لکھاری لکھاری » بلاگ » فرقہ پرستی اور توحید— شاہد ملک

ad

بلاگ میرے مطابق

فرقہ پرستی اور توحید— شاہد ملک


14915091_390806307976030_1394793486_n
مسلمان اپنی اصل طاقت کھو چُکے اسکی ایک وجہ فرقوں میں بٹ جانا اور اپنی منشاء مُفاد مطلب اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اسلام کو اپنے طریقےسے نافض کرنا ہے
لوگوں نے اقتدار کی طرح اسلام کو بھی گدی فرقوں اچھا اسلام بُرا اسلام اچھا عقیدہ بُرا عقیدہ میں بانٹ کر رکھ دیا ہے
جو کوئی بھی کسی فرقے کا پرچار کرتا ہے یا اُسکو فالو کرتا ہے اُسکے نزدیک صرف وہ ٹھیک اور درست ہے باقی سارے جہنمی مُشرک اور غلط عقیدے کی پیداوار ہیں حالانکہ اصلی یا نقلی سچ یا جھوٹ کا سرٹیفیکٹ اللہ پاک کی ذات نے کسی کو نہیں دیا
قرآن پاک میں اللہ پاک کا یہ ارشاد واضع الفاظ میں موجود ہے کہ
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں تفرقوں میں نا پڑو
لیکن دوسری طرف یہ نہیں کہا گیا کہ کس فرقے کی نسبت کونسا فرقہ زیادہ عقیدہ توحید اور اللہ کی معرفت میں باقی فرقوں پر فضیلت اور رُتبے کا حقدار ہوگا
اس بات کی دلیل حدیث قدسی سے ثابت ہے فرقوں کا بننا ایک واضع حقیقت ہے جنکا ظہور ہونا نبی علیھ السلام کی بات کے سچ ہونے کی ایک ٹھوس دلیل ہے
چلیں مسلمان فرقوں میں بٹ گئے ایک نام ایک رنگ ایک نشانی کی طور پر ایک خاص لیبل اور پہچان کی تحت
اگر ہم نے اپنے عقیدے اپنی سوچ اور اپنے جسم کو ایک پہچان کے تحت کسی رنگ روپ میں ڈھال لیا پھر اپنے سوا دوسروں کو ایسا کرنے کا حق کیوں نہیں دیتے؟؟
جیسے ہم خود کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں باقی فرقوں اور مسالک کے مسلمانو کو تسلیم کیوں نہیں کرتے؟؟

یاد رکھیں نبی علیھ السلام کا ہر حُکم و طریقہ مسلمانو کو مخاطب کرتا ہے فرقوں کو نہیں
عقیدے کی پہچان کو اُجاگر کرنے کیلئے اپنا بھیس یکسر تبدیل کر کے اپنے عقیدے فرقے یا مسلک کا بھیس اپنا لیں تو کیا یہ مسلمانوں کی الگ الگ قسموں کی نشاندہی نا ہوگی؟؟
کیا یہ اللہ اور اُسکے رسول کے حکم سے رو گردانی نا ہوگی ؟؟
جو محمد عربی نے اپنی زندگی میں مسلمانوں کو سبق دیا اُسکے ساتھ بے وفائی نا ہوگی ؟؟
جبکہ اللہ کے حکم کے مطابق تمام مسلمانوں پر ایک ہی رنگ چڑھا ہونا چاہیے اور وہ توحید کا رنگ ایک ہی طریقت ہونی چاہیے اور وہ محمد عربی و ہاشمی کی
ایک اللہ کا حکم اور اُسکے رسول کا طریقہ ہوتا ہے جس پر شرک یا اپنا تخلیق کردا کوئی رنگ نہیں چڑہتا پھر بھی چلیں بدلتے وقت کے ساتھ ہم اس بات کو کسی مصلحت کے تحت درست مان لیتے ییں اور اپنی الگ مساجد الگ الگ عبادت کے طریقے متعارف کروالیتے ہیں اور یہ کھتے ہیں کہ یاد تو اللہ پاک کو ہی کرنا ہے جیسے چاہے کرلیں میں یھاں بھی اس سوچ کے قائل انسانوں کو فرقوں مسالک کو بُرا نہیں کھتا
لیکن یہ کیا فلاح غلط فلاح سہی فلاح مشرک فلاح توحید کا مُنکر یہاں تک کہ اللہ کے گھروں کو بھی بانٹ دینا اور کہنا یہ میری نماز کی جگہ اور یہ تمہاری جبکہ یہاں بھی ہم اللہ کے حکم کو پش پردہ ڈال دیتے ہیں
ارشاد باری تعالیٰ ہے ..مسجدیں اللہ کی یاد کے واسطے ہیں سو مت پکارو اللہ کے ساتھ کسی اور کو..القرآن
اب اس حکم کے بعد اس بات کا فتویٰ دینا کہ فلاح کی مسجد میں ہماری نماز نہیں ہوتی کیا آپ مجھے اس بات کی کوئی دلیل دے سکتا ہیں کہ وہ مسجد جسکو آپ اپنی مسجد کھتے ہیں وہاں آپکی نماز قبول ہو جاتی ہے اور باقی جن مسجدوں میں جانا آپ گناھِ کبیرہ سمجھتے ہیں وہاں کے تمام لوگوں کی نماز نہیں ہوتی ؟؟

آپکی نظر میں آپکا خطیب پاکیزگی تہارت ایمان و تقویٰ کا مجسمہ ہے کیا اسکے برعکس ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ زانی اور جھوٹا ہو

جسکو آپ مشرک اور زرخرید مولوی سمجھتے ہوں عین ممکن ہے وہ قرآن و سُنت کا سچا دائی اور اللہ پاک کو انتہائی محبوب ہو

ہم ایمان کو اپنے نظریے کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں حالانکہ ایمان جن چیزوں کا تقاضہ کرتا ہے ہم چاھ کر بھی آسانی سے اُن پر پورا نہیں اُتر سکتے
دُعا ہے تو یہ کہ اللہ پاک ہمارے ٹوٹے پھوٹے اعمال کو قبول فرمائے اور ہمیں کامل یقین کے ساتھ علم عطا فرمائے بیشک ہم سب ادھورے ہیں صرف اللہ کی زات ہی ہمیں پورا کرسکتی ہے
ہم عبادت نہیں نقل کرتے ہیں اور اللہ پاک کی ذات ہی اُسے اصل بنا سکتی ہے
آپ مجھے بتائیں کیا ایک اللہ ایک کلمہ ایک رسول ایک کتاب تمام انبیاء اور اُنکے تمام رفیقین اُنکے تمام صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اجمعٰین کو جو ماننے والا ہو اُسکو کافر مشرک کہنے کا کیا ہمیں کوئی حق ہے ؟؟
کیا ہم اُسکو غلط یا خود کو ٹھیک کہہ سکتے ہیں اگر ایسا ہے تو خود اپنے فرقے کے سچ اور جنتی ہونے کی مجھے قرآن حدیث سے دلیل اور گارنٹی ڈہونڈ کر دیں
بہترین عقیدہ سنت نبوی کا پیروکار اور ایک اللہ کے تمام حکم اپنی زندگیوں میں لانے والا توحید کا پرچار کرنے والا شرک سے بچنے اور توحید و سُنت کو اپنا مقصد حیات بنا لینے والا وہ انسان ہے جو اللہ کا ہر وہ حکم مانے جسکے لیئے اللہ پاک نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور اتنے ہی صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اجمعین کا ظہور فرمایا
اُسکے بعد وہی کام اللہ پاک نے ہر عام و خاص اپنے نبی کے امتی پر فرض فرما دیا کہ لہجے میں نبوت والی نرمی پیدا کریں بے جاں خود کو سہی ثابت کرنے کیلئے فتوے بازی سے پرہیز کریں اور دل میں ایک اللہ سے ہونے کا یقین اور مخلوق سے کچھ بھی نا ھونے کا یقین اپنے دل و دماغ میں بٹھا لیں یہ کہ میں بُرا ہوں میرے سوا باقی سب مسلمان اچھے اور میرے کلمہ گو بھائی ہیں
اللہ مجھے بھی معاف فرما اور باقیوں کو بھی جھنم کی آگ سے نجات دلا میرا خیال ہے یھی اصل عقیدہ ہے جو انبیاء علیہ السلام والی سوچ میں وسعت اور طریقت رکھتا ہے اپنے ساتھ ساتھ پوری مخلوق کا درد اپنے سینے میں رکھتا ہے اللہ کا حکم اور نبی کا طریقہ اپنے ہر کام اور پہلو میں مقدم فریضہ سمجھ کر ادا کرتا ہے وہی مومن ہے