مزدوروں‌کے مسائل


  • مزدوروں کے مسائل حل کرنا نہ حکومتی ترجیحات ​

میں شامل ہے نہ ہی اپوزیشن اس معاملے میں کوئی سیریس قدم اٹھاتی ہے. 

Uploading…اپوزیشن کا شوروشرابا اور ساری غوں غاں حکومت کو زیر کرنے میں رہتی ہے. اور حکومت کا سارا تماشا اپوزیشن کو منانے یا ان کا منہ بند کرنے میں رہتا ہے.

 یہاں اپوزیشن حکومت کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے اور حکومت اپوزیشن کے مفادات کا. 

اس چکی کے دو پاٹوں کے درمیان غریب مظلوم طبقہ بری طرح پس رہا ہیں. 

مزدور کے نام پر سیاست کی جاتی ہے. 

اس لحاظ سے پیپلز پارٹی بھٹو کے مردے کو دوبارہ اکھیڑتی ہے صدر محترم اور وزیر اعظم صاحب کا ایک بیان جاری ہوجاتا ہے اور وزیر اعلی پنجاب فضا میں مکا لہرا کر تماشہ ختم کردیتے ہیں. 

حکومت ذیادہ سے ذیادہ ایک سیمینار منعقد کروا لیتی ہے آگے کچھ نہیں ہوتا. 

ہم شروع سے کہہ رہے ہیں کہ کبھی کبھی تلخ گھونٹ پی لیا کریں. 

حقائق کا سامنا کر لیا کریں. 

ایک یہ مزدور ہے اور دوسری طرف مسجد کا امام تنخواہ دور مولوی ہے. جس کی تنخواہ مزدور سے بھی کم ہے. 

کئ کئ روز فاقہ کشی میں یہ صبر وشکر کی تصویر بنا بیٹھا رہتا ہے. عوام کہتی ہے مولوی صاحب تو بڑے سکون میں ہوتے ہیں. 

آپ آئے روز یہ نہیں دیکھتے کہ عورت بچوں سمیت دریا میں کود گئ. فاقہ کشی کے سبب ایک ماں نے بمع اپنے بچوں کے ٹرین کے آگے جان دیکر جسم کے چیتھڑے فضا اڑا دیئے.

 بچوں کا باپ پنکھے سے لٹک گیا. قرضوں میں اس قدر لت پت تھا کہ بالآخر پسٹل سے تاریک زندگی کا خاتمہ کر دیا. 
ہم فحاشی وعریانی کے اڈوں کو بند کرنے کی بات کرتے ہیں. لیکن وہاں ہر دن؛ ہر صبح وشام؛ اور ہر لمحہ طوائفہ کے لیے نیا ہوتا ہے. وہ اپنی گوہر عصمت اور قیمتی متاع لٹانے پر آخر کیوں مجبور ہوئی؟ 

کبھی کسی کی درد بھری کہانی سن لیجیے. آنسوؤں کے ساتھ خون کے قطرے بھی آنکھوں سے ٹپگیں گے. اور دل کی جگہ پتھر بھی پڑا ہو تو وہ بھی ریزے ریزے ہو جائے گا. 

کہ ایک عورت اپنی عصمت دری کیوں کروا رہی ہے آج معاشرے کے دروازے کیوں اس پر بند ہیں؟ دوچار کی بات نہیں کر رہا اکثریت کے ساتھ یہی ماجرا ہے کبھی دل تھام کر سن لیں . 

اس جرم میں ہم سب برابر کے شریک ہیں.

 جو میری طرح تبصروں کا بازار گرم رکھتے ہیں باتیں تو کر لیتے ہیں لیکن حقائق سامنا نہیں کرنے سے عاجز ہیں. 
اب آئیے اس مولوی کی طرف
جس کو صبح وشام ہم طرح طرح کے طعنے دیتے نہیں تھکتے. 

اپنوں بیگانوں کی بےرخیوں پھبتیوں؛ طعن زنیوں؛ کے باوجود دنیا سے الگ تھلگ پانچ یا آٹھ ہزار روپے میں اپنا فرض نبھا رہا ہے. ایک دن ذرا سی تاخیر کیا ہوئی کہ بوریا بسترا اٹھوا کر چلتا کر دیا جاتا ہے. 

اگر امام صاحب بامر مجبوری نماز نہ پڑھا پائے تو اسکے کشتوں کے پشتے لگانے میں ہم دیر نہیں لگاتے
کبھی سوچا ! کہ یہ مذہبی فرقہ واریت یا شدت پسندی کیوں پیدا ہوتی ہے؟
 یہ نوجوان اپنے ہی وطن پر قہر کی آگ کیوں برساتا ہے؟

یہ گلی گلی جہاد کے نام پر کیوں استعمال ہوتا ہے؟ اسکو تفرقہ ڈالنے کے لئے دومسالک کے درمیان کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟اس کے اندر منفی اثرات کیسے جنم لیتے ہیں؟

 یقیناً کبھی آپ نے اور میں نے نہیں سوچا ہو گا.اور ویسے ہمیں سوچنے کی ضرورت کیا ہے. کیونکہ ہماری عقل سلب ہو چکی اور شعور پر پردے پڑ چکے ہیں. 

ہم تو الزامات کی بوچھاڑ کرنے والے لوگ ہیں. 

حقائق کا سامنا کرنے کتراتے ہیں. 

اگر تھوڑا ساکسی تلخ حقیقت کا نظارہ کروایا جائے تو اس کو راندہ درگاہ کرنے میں ثانی نہیں رکھتے.

 کیونکہ ہم مریخ یا پلوٹو پر ٹھکانہ رکھتے ہیں اور بھول بھلیوں تصورات میں مست الست رہتے ہیں.

جس معاشرے میں ناانصافی پروان چڑھے اور ظلم وجبرکے الاؤ بھڑکتے ہوں وہاں ضرور انصاف کا جنازہ نکلتا ہے. پھر آئے روز کا زوال ہمارا مقدر بن جاتا ہے.


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *