لکھاری لکھاری » بلاگ » ترکی کی اسرائیل کی مددکیونکردرست قرار ؟؟—الیاس محمدبابر

ad

بلاگ

ترکی کی اسرائیل کی مددکیونکردرست قرار ؟؟—الیاس محمدبابر


اسرائیل کے مختلف علاقے شدید آگ کی لپٹ میں ہیں ، خدائے بزرگ و برتر نے شائد
ہواؤں کو بھی نہ رکنے کا حکم دے دیا ہوا ہے جسکی وجہ سے آگ کسی کے قابو میں
آنے کو تیار نہیں – امریکہ و دیگر کئی غیر مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ مصر ، اردن
، آذر بائیجان اور ترکی جیسے اسلامی ممالک کے فائر فائٹر ڈویژن بھی اسرائیل
میں لگی آگ کو بجھانے میں پیش پیش ہیں حتیٰ خود فلسطین کی فائر فائٹر پارٹی
بھی اسرائیلی یہودیوں کے ساتھ لگی آگ بجھا رہی ہے –

ہمارے ہاں چونکہ ترکی کو جماعت اسلامی کے حوالے سے بھی محترم سمجھا جاتا ہے
اس لئے ترکی کے اسرائیل کے لیے اس وقت ادا کیئے گئے اس کردار کو تنقید کا نشانہ
بنایا جا رہا ہے – تنقید کرنے والوں میں ایک تو وہ ملحد ہیں جو اہل کلیسا کو
اپنا مائی باپ ماننے سے نہیں کتراتے اور انکے کھجانے کے عمل کو بھی بطور مثال
پیش کرنے میں دیر نہیں لگاتے – دوسرے وہ اہل مذھب ہیں جنکا جھکاؤ اہل عرب کی
طرف ترکی کی نسبت زیادہ ہے جبکہ تنقید کرنے والوں کی تیسری قسم جو تنقید کرنے
والوں میں اکثریت میں ہیں وہ لوگ ہیں جو پاکستان کی جماعت اسلامی کے غیر
دانشمندانہ سیاسی فیصلوں سے ناخوش ہیں ، اور ترکی کے متعلق جماعت کے کارکنوں
کے زمینی حقائق سے یکسر مختلف دلائل کو سن کر کوفت محسوس کرنے کی وجہ سے تنقید
کر رہے ہیں –

میں چونکہ تیسری قسم کی تنقید کرنے والوں سے تعلق رکھتا ہوں مگر اس سارے
معاملے میں صرف ترکی کو مورود الزام ٹھہرانے سے پہلے دیگر چند اسلامی ممالک کے
اسرائیل کے ساتھ مختصر تعلقات کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھوں گا – سنہ ٢٠٠٩ میں
اسرائیل نے جی سی سی میں متحدہ عرب امارات کی طرف سے International Renewable
Energy Agency کے ہیڈ کواٹر کا اپنے ہاں قیام کی قرار داد میں عرب امارات کے
حق میں ووٹ دے کر کامیاب بنایا تھا، جبکہ دونوں ممالک ایران کے حوالے سے بھی
ایک جیسا موقف رکھتے ہیں –

باوجود اسکے کہ سعودی عرب اور اسرائیل میں باقاعدہ طور پر کسی بھی قسم کے
سفارتی تعلقات نہیں ہیں مگر اسی سال جولائی میں ایک ریٹائرڈ سعودی میجر جنرل
کی قیادت میں سعودی بزنس مینوں کے وفد نے اسرائیلی فارن منسٹر اور دیگر سرکاری
اہلکاروں سے ملاقات کی تھی جس میں خطے کی سکیورٹی کو بلخصوص ایران کی پالیسیوں
کے حوالے سے ڈسکس کیا گیا تھا اور مستقبل میں مشترکہ مفادات کے لیے تعاون جاری
رکھنے کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا تھا –

سنہ ١٩٤٨ میں صرف دو ممالک کے جنگ جو مصر اور اسرائیل کے درمیان لڑی جا رہی
تھی کو عرب اسرائیل جنگ میں بدل کر عربوں کو تاریخی عزیمت اٹھانے کے بعد سے ہی
مصر و اسرائیل کے تعلقات کچھ اچھے نہیں رہے ( جسکی وجہ سے بعد میں بھی جنگیں
ہوتی رہی ہیں ) مگر مصر میں موجودہ جنرل فاتح السیسی کی حکومت کے قیام میں آتے
ہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنی کی کوشش میں رہی ہے – فلسطین کے ساتھ
باڈر کی بندش ، غذائی اشیاء کی نقل و حرکت پر پابندی اور فلسطینیوں سے کسی بھی
قسم کے مالی تعاون کو روکنے کے لیے تاسک فورس کی تشکیل مصر کی جانب سے اسرائیل
کے ساتھ تعلقات بهتر کرنے کے عملی اقدامات تھے – غلبا” تین دن پہلے ہی مصر اور
اسرائیل کے موجودہ تعلقات کو الجزیرہ ٹی وی پر چلائی گئی ایک رپورٹ میں 147
Highest Level in History ” قرار دیا گیا ہے ، اب دونوں ممالک مشترک سکیورٹی
پلان پر کام کر رہے ہیں جن میں سر فہرست انتہا پسند مسلم تنظیم داعش کا خاتمہ
کرنا ہے –

ترکی پہلا اسلامی ملک تھا جس نے مسلمانوں کی اکثریت ہونے کے باوجود سب سے پہلے
اسرائیل کے سرزمین فلسطین پر قیام کو درست قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا تھا ،
ترکی اور اسرائیل کی انٹیلیجنس ایجنسیاں سنہ ١٩٥٨ سے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر
کام کر رہی ہیں ، دونوں ممالک کے درمیان بہترین کاروباری تعلقات بھی موجود ہیں
ترکی کی بہت ساری کمپنیوں نے اسرائیل کے پاور سیکٹر میں انویسٹ منٹ کر رکھی ہے
– رپورٹس کے مطابق سنہ ٢٠١٥ میں ترک اسرائیل ٹریڈ تقریبا” ٥.٤٤ بلین ڈالر
سالانہ کو کراس کر چکا تھا – دونوں ملکوں کے تعلقات اگرچہ فلسطین کے حوالے سے
کشیدہ ہوتے رہے ہیں مگر اس نے انکے کاروباری معاملات پر کوئی اثر نہیں
ڈالاحتیٰ کہ سنہ ٢٠٠٩ ورلڈ اکنامک فورم کانفرنس کے سٹیج پر اسرائیلی وزیر اعظم
کے سامنے طیب اردوان کا کہا گیا یہ مشہور جملہ “I find it very sad that
people applaud what you said. You killed people. And I think that it is
very wrong.” بھی دونوں ممالک کے کاروباری تعلقات پر اثر انداز نہ ہو سکا –

سنہ ٢٠١١ میں غزہ فلوٹیلا کا حادثہ ہونے کی وجہ سے جس میں اسرائیلی بمباری سے
آٹھ ترک فوجی بھی مارے گئے تھے ، ترکی نے اسرائیل سے اپنا سفارتی مشن واپس بلا
لیا تھا اور نیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے فوجی
تعلقات کا بھی بائیکات کر دیا تھا ، سنہ ٢٠١٣ میں اسرائیلی وزیر اعظم نے غزہ
فلوٹیلا حادثے میں مارے جانے والوں معافی مانگ لی اور دسمبر ٢٠١٥ میں ترکی اور
اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت نے غزہ فلوٹیلا حادثے میں مارے
جانے والے فلسطینیوں کی فیملیز کو زر تلافی دینے کا اعلان کیا جس کے بعد سے
دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کامیابی سے چل رہے ہیں –

میں مزید تاریخ کے صفحات میں الجھے بغیر اسرائیل کے شہر حیفہ میں لگی موجودہ
آگ کی طرف واپس آتا ہوں ، میں تو اس دین کا ماننے والا ہوں جس کی تعلیمات میں
کسی ایک بے گناہ انسان کی زندگی بچانے کو پوری انسانیت کی زندگی بچانا کہا
جاتا ہے تو بھلا میں کیوں ترکی کی طرف سے یہودیوں کی مدد کی مخالفت کر رہا ہوں
؟؟؟ کیا مجھے اس پر اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے ؟؟ میرے دوست جو میری تنقید کو
یہودیوں پر تنقید سمجھتے ہیں انہیں پہلے انیسویں صدی سے شروع ہونے والے ذونیسٹ
نظریے اور یہود ازم میں فرق کو سمجھنا چاہیئے – اسرائیل جسکی بنیاد ہی زونیسٹ
نظریے کے تحت رکھی گئی تھی کیا کسی مسلمان کو اسکے باوجود اسکی کسی بھی معاملے
میں مدد کرنی چاہیئے ؟؟ یہ خود بھی ایک سوال ہے –

میرے دوست تنویر اعوان نے سیرت النبی صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے مختلف
واقعات سے ترکی کی طرف سے اسرائیلی یہودیوں کی مدد کو درست قرار دینے کی کوشش
کی ہے میرا ان سے پوچھنا تھا کہ کیا مسلمان ان اسرائیلیوں سے اس وقت حالت جنگ
میں نہیں ہیں ؟؟ کیا اسرائیلی حکومت اسرائیلی عوام کی نمائندگی نہیں کرتی ؟؟
کیا اسرائیلی فوج مسلمانوں پر جو ہتھیار استمعال کرتی ہے وہ اسرائیلی قوم کے
ٹیکس کے پیسوں سے نہیں خریدے جاتے ؟؟ کیا قران حکیم میں یہ تنبیہ نازل نہیں ہو
چکی ” مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي
الْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۗ
وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ” – ” لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ
لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ” ( الانفال ٦٧،٦٨)

حیفہ فائر ڈپارٹمنٹ کے نمائندے کے مطابق آگ دہشت گردی کا واقعہ تھی ( arson )
نہ کہ کسی قسم کا حادثہ ، Channel 2, Uri Chibotaro کو دیئے گئے اپنے بیان میں
اس نے واضح کہا ہے کہ ان کے پاس دہشت گردی کی اس کاروائی کی دستاویزی ثبوت (
video evidence ) موجود ہیں – اسرائیلی فنانس منسٹر نے نیشنل ریڈیو کو دیئے
گئے اپنے انٹرویو میں حیفہ و دیگر شہروں میں لگی آگ کو “intentional act of
arson” قرار دیا ہے – ١٣ افراد جن میں اکثریت فلسطینیوں کی ہے گرفتار ہو چکے
ہیں اور مزید تحقیقات بھی جاری ہیں . کیا میں ان لوگوں کے ان بیانات کے بعد یہ
امید کر سکتا ہوں کہ اسکا نزلہ بھی مسلمانوں پر نہیں گرے گا ؟؟ کیا اسکے بعد
بھی کہ جب اسرائیلی لگی آگ کو فلسطینوں کی طرف دہشت گردی کی کاروائی کہہ رہے
ہیں میں اسکو بجھانے والوں کی سپورٹ کروں ؟؟؟ کیا ملکوں کے ذاتی مفادات کو
زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھے بغیر سیرت النبی صلی الله علیہ وسلم سے پرکھا
جا سکتا ہے ؟؟؟