کو عام کرنے کے بجاے اپنے کلچر کو پروموٹ کرنا چاے-
اگر اسی طرح ہر چیز کو کو تشبہ سے تعبیر کیا جاے تو زندگی اجیرن بن جاے گے-
جدید دور کے جدید ایجادات بھی تو کفار کے مرہون منّت ہیں -ٹراسپورٹ کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیاں، سردیوں سے پچنے کے لئے کوٹ کا استعمال-
رابطے کے لئے استعمال ہونے والا موبائل وٹیلیفون،
آپریشن تھیٹر میں استعمال ہونے والے مشینیں،
دعوتی دین کے ترسیل کے لئے استعمال ہونے والا ساؤنڈ سسٹم، وغیرہ
اگر پینٹ شرٹ میں تشبہ باالکفار ہے تو مذکورہ اشیاء میں کیوں نہیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی صحابی کے ساتھ عیسائی مزہب کے بت آویزاں دیکھتے تو فوراً اسے توڈ ڈالتے اور یہی حدیث فرمانے لگتے کیونکہ مخصوص بت عیسائیوں کی مذھبی شعار سمجھا جاتا تھا-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت سے پہلے ہودیوں کے کپڑے بھی زیب تن فرمائے ہیں -سیرت کے کتابوں میں وہ واقعہ معروف ہے کہ ایک صحابی نے کباڑ سے رسولؐ کے لئے کرتہ وغیرہ لایا رسولؐ نے اسے پہنا- ظاہر بات ہے کباڑ میں رسولؐ کے ہم عصر کفار کے کپڑے ہوا کرتے تھے –
بس ثابت ہوا کہ تشبہ ہر اس چیز میں ہوگی جسےکفار کے مذھبی شعار کی حیثیت حاصل ہو-