لکھاری لکھاری » بلاگ » شکریہ جنرل راحیل شریف—-فراز ناصر دھاریوال

ad




ad




اشتہار




بلاگ

شکریہ جنرل راحیل شریف—-فراز ناصر دھاریوال


14925502_1283446005051935_422765690786987413_n-2
جنرل قمر جاوید باجوہ نئے چیف آف آرمی اسٹاف مقرر جبکہ جنرل زبیر محمود حیات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ہونگے۔ اس اعلان کے بعد گزشتہ چند ہفتوں سے جاری قِیاس آرائِیاں اور ٹامک ٹوئیاں بھی اپنے اختتام کو پہنچیں۔ کسی کا تکا صحیح ثابت ہو ا تو کسی کی پیش گوئی محض ایک بیان سے زیادہ اہمیت حاصل نہ کر سکی۔
جنرل راحیل شریف نے تین سال قبل جب پاک فوج کی کمانڈ سنبھالی تو ملک میں امن و امان سمیت کئی چیلنجز کا سامنا تھا۔ کراچی ایئرپورٹ پر طالبان دہشت گردوں کے حملے کے بعداتوار 15 جون 2014ء کو افواج پاکستان نے طالبان دہشت گردوں کے خلاف ایک بھرپور آپریشن“ضرب عضب” کا آغاز کیا۔سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے بعد 16 دسمبر2014کوانہوں نے دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا جس کے لیے20 نکات پر مشتمل نیشنل ایکشن پلان مرتب دیاگیا۔ ان کی نگرانی میں پاکستان رینجرز سندھ نے کراچی میں پائی جانے والی کشیدگی کو کافی حد تک کنٹرول کیا اور ٹارگٹ کلرز ، بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ افراد کو بغیر کسی خوف و خطر گرفتار کیا ۔یہ اس آپریشن کا ہی نتیجہ ہے کہ اب کراچی میں بھی امن و امان تیزی سے بحال ہو رہا ہے اور بہت حد تک جرائم پر قابو پالیاگیا ہے۔ سپہ سالار نے بھارت کو خبردار کیا کہ دشمن غلط فہمی میں نہ رہے، پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گااور دفاع وطن کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔ جنرل راحیل شریف کی نگرانی میں جنوبی وزیرستان میں آپریشن ہو یا کراچی میں امن وامان کے قیام کا مسئلہ، سیلاب متاثرین ہوں یا بے گھر افراد فوج ہر طرف غیر معمولی طور پر سر گرم ہے۔جنرل راحیل شریف ملک میں امن و امان بہتر کرنے کی وجہ سے ایک مقبول آرمی چیف کی حیثیت سے ابھرے۔ عوام کی جانب سے جنرل راحیل شریف اور مسلح افواج کو خراج تحسین بھی پیش کیا جارہا ہے۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے گردش کرنے والی تمام خبریں اس وقت دم توڑ گئیں جب آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ جنرل صاحب اکسٹنشن پر یقین نہیں رکھتے مقررہ مدت کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے اور ایسا کرتے دیکھائی بھی دے رہے ہیں۔پاک فوج کے سربراہ کے مقررہ مدت ملازمت پوری کرنے پرریٹائرمنٹ کے اعلان نے مثبت روایت بھی ڈالی ہے۔ یقیناََ چند کم عقل لوگوں کو مایوسی ہوئی ہے جو جنرل راحیل شریف صاحب کو بد دیانتی اور آئین پامال کرنے پر اُکساتے رہے۔
کچھ لوگ یہ گِلہ بھی کرتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف نے کرپشن میں ملوث حکمرانوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں رعائت برتی۔پنجاب میں آپریشن نہ کرنے پر بھی کچھ لوگ خفا ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر کرپشن میں ملوث لوگوں کو پکڑنا بھی آرمی چیف کی ذمہ داری ہےتو پھر پاکستان کے معتبر ادارے سپریم کورٹ آف پاکستان ، نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو وغیرہ کس مرض سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ نامزدآرمی چیف ملک و قوم کی بقا کی خاطراپنے پیشرو جنرل راحیل شریف کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کو مزید بلندیوں سے روشناس کرائیں گے۔ان کے نقش قدم پر چلیں گے تاکہ ملک سے دہشت گردی جیسے ناسور کا خاتمہ کیا جاسکے۔
تاریخ جنرل راحیل شریف کو بطور آرمی چیف ایک بہادر، مردِجری، اولولعزم ، جانباز ،شجاع،جرأت وشجاعت جس کی فطرت، نہ بکنے والا، نہ جھکنے والا ، باہمت سپہ سالار ، سرحدوں کا محافظ، کسی خطرے کی پرواہ نہ کرنے والا اور محبِ وطن پاکستانی کی حیثیت سے یاد رکھےگی۔ تو پھر مجھے کہنے دیجیے شکریہ راحیل شریف! آپ کا شکریہ!