لکھاری لکھاری » بلاگ » ہمارے دین میں ایپوکریفہ—-سعدیہ کامران

ad




ad




اشتہار




بلاگ میرے مطابق

ہمارے دین میں ایپوکریفہ—-سعدیہ کامران


15135533_1079822035464022_1133889835_n
کچھ نوٹس بنا رہی تھی جسکے لیئے ریفرینسیز درکار تھے۔سیرت عائشہ رضیﷲعنہا علوم الحدیث اور میری اپنی ہینڈ بک پر باری باری نظریں دوڑا رہی تھی کہ میری نظر ایک جملے پر گئی اور واپس پلٹی۔ لکھا تھا کہ عائشہ رضیﷲعنہا
ابوبکر رضیﷲعنہ کی بیٹی تھیں۔کم عمری میں مسلمان ہوئیں۔ اور ﷲتعالیٰ نے انہبں زبردست قوت حافظہ سے نوازا۔
اس اسٹیٹمینٹ پر مجھے رکنا پڑا کہ کم عمری میں مسلمان ہوئیں۔
جب ہجرت کے وقت آپکی عمر نو سال۔ نکاح کے وقت چھ سال تھی تو رسالت کا اعلان ہوئے اس وقت تقریباً
چار سال ہوچکے تھے۔۔اور ابوبکر رضیﷲ عنہ اسابقون الاولون میں سے ہیں ۔ تو مسلم گھرانا تھا۔ اسی میں آنکھ کھولی۔دینی ماحول نبی ﷲ کی آمد و رفت وغیرہ —– تو اسمیں اسلام قبول کرنے یا کم عمری میں مسلمان ہونے کی بات کہاں سے آگئی۔
اور بچہ تو ویسے بھی والدین کے دین پر ہوتا ہے۔سمجھ سے باہر ہے یا تو ہمارے لکھنے والے کم عقل ہیں کہ انکو یہ نکات سمجھ نہی آئے یا ﷲ بہتر جانتا ہے۔
ہمارے آپ کے لئے بڑی خوش قسمتی کی بات ہے۔ کہ ہم نے اسلامی معاشرے اور گھرانے میں آنکھ کھولی تو کیا اتنا کافی ہوجائے گا۔ ہرگز نہی۔ ﷲ رب العزت فرماتے ہیں کہ تم نے کہا ہم ایمان لائے اور تم چھوڑ دیئے جاؤ گے آزمائے نہ جاؤ گے۔ نہی بلکہ تم ضرور آزمائے جاؤ گے۔
آزمائش کیا ہوتی ہے لڑکی ذات کی ماں ہوکے جانا۔ ماشاءﷲ میری بڑی بیٹی عالیہ نو سال کی ہیں اگر میں اسکی شادی مولانا طارق جمیل صاحب سے کر دوں کیونکہ وہ ( آج کل بیمار ہیں اس سے قطع نظر ) شکل وصورت کے اچھے بلکہ خوبصورت بذلہ سنج با اخلاق شریعت کے پیروکار اور اتنےےےے پیسے والے پڑھے لکھے مشہور معروف شخصیت اگر انکے پاس میری یہ ذہین بیٹی بیاہ کر چلی جائے تو کس قدر زبردست اسکی تربیت ہو اور کیا علامہ تیار ہو۔
اچھا چھوڑیں ایک اور آپشن عمران خان کا بھی ہے۔بچارہ اکیلا ہے۔وہ بھی دیندار ہونے کے علاوہ ساری خوبیاں رکھتا ہے۔
معاذﷲ ثمہ معاذﷲ—-ﷲ پاک میری بیٹی اور تمام ہی بیٹیوں کو اپنی امان میں رکھے۔ میں نے کس طرح ان سب باتوں کو لکھا ہے میں جانتی ہوں۔
زرا فطرت پر آتے ہیں۔ فرض کرلیتے ہیں اسی عمر میں میری بیٹی کو کسی سے انفیکچؤیشن ہوجاتی ہے۔ معاذﷲ تو کیا وہ اس سے پندرہ بیس سال بڑا لڑکا ہوگا یا ساتھ کا ہی ۔ اسمیں بھی وہ بیچاری کھیل کود ہی سوچے گی کہ ذندگی میں کسی قسم کی کوئی مووی یا ڈرامہ یا اس طرح کا کارٹون نہی دیکھا۔
اب سوچیں اپنی بیٹیوں پے رکھ کر سوچیں۔ اگر اس عمر میں رخصتی اور ازدواج ہوجاتاہے تو شوہر کتنا بھی مہربان ہو اس بچی کی روح گھائیل ہوجائے گی۔ بچی ذہین بنے گی؟ ۔ ذہن کام کرنا چھوڑ دیگا۔دیوانی ہوجائے گی ۔ کیا عائشہ رضیﷲ عنہ الگ فطرت پر پیدا ہوئی تھیں۔
پھر کہا جاتا ہے کہ نہی نو سال میں تو رخصتی ہوئی تھی ازدواج تو سترہ سال میں ہواتھا۔ تو پھر سودہ رضیﷲعنہ نے اپنے بڑھاپے کی بنا پر معذوری ظاہر کرتے ہوئے اپنی باری عائشہ رضیﷲعنہا کو دان کیوں کردی۔
اس طرح کے سوالات پر مشرکین۔مکہ کی طرح جو حملہ آتا ہے وہ یہ ہے۔ باپ دادا کے دین انکے عقیدے پر اعتراض کرتا ہے۔ کیا ہمارے آباؤ اجداد ہمارے عظیم علماء غلط تھے۔
آگئی آزمائیش۔———– سوال آئے گا اور ضرور آئے گا۔ کفر کا فتویٰ اپنے پاس رکھیں ۔ جواب دیں۔
کافر سوال کرتا ہے تو پھٹ سے یہودی سازش دماغ میں آتی ہے۔
ارے ان سوئی مردار قوم کو ہمارے محققیقین نے ہی تو جوتے لات مار مار کر اٹھایا ہے ۔ ہاتھ پکڑ کر اسپون فیڈنگ کے ذریعے تحقیق کرنا سوال اٹھانا پراسیکؤٹ کرنا سیکھایا ہے۔ اب کونے کھدرے میں منہ چھپانے
اور اپنے مسلک اور ہم خیال لوگوں میں بیٹھ کر لعنت ملامت کا کوئی فائدہ نہی۔ جو جواب دئے ہیں شروع سے نہایت بوگس ہیں۔ اور جو جو پوسٹ پڑھ کے پیچ و تاب کھا رہے ہیں انکے لیئے دل سے دعا ہے کہ ﷲ پاک انھے ضرور بیٹی دینا۔ بیٹیاں بڑی ہیں تو نواسیاں پوتیاں دینا اور احساس کروانا۔ اور انکی ہی عدالت میں شرمندہ کروانا کہ اپنی ماں پر تبرہ کرتے شرم نہی آئی ۔ابو بکر رضیﷲ عنہ پر تبرہ کرتے شرم نہی آئی۔
ارے ہم نبی کے نام لیوا ۔ہم ناموس رسالت کو رونے والی قوم ہیں لیکن نبیﷲ پر تبرہ ہورہا ہے انکو معاذﷲ معاذﷲ——————– ۔ﷲپاک ہم سب کو غیرت ایمانی دے۔
رسول پاک محمد صلیﷲ علیہ وآل وسلم کا فرمان ہے کہ تم ضرور یہود و نصارہ کے نقش و قدم پر چلو گے حتہ کہ وہ گوہ کے بل میں جاگھسیں تو تم بھی ایسا کرو گے۔ ان میں کا کوئی بدبخت اپنی ماں سے زنا کرے گا تو تم بھی لیسا ہی کرو گے۔
لفظ بہ لفظ سچ ہوگیا ہے ۔
وہ اپنے نبی پر تبرہ کرتے ہم نے بھی کرلیا۔ وہ بھی روایتوں کے بل میں گھسے بیٹھے ہیں ہم بھی ساتھ ساتھ ہیں۔ پاک دامن عورتوں پر خصوصاً ماں مریم پاک دامن علیہا سلام پر زنا کی تہمت لگائی۔ ہم نے امی عائشہ
کو لپیٹ دیا کہ اتنی کم عمری میں ازدواج کے باوجود نورمل تھی ۔
اگر شروع سے ہی کسی بچے کو1×3=1 رٹایا پڑھایا جائے تو اپنے امتحان میں بھی وہ یہی لکھ کر آئے گا اور بری طرح فیل ہوجائے۔گا۔
وآخر الدعاوانا ان الحمدﷲ رب العالمین۔