لکھاری لکھاری » افسانہ » ڈاکٹر ایک مسیحامگر؟—راؤاسامہ منور

ad

افسانہ

ڈاکٹر ایک مسیحامگر؟—راؤاسامہ منور


14681744_1660341247629339_2214763450172944525_n
“ڈاکٹر صاحب جلدی سےآئیے ایک ایمرجنسی کیس ہے” ڈاکٹر سرمد کا اسسٹنٹ بدحواسی
کےعالم میں دروازہ کھول کر ان کےآفس میں داخل ہوا
“تو اس میں بدحواس ہونےکی کیا بات ہے؟کیس تو آتے ہی رہتے ہیں” ڈاکٹر سرمد
نےاخبار سےنظر ہٹا کر اسسٹنٹ کو گھورتے ہوۓ کہا ان کی نظروں میں واضح
ناپسندیدگی نظر آرہی تھی
“سوری سر، وہ دراصل مریض کی حالت بہت خطرےمیں ہے”
اسسٹنٹ نےوضاحت پیش کرنا چاہی
“فیس وصول کرلی؟”
ڈاکٹر نےسوال کیا
“وہ سر دراصل وہ ۔ ۔ ۔ ایک ایکسیڈنٹ کیس ہے، نوجوان سڑک پہ لاوارث پڑا تھا تو
کچھ لوگ اسےیہاں پہنچا گئے. لواحقین آئیں گےتو فیس وصول کرلوں گا” اسسٹنٹ نے
ہکلاتےہوۓجواب دیا
“دفع ہوجاؤ یو ایڈیٹ ڈیم فول، تمہیں پتا نہیں میں فیس لیے بغیر آپریشن نہیں
کرتا”
بری طرح سےچلاتےہوۓڈاکٹر سرمد کہیں سےبھی پڑھے لکھے انسان نہیں لگ رہےتھے
“پتا نہیں کیا سمجھ رکھا ہے، ڈاکٹر سرمد اب مفتوں کا علاج کرےگا ہنہہہ”ڈاکٹر
صاحب سر جھٹکتے ہوۓ گویا ہوۓ
اسسٹنٹ جاچکا تھا.
ڈاکٹر صاحب کاموڈ بھی بگڑ چکا تھا، میز سےگاڑی کی چابی اٹھا کر وہ باہر چلدیے.
پندرہ منٹ کی ڈرائیو کےبعد گھر پہنچے تو گھرمیں کوئی نہیں تھا، ان کی مسز کسی
پارٹی میں شرکت کرنےگئی تھیں اور اکلوتا بیٹا عاطف بھی غائب تھا.
ملازم کو چائے کا کہہ کر وہ لان میں آکر بیٹھے ہی تھے کہ فون کی گھنٹی بجی.
“ہیلو، ڈاکٹر سرمد بات کررہےہیں؟”
“جی! آپ کون؟”
“میں انسپکٹر شہزاد بات کررہا ہوں، آپ جنرل ہسپتال تشریف لائیےجلدی”
“کیوں خیریت؟”
“آپ بس آجائیے”
بھاگم بھاگ ڈاکٹر صاحب ہسپتال پہنچے، کوریڈور میں موجود ایک ملازم انہیں اندر
لے گیا، سردخانے میں وہی انسپکٹر موجود تھا جس نےان کو فون کیا تھا.
“ڈاکٹر صاحب مجھے افسوس ہےکہ میرےپاس آپ کیلیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے، انہیں
پہچانتے ہیں؟”
انسپکٹر نےبات کرتے ہوۓ ایک لاش کےاوپر سےکپڑا ہٹایا، لاش پہ سےکپڑے کا ہٹنا
تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو محسوس ہوا جیسے ان کےسر پہ آسمان گرپڑا ہو، وہ لاش ان
کےاکلوتے بیٹے عاطف کی تھی.
“اس لڑکےکو پہلے”الشافی ہسپتال” لےجایا گیا تھا لیکن وہاں ڈاکٹر کی بےتوجہی
اور بروقت طبی امداد نا ملنےکےباعث اس کی وفات ہوگئی، وہاں موجود ڈاکٹر نےفیس
کے بغیر آپریشن کرنے سے انکار کردیا تھا.” انسپکٹر تفصیلات بتاتا جارہا تھا
لیکن ڈاکٹر صاحب اپنےہی خیالوں میں گم تھے، ان کےذہن میں یہ جملہ ہتھوڑے کی
مانند لگ رہا تھا
“اسےالشافی ہسپتال لےجایا گیا تھا لیکن وہاں ڈاکٹر نےفیس کےبغیر آپریشن
کرنےسےانکار کردیا”
ڈاکٹر سرمد کےہسپتال کا نام”الشافی ہسپتال” تھا.